محمد ذکی شاہ اعظم

سیدھا سلطان پور، آعظم گڑھ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننا ایمان کا ایک لازمی جزہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ھے (اے پیغمبر) آپ کہھ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے،قبیلے اور تمہارے کمائے ھوئے۔

 مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ھواگر یہ تمہیں اللہ سے اور اسکے رسول سے اور اسکی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ھیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے (التوبۃ:24)

اس آیت کریمۃ میں حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت وفضیلت کو بڑے مؤکد انداز میں بیان کیا گیا ھے آیت کریمہ میں لفظ عشیرۃ اسم جمع ھےجو قریب ترین رشتے دار کے لیے استعمال ہوا ہے جن کے ساتھ آدمی زندگی کے شب و روز گزارتا ھے ایسے ہی لفظ مساکن کا استعمال ہوا ہے جو انسانی موسم کے شداءد و حوادث سے بچنے آبرو مندانہ طریقے سے رہنے سہنے اپنے بال بچوں کی حفاظت کے لئے تعمیر کرتا ھے یہ ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں اور انکی اہمیت و افادیت بھی نا گزیر اور قلوب انسانی میں ان سب کی محبت بھی طبعی ھے لیکن اگر انکی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت اور رسول کی محبت سے زیادہ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے مانع ہو جائے تو یہ بات اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسندیدہ اور اسکی ناراضگی کا باعث ہے۔

اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ھیکہ(اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ھے تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک مومن نھیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اسکے والد اور بیٹے سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں(بخاری14 کتاب الایمان)

دیگر شواہد سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دنیا کی ہر چیز کی محبت پر مقدم کیا جائے گا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس محبت کی زیادہ مستحق و سزاوار ھے لیکن محض دل میں محبت کی موجودگی کافی نھیں بلکہ جسم پر اسکے آثار و علامات کا اظھار بھی ضروری ھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اولین ثبوت یہ ہیکہ آپ کی سنت کی اتباع کی جائے آپ کے احکامات پر عمل پیرا ہوا جایے اور اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں آپ کو ہی نمونہ وآءیڈیل سمجھا جائے اگر کوئی متبع سنت نھیں تو ایسے شخص کا محبت کا دعوٰی کرنا جھوٹ ھے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (اے پیغمبر) کہ دیجیے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دیگا(آل عمران:31)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا ھے کہ اس آیت نے فیصلہ کر دیا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوٰی کرے اوع اسکے اعمال، افعال اور عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں اور وہ نبوی طریق پر کاربند نہ ھو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ھے(تفسیر ابن کثیر(2/32)

حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل حق آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ادا کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرتے تہے انھوں نے نبی کی محبت میں اور توحید کو اپنانے کے لئے اپنے وطن عزیز اور اعزہ واقارب کو ترک کردیا انھیں قید وبند کی سزائیں دی گئیں انھیں حب اللہ اور حب رسول سے پہیرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن وہ لوگ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شیشہ پلائی دیوار بن گئے تہے انہوں نے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشرکانہ عمل وزندگی شرک بدعت وخرافات و اوہام کو پس پشت ڈال دیا اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز پر مقدم کیا۔

اسی لیے ہر مسلمان شخص حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دم تب ھی بھر سکتا ہے جب وہ آپ کی سنت کو مضبوطی سے تھام لے آپ کے اقوال و افعال کی اتباع کرےآپ کے حکموں پر عمل پیرا ہو اور منع کردہ کاموں سے بچے سختی، تنگی، چستی اور ناپسندیدگی ہر حالت میں آپ کے آداب کا لحاط رکھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی املین علامت ھے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میںسچا شخص صرف وہی ھے جس پر یہ علامت ظاہر ہو اور وہ ظاہری و باطنی طور پر متبع رسول ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے