ملت کو پستی، رسوائی اور ذلت سے بچانے کیلئے تعلیمی ،اقتصادی اور سماجی سطح پر اپنی پکڑ مضبوط کریں!
سہارنپور( احمد رضا): جنگ آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی مسلمانوں پر ہندو شدت پسند افراد کے قاتلانہ حملہ لگاتار جاری ہیں سرکار کسی کی بھی ہو یہ ظالم اور قاتل مسلم افراد کو شکار بنا کا کوئی بھی مو قع ہاتھ سے نہی جانے دیتے جبکہ شاف شفاف ذہن کے دلدادہ مزہبی ہندو شدت پسند تنظیموں کے اس جارہا نہ عمل کے سخت خلا ف ہیں سبھی جانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان وقت بٹوارہ اپنی صدق دلی اور من مرضی سے ہندوستان میں مقیم رہے اور بٹوارہ کی سخت ترین مخالفت کی اہل ایمان ازل سے ہی امن کے قیام میں پیشِ پیشِ رہے اللہ رب العالمین کے رسول اکرم محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی قو م پر انگلی تک نہی اٹھائی جنگ لڑی مگر دفاع کیا کبھی حملہ آور نہی ہو ئے یہی اسلام کی تعلیمات کا سنہرا باب ہے ملت اسلامیہ بھی ایک دوسرے سے محبت اور شفقت کا سبق اللہ تعالیٰ کے پاک رسول اکرم سے حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے ہم حسن اخلاق کے حامی ہے اسی لئے ہندو مسلم اتحاد ہی آج پورے عالم کے لئے شاندار نظیر ہے یہی آپسی بھائی چارہ اور انسانی ہمدردی دین اسلام کی عظیم الشان تعلیم کا سنہرا سبق ہے۔
مفتی محمد صادق مظاہری نے آج خاص موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی لوک سبھا کے انتخابات گزر چکے ہیں شدت پسند تنظیموں کے مقابلہ آج انڈیا اتحاد مضبوط دفاعی صورت میں آگیا ہے مگر پھر سے رو دھوکر مودی سرکار بھی بن گئی  سب کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہوتا ہے مگر اتنا سب کچھ بدلنے کے بعد بھی مسلم آبادی پر ہجومی تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے سبھی سیاسی جماعتوں نے خاموش تماشائی بنے رہنے کا عہد کر لیا ہے ہجو می تشدد کے واقعات نے دس سال کی مدت میں ہزاروں افراد کو  تباہ اور برباد کردیا ہے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں مسلم گھروں میں صف ماتم بچھی ہے ہمنے جنکو ووٹ دیگر لوک سبھا میں بھیجا وہی مسلم افراد کے قتل پر زبان بند کئے بیٹھے ہیں اب بھارت کے مسلمانوں کے سامنے بہت طرح کے چیلنج ہیں اور یہ چیلنج کچھ عرصے کے لئے نہی بلکہ پانچ سالوں کے لئے نہیں بلکہ آنیوالی صدی کے لئے ہیں عام طورپر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن میں مل بیٹھ کر مشورے کرتے ہوئے الیکشن میں کسی خاص پارٹی یا امیدوار کو جتانا ہی فرض ہے، اگر حکومت آئے تو خوش اور نہ آئے تو ناامید ہونا مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے  درحقیقت بھارت کے مسلمانوں نے الیکشن کو ہی اپنی سماجی ، اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھ رکھے ہیں اور انہوں نے اس کے علاوہ اور مسائل پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا مسلمانوں کو اب اپنے ہندو مسلم، تعصب اور فرقہ وارانہ معاملات کے  روایتی ایشوز سے آگے نکل کر اپنے آپ کو خود کفیل بنانے کے لئے آگے بڑھنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے مسلمانوں کو بہت ہی سوچ سمجھ کر اپنے اور اپنی نئی نسل کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لئے کام کرنا ہوگا مسلمانوں کو الیکشن سے الیکشن تک فکر کرنے کے بجائے اگلےصدی کے لئے قوم  کے نوجوانوں کے لئے مستحکم پلیٹ فارم  تیار کرنا ہوگا اس قدم کی آج قوم کو سخت ضرورت بھی ہے اس کے لئے سب سے اہم قدم تعلیم کے شعبے میں مسلمانوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے اپنے معاشرے یا اپنے علاقے میں غور کریں، مسلمان اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے کتنے فکرمند ہیں؟۔ ویسے آج کل ہر کوئی اپنے بچوں کو اسکول یا کالج بھیج رہے ہیں لیکن ان بچوں کو مضبوط مستقبل دینے کے تعلق سے فکر کرنے والے نہ کہ برابر ہیں والدین تو اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجنیئر بنوانے کا عزم لے کر نکل رہے ہیں لیکن کیا ملت اسلامیہ کے رہبروں نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجنیئر نہیں بن سکتاہے، اگر وہ ان شعبوں میں جانے سے ناکام ہوتا ہے تو اسکا مستقبل کیا ہوگا؟۔ مسلمان اپنی نسلوں کی رہنمائی کے لئے نہ مراکز قائم کر  رہے ہیں نہ ہی ایسے علماء کرام ،مدارس اور اداروں کی بنیاد رکھہ  رہے ہیں کہ جس کا سہارا لے کر وہ آگے بڑھ سکیں ، معاشرے کے عمائدین اور اہل علم کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کی نسلیں تباہ ہورہی ہیں تو کیا کبھی اس بات پر غور بھی کیا گیا ہے کہ ان نسلوں کو تباہی سے بچانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟۔ مسلمانوں میں جو لوگ مالدار ہیں ، صاحب حیثیت ہیں یا پھر باشعور ہیں وہ لوگ آخر قوم کی رہنمائی کے لئے عملی طورپر کیوں نہیں آرہے ہیں۔ جب تک حالات کو قابو میں لانے کےلئے مسلمانوں کے ذمہ دار آگے نہیں آتے اس وقت تک مسلمانو ں کی نسلیں تباہی کی جانب ہی جاتی رہیں گی ۔ الیکشن میں جس طرح سے سروں کو جوڑ کر ، مخالفین کو توڑ کرکام کیا جاتاہے اسی طرز پر حالات حاضرہ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
مفکر اسلام عالم دین مفتی صادق مظا ہری کا سیدھا کہنا ہے کہ کیا مسلمانوں کے پاس ایسی کوئی معلومات / جانکاری دستیاب ہے جس میں مسلمانوں کے معاشی ، سماجی ، تعلیمی حالات کا جائزہ لیا گیا ہو کہ  اندنوں ہمارے کتنے بچے دینی تعلیمات و عصری تعلیم درمیاں میں ہی چھوڑ رہے ہیں اور کیوں چھوڑ رہے ہیں اور کتنے لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، کتنے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیکا ر ہیں ، کتنے نوجوان روزگار میں رہ کر کس حال میں ہیں ، اگر وہ روزگار میں ہیں تو سماج کے لئے ان سے کیا کام لیاجا سکتا کیا ان باتوں پر غور نہیں کیا جاسکتا کیا ان چیزوں کا ڈیٹا مسجد وار یا علاقہ وار حاصل کرتے ہوئے منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا ان باتوں سے ہماری سوچنے سمجھنے کی طاقت ضرور ضائع ہوگی ، اسکے بجائے مسلمانوں کے مستقبل کے تعلق سے کام کرنا شروع کریں ، یہ کام آج کیلئے نہیں بلکہ کل کیلئے کرنا ہے تاکہ آنیوالی نسلوں کو فائدہ پہنچ سکے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے