محمد قاسم ٹانڈؔوی

حالیہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات اور وہاں کے حیران کن نتائج سامنے آنے کے بعد سبھی پانچوں ریاستوں میں حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں؛ حالانکہ ایک وقت بالخصوص تمل ناڈو میں ایسا لگ رہا تھا، کہ وہاں ایمرجنسی لگا دی جائےگی؛ مگر کانگریس کی حکمت عملی سے وہاں کا ابر آلود سیاسی مطلع بھی جلدی صاف و شفاف ہو گیا اور بہ شمول تمل ناڈو جہاں جس پارٹی نے جتنی محنت کی اور عوام کو سمجھا کر اپنے حق میں ووٹ پر امادہ کیا، وہاں اس پارٹی کے زیر اہتمام حکومتوں کا قیام عمل میں آچکا ہے اور وزیراعلی کے مناصب سے لےکر سبھی پانچوں ریاستوں میں کابینہ تک کی تقرری ہو چکی ہے، جدید تشکیل شدہ حکمرانی کے ساتھ ہی ملک ہندوستان کا نقشہ جغرافیائی اعتبار سے مزید زعفرانی رنگ اور سیاسی مستقبل کے لحاظ سے ملک کو ایک خاص نظریے اور مذہبی سوچ میں ڈھالنے والی جماعت کے زیر انتظام و قبضہ میں جا چکا ہے۔
ویسے تو ہمارے اس ملک کو دنیا کی سب سے بڑی اور فعال و مضبوط جمہوریت سے منسوب کیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ: یہاں ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی اور اپنے حقوق و مطالبات کےلیے آواز بلند کرنے کا پورا اختیار ہے؛ مگر جب ہم جیسے ناقص الفہم اور سیاست کی معمولی شد بدہ رکھنے والوں کی نگاہیں ملکی حالات خاص کر مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے مسائل و امور کی طرف جاتی ہے، تو دل دھک سے رہ جاتا ہے اور پھر ذہن و دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ: کیا ہم مسلمان واقعی دنیا کی سب سے بڑی اور فعال و مضبوط جمہوریت میں رہ رہے ہیں؟ اور کیا ایسے ہی ظلم و زیادتی اور ناانصافی پر مبنی حالات دیکھنے یا دن بہ دن جو اندوہناک و شرمناک واقعات و معاملات پیش آنے کے بعد مسلسل برداشت کئے جا رہے ہیں، کیا انہیں کو دیکھنے کےلیے ہمارے اکابر و بزرگ حضرات کی طرف سے اس ملک سے انگریزوں کو بھگایا گیا تھا اور سرزمین ہند کو ان کے وجود سے پاک کرنے اور ملک کو ان کے چنگل سے چھڑانے کےلیے ایک لمبے عرصے تک کوششیں کی گئی تھیں؟ کیا آزادی کے متوالوں نے ایسی ہی جمہوریت کا خواب دیکھا تھا، جہاں ادنی درجے کی سرکاری ذمہ داری نبھانے والا آدمی بھی رنگ و نسل کو دیکھ کر فیصلہ لیتا ہو؟ اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے باشندگان ملک کو اپنی شب و روز کی محنت و کاوش اور جہد مسلسل کے طفیل لوگوں کو بنا تفریق مذہب و ملت آزادی کی مالا پہنانے والی مقدس ہستیوں اور قابل احترام شخصیات نے آج کے موجودہ حالات؛ جن کو مذہبی جنون میں غرق نفرتی ٹولے اور نفرت و تشدد کی کھیتی کرنے اور موقع بہ موقع انتہا پسندی کا مظاہرہ کرنے والوں کی طرف سے بد سے بدتر بنا دئے گئے ہیں، یہ جنونی ٹولہ قانون کو بالائے طاق رکھ کر کہیں تو تحفظ گائے کے نام پر مسلم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے اور کہیں لو جہاد کے بےہودہ نعرے کا سہارا لے کر اور فضول مذہبی باتوں کو بحث و انتقام کا مدعا بنا کر گاؤں دیہات سے شہر کی طرف کوچ کرنے اور دور دراز سے روزی روٹی کی تلاش میں آنے والوں اور اپنے اہل خانہ سے دور ذمہ داریوں کا بوجھ ڈھونے والوں کو اپنی ہوس و نفرت کا نشانہ بناتا ہے؛ تو کیا آج کے ان بدترین حالات میں کسی بھی شریف و معزز شہری کا خود کو آزاد و جمہوری ملک کا باشندہ کہلانا یا آزادی کی فضا میں رہ کر دور غلامی میں سانسیں لینا اور انگریزوں کے ماتحت رہ کر زندگی گزارنے جیسی یادیں تازہ نہیں کر رہے ہیں؟؟؟
کل تک جو جنونی ٹولہ مٹھی بھر کہلاتا تھا؛ مگر اب اس کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، اب اس ٹولہ کی حرکات و سکنات اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کی طرف سے حالات ایسے بنا دئے گئے ہیں، جس کی بنیاد پر عام شہریوں کا ملک کے آئین اور یہاں کے دستور سے اعتماد و یقین اٹھتا جارہا ہے، اب عام شہری اپنے ارد گرد سب کچھ ہوتا دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی سوالیہ نظروں کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کرنے ہی میں عافیت و سلامتی تصور کئے ہوئے ہے؛ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ سسٹم سے لڑنے یا اس کے خلاف آواز بلند کرنے سے خود سسٹم پر یا اس کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے والی لابی پر تو کوئی اثر ہونے والا نہیں، اور الٹے سوال کھڑا کرنے پر یا جرآت و ہمت کا مظاہرہ کرنے پر اس کی قیمت چکانی پڑ جائےگی؟
آج ملک کی جو ریاستیں زعفرانی رنگ میں رنگی ہوئی ہیں یا جہاں جہاں ڈبل انجن کی سرکار ہے، وہاں وہاں بلڈوزر کارروائی تیزی سے انجام دی جا رہی ہے اور اس انہدامی کارروائی میں زیادہ تر نشانے پر یا تو مسلمانوں کے مکانات و دکانیں ہیں یا ان کے تعمیر کردہ مدارس و مساجد اور دیگر تعلیمی ادارے زد میں لائے جا رہے ہیں؛ تاکہ مسلمان جو اس ملک کے باشندے اور برابر کے حق دار ہیں، ان کو ترقی کی راہ سے پیچھے ڈھکیلا جا سکے اور جو مسلمان معاشی اعتبار سے مضبوط و مستحکم ہیں، ان کی کمر توڑی جاسکے اور انہیں اس حال میں پہنچا دیا جائے، جہاں سے وہ اپنے حقوق کی آواز ہی بلند نہ کریں۔ باقی رہے وہ لوگ جو انہدامی کارروائی اور معاشی بدحالی سے بچے رہے؛ ان کو دیگر قانونی پیچیدگیوں میں الجھا کر یا بھیڑ کا حصہ بننے دینے کےلیے چھوڑ دیا جائے؛ تاکہ وہ طرح طرح کے حالات سے پریشاں ہو کر خود ہی گوشہ نشیں ہونے میں عافیت و سلامتی محسوس کرنے لگیں۔
غرضے کہ: ہمارا یہ ملک عزیز موجودہ حالات میں ایک ایسے موڑ اور دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں ایک طرف کھلے عام آئینی اقدار کی پامالی کی جا رہی ہے اور دوسری طرف سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرکے مسلمانوں کو کمزور و بےحیثیت کیا جا رہا ہے اور ان سے ان کی پہچان و شناخت چھین کر انہیں کے آبا و اجداد کے ذریعے بنائے سنوارے گئے ملک میں ان کو بنیادی اسباب و ذرائع سے محروم کئے جانے کی مسسلسل تیاری کی جا رہی ہے، جس نے ہر شخص کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ: :ایسا کرکے ملک ہندوستان اپنی جمہوری روایت اور قانونی وراثت کو کمزور و کھوکھلی کر رہا ہے یا پھر آہستہ آہستہ ملک کو ایک خاص مذہبی رنگ اور ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں جمہوریت کی روح کمزور ہی نہیں؛ بلکہ پوری طرح ناپید  ہو جاتی ہے؟”
ہم اب بھی پوری شان اور پورے یقین و وثوق کے ساتھ کہتے ہیں؛ کہ: یقینا ہمارا یہ ملک ہندوستان آج بھی دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی جمہوریت کا حامل ملک ہے؛ کیوں کہ ہماری جو آئینی کتاب ہے، اسے آج بھی معتبر نگاہوں سے دیکھا سمجھا جاتا ہے، جس کی تحریر شدہ دفعات و شقائق نے ہم تمام ہندوستانیوں کو قانونی، مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کے باوجود ایک وفاقی جمہوری نظام میں متحد و سمیٹ رکھا ہے، اور یہی سب سے بڑی خوبصورتی ہے ہمارے اس ملک ہندوستان اور یہاں پر نافذ آئینی نظام کی۔”
اس لیے یاد رکھیں! جب بھی تخت و تاج اور طاقت و اقتدار کا استعمال غلط و بےجا ہونے لگتا ہے اور حاصل شدہ اختیار سے عوام کی کمر کو تختۂ مشق بنایا جاتا ہے تو پھر سر کاری اداروں، عدالتی فیصلوں اور قانونی کی کتابوں سے نہ صرف عوام کا اعتبار و اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے؛ بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی حقیقی آزادی اور حکومتوں کی غیر جانب داری پر اعتراض اٹھنے لگتے ہیں۔
ایک اور آخری بات یہ بھی سمجھ لی جائے، کہ: "کسی بھی جمہوری اور آئینی ملک کا جو حکمراں طبقہ ہوتا ہے، وہ اس ملک میں آباد سبھی عوام کا ذمہ دار و نگہبان ہوتا ہے، نہ کہ سوداگر و خود مختار؛ اس لیے حکمراں جماعت کو چاہئے کہ وہ عوام میں تفریق و تمیز کئے بغیر کام کرے اور ایسے فیصلے یا احکامات عام کئے جائیں، جس سے کسی ایک مذہب اور برادری کے احساس و جذبات کو ٹھیس نہ پہنچتی ہو اور کوئی بھی طبقہ آپ کے فیصلوں سے متآثر اور خود کو زیادتی کا شکار تصور نہ کرتا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے