فرائض سے غافل، حلال و حرام سے بے پروا اور والدین و اعزہ کے حقوق ادا نہ کرنے والے قربانی کے لیے غیر معمولی بے چین نظر آتے ہیں؟
عبدالغفارصدیقی
عید الاضحیٰ کا ایک خاص ایونٹ قربانی ہے۔ قربانی کے پہلے تین حروف کا مجموعہ ”قرب“ہے۔بعض لوگوں کے نزدیک قربانی قرب کا مشتق ہے۔جب ہم کسی کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں یا کسی کے قریب ہوتے ہیں تو ہم اس کے لیے قربانی دیتے ہیں۔محبت کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب ہم اپنے محبوب کے لیے وہ چیز قربان کردیتے ہیں یا کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں جو ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے۔اس ضمن میں اگر ہم ذرہ برابربھی کوتاہی،غفلت یا ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں تو ہماری محبت ناقص ہوتی ہے اورہم اپنے دعوائے محبت میں گویا جھوٹے ہوتے ہیں۔عید الاضحی کی قربانی میں بھی دراصل یہی روح کارفرما ہے۔یہ بھی اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ؑکی طرف سے بارگاہ رب حقیقی میں دی گئی قربانی کا لافانی سلسلہ ہے۔
جب ہم اللہ کا قرب چاہتے ہیں،تو اس کی راہ میں اپنا دل پسند حلال مال خرچ کرتے ہیں۔اگر ایسا نہیں کرتے تو گویا ہم اللہ سے محبت نہیں کرتے اور اس کا قرب نہیں چاہتے۔اس پہلو سے جب ہم مسلم معاشرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو صورت حال زیادہ خوش کن نہیں پاتے۔بنیادی بات یہ ہے کہ ہم اللہ سے محبت اور اس پر ایمان میں خود کو مکمل نہیں پاتے۔ہم اللہ کے مقابلہ میں اپنی اولاد سے اوراپنے مال سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔اس لیے کہ نہ معلوم کتنے مواقع پر اولاد کی خوشی کے لیے ہم اللہ کی خوشی قربان کردیتے ہیں۔ہم اللہ کے مقابلہ میں اپنے سماج اور برادری سے زیادہ ڈرتے ہیں،کتنی ہی غیر اسلامی رسوم سماج اور برادری کے دباؤ میں انجام دیتے ہیں۔یہ ایمان نہیں منافقت ہے، بلکہ اللہ کے ساتھ بغاوت ہے۔دل میں ایمان کی اس ناقص کیفیت کے ساتھ پیش کی جانے والی قربانی کیسے قبول کی جاسکتی ہے؟
جس مال سے ہم قربانی کا جانور خریدتے ہیں،اس کا حلال اور طیب ہونا ضروری ہے۔یعنی ہم نے کسی کو دھوکا دے کر مال نہ کمایا ہو،معاملات وتجارت میں بد عہدی نہ کی ہو،ناپ تول میں کمی نہ کی ہو،حد سے زیادہ منافع حاصل نہ کیا ہو،مال کا عیب نہ چھپایا ہو، کسی کا مال نہ مارا ہو،کسی کی زمین نہ دبا رکھی ہو،کسی جائز وارث کے حصہ وراثت کو غصب نہ کر رکھا ہو، (عام طور پر برصغیر کے مسلمان ترکہ تقسیم کرتے وقت بہنوں اور پھوپھیوں کو حصہ نہیں دیتے) ورنہ مال کے حلال ہونے میں بھی شک ہے۔ مشکوک، ناجائز، حرام اور غصب شدہ مال سے قربانی کیسے کی جاسکتی ہے؟
قربانی کے معاملہ میں فقہی اختلاف کے سبب غلط فہمیاں بھی موجود ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک ہر اس شخص پر قربانی واجب ہے جس کے پاس نصاب کے مطابق مال موجودہے۔کچھ کے نزدیک صرف گھر کے سربراہ پر قربانی واجب ہے۔کچھ لوگ اسے حج کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور کچھ کے نزدیک یہ ایک اختیاری عمل ہے۔اس ضمن میں ہر گروہ کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ایک گروہ دوسرے کی دلیل کو کم تر بتاتا ہے یا اس کی اس طرح تاویل کرتا ہے جس سے اس کے مسلک کی تائید ہوجائے۔نبی اکرم ؐ کی سنت میں بھی دو طرح کے عمل بتائے جاتے ہیں۔ایک روایت کے مطابق آپ نے اپنی طرف سے بھی قربانی کی اور اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے بھی یہاں تک کہ حضرت فاطمہ ؓ کی طرف سے بھی۔دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے ایک قربانی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے کی اور ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے کی جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ قربانی کو اختیاری عمل قرار دینے والے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث پیش کرتے ہیں۔جس میں آپ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔“ (مسلم) اس حدیث میں ”اراد احدکم“ (تم میں سے اگر کوئی ارادہ کرے)کے الفاظ قربانی کے عمل کے اختیاری ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔سنن بیہقی میں درج ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کبھی کبھی قربانی نہیں کرتے تھے اور اس کی وجہ یہی بتاتے تھے کہ کہیں لوگ اسے لازم خیال نہ کرلیں۔ابو سریحہؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکرؓ اور عمرؓ کو پایا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے، اس اندیشے سے کہ لوگ ان کی اقتداء کرتے ہوئے اسے لازم نہ سمجھ لیں۔(مصنف عبد الرزاق: 8148، مصنف ابن أبی شیبۃ: 9726)مصنف عبدالرزاق میں حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:۔”میں مال دار ہونے کے باجود قربانی نہیں کرتا،مبادا میرے پڑوسی اسے لازم نہ خیال کرلیں۔“
کتب احادیث میں نبی اکرم ﷺ کے سلسلہ میں یہ تو موجود ہے کہ آپ ؐ نے قربانی کی،قربانی کے فضائل بھی بیان فرمائے،لیکن آپ ؐ نے قربانی کرنے کا تاکیدی حکم نہیں فرمایا۔ ایسا کوئی حکم میرے علم میں نہیں ہے۔
اس لیے میرے نزدیک قربانی کرنافرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے اس لیے کہ نبی اکرم ؐ نے مدینہ میں دس سالہ قیام کے دوران ہر سال قربانی کی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک تشریف فرما رہے اور ہر سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرنے کا اہتمام فرماتے تھے۔(ترمذی)اگر کوئی شخص وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے،لیکن اس کا باقی عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔اس لیے کہ قربانی فرض یا واجب نہیں ہے۔
جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی سائٹ پر اس ذیل میں درج ذیل احادث و روایات درج کی گئی ہیں:۔
”رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اپنی قربانی الگ فرمایا کرتے تھے اور ازواجِ مطہرات کی طرف سے الگ قربانی فرمایا کرتے تھے، اور آپ ﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قربانی مستقل طور پر(الگ)ہوتی تھی۔ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مینڈھا اپنی طرف سے قربان فرمایا اور دوسرا مینڈھا قربان کر کے فرمایا: ”ہذا عن من لم یضح من أمتی“ یعنی میں یہ قربانی اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے کر رہا ہوں جو قربانی نہ کرسکیں۔ترمذی شریف میں ایک روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ کے زمانے میں ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا اور اسی بکری سے خود بھی کھاتا اور دوسروں کو بھی کھلاتا تھا، چنانچہ اس حدیث کی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک بکری ایک آدمی کے پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے، حتیٰ کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک گھر میں کئی صاحب نصاب افراد ہوں تو ان میں سے ہر ایک کی طرف سے قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر ایک بکری کی قربانی کردی جائے تو سب کی طرف سے کافی ہوجائے گی، بشرطیکہ وہ سب آپس میں رشتہ دار ہوں اور ایک ہی گھر میں رہتے ہوں۔“
میں سمجھتا ہوں کہ یہ موقف زیادہ درست ہے کہ گھر کے ہر فرد کے بجائے گھر کا صرف ذمہ دار قربانی کرے۔ اس لیے کہ ایک گھر میں کئی افراد صاحب نصاب ہوسکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے مال میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار رکھتے ہوں۔ہمارے معاشرے میں عام طور پر خواتین کے پاس جو مال ہوتا ہے وہ اس مال کے تصرف میں اختیار کاملہ نہیں رکھتیں۔مثال کے طور پر کسی عورت کے پاس زیور ہے،جو اس کو اس کے شوہر نے خرید کر دیا ہے،وہ اس زیور کے استعمال میں یہ اختیار رکھتی ہے کہ کب پہنے یا کب نہ پہنے لیکن وہ اسے بیچنے یاکسی کو تحفہ میں دینے کا اختیار بالکل نہیں رکھتی بظاہرایسی خاتون صاحب نصاب تو کہلائے گی مگر اس پر قربانی نہ ہوگی۔یہی معاملہ ان لڑکوں (یا لڑکیوں) کا ہے جو خوب پیسہ کماتے ہیں،مگر ان کی کمائی پر تصرف کا اختیار ان کے والدین اور سرپرستوں کو ہی ہے۔
جس روایت میں ازواج مطہرات یا حضرت فاطمہ ؓ کی قربانی کا ذکر ہے وہ اس پہلو سے بھی قابل مطالعہ ہے کہ کیا یہ ازواج مطہرات یا بنت رسول ؓ صاحب نصاب تھیں یا نہیں،اس لیے کہ سیرت کی کتابوں میں ان کے فقرو فاقہ کے جوواقعات درج ہیں اس سے تو یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ صاحب نصاب نہ تھیں اوران کی یہ قربانی نفل کے درجہ میں تھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں زیادہ صحیح یہی ہے کہ گھر کے ان تمام افراد کی طرف سے جن کا دسترخوان ایک ہو،جن کا کھانا ایک ہی ہانڈی میں پکتا ہو،ان کی طرف سے ایک ہی قربانی کافی ہے۔چنانچہ ترمذی کی وہ حدیث جس میں پورے گھر کی طرف سے ایک قربانی کا تذکرہ ہے اور جس کو امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنا عمل بنایا ہے وہی،زیادہ اصح اور راجح معلوم دیتی ہے۔
قربانی کے ایام کے تعین میں فقہاء کے درمیان قدیم اختلاف پایا جاتا ہے: ایک رائے (احناف) کے نزدیک قربانی کے دن۰۱، ۱۱ اور ۲۱ذی الحجہ ہیں اور بارہویں کی غروبِ آفتاب تک قربانی کی جا سکتی ہے۔اس کی بنیاد ان آثار پر ہے جن میں آیا ہے: ”أیام النحر ثلاثۃ“ (ایامِ نحر تین ہیں) — اسے عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس وغیرہ سے موقوفاً نقل کیا گیا ہے (مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ)، نیز یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے: ”کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ذَبْح“ جسے وہ تاویل کے ساتھ لیتے ہیں۔ دوسری رائے (شافعیہ، حنابلہ وغیرہ) کے نزدیک قربانی ۳۱/ ذی الحجہ تک جائز ہے، یعنی کل چار دن۔ ان کی دلیل یہی حدیث ہے: «کُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیقِ ذَبْحٌ» (مسند احمد، سنن دارقطنی وغیرہ) جس کے طرق کو مجموعی طور پر قابلِ استدلال قرار دیا گیا، اور صحابہ مثلاً علی بن ابی طالب سے بھی اس کی تائید منقول ہے۔ اسی بنا پر بعض اہلِ علم یہ تطبیق دیتے ہیں کہ جب تکبیراتِ تشریق بالاتفاق ۳۱ ذی الحجہ تک جاری رہتی ہیں تو قربانی کا وقت بھی اسی حد تک وسیع سمجھنا اقرب ہے۔ تاہم احتیاط کے لیے پہلے تین دنوں میں قربانی کر لینا سب کے نزدیک افضل و مطمئن طریقہ ہے۔
قربانی کے نام پر ایسے معاملات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ خصوصاً بعض حلقوں کی جانب سے قربانی کے نام پر باقاعدہ اسکیمیں پیش کی جاتی ہیں، جن میں بڑے جانور کے حصے اور بکرے کی قیمتیں پہلے سے مقرر کر دی جاتی ہیں —کہیں چھ ہزار، کہیں چودہ ہزار، اور کہیں اس سے بھی کم یا زیادہ۔
تعجب اس وقت بڑھ جاتا ہے جب ایک ہی شہر، مثلاً دہلی، میں بڑے جانور کا حصہ پانچ یا چھ ہزار سے کم نہیں، مگر بعض مقامات پر وہی حصہ ایک ہزار یا بارہ سو روپے میں پیش کیا جا رہا ہوتا ہے۔ جب اس فرق کی وجہ پوچھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ قربانیاں اڑیسہ یا بنگال میں کرائی جا رہی ہیں، جہاں جانور سستے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سہولت معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ طرزِ عمل کئی اندیشوں کو جنم دیتا ہے۔ آخر دہلی میں بیٹھا ہوا شخص کیسے مطمئن ہو کہ اس کی طرف سے واقعی قربانی انجام دی گئی ہے؟ اور اگر نہیں، تو اس رقم کا مصرف کیا ہوا؟
یہ صورتِ حال محض انتظامی کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسے دروازے کی نشاندہی کرتی ہے جس سے بدعنوانی آسانی سے داخل ہو سکتی ہے۔ جب عبادت کا معاملہ ہو اور اس میں شفافیت نہ رہے تو اس کے اثرات محض مالی نہیں، بلکہ روحانی بھی ہوتے ہیں۔
مزید برآں، موجودہ دور میں نصابِ زکوٰۃ کے حساب سے ایک بڑی تعداد صاحبِ نصاب بن جاتی ہے۔ سونا، چاندی اور نقدی کو جمع کیا جائے تو ایک ہی گھر کے کئی افراد اس دائرے میں آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہر فرد کے لیے الگ قربانی کا تصور پیدا ہوتا ہے، جب کہ عملاً نہ اتنا گوشت استعمال ہو سکتا ہے اور نہ اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں لوگ آسان راستہ تلاش کرتے ہیں اور انہی اسکیموں کا رخ کرتے ہیں۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ قربانی کی اہمیت کیا ہے—وہ اپنی جگہ ایک عظیم عبادت ہے—بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کے نام پر اختیار کیے گئے طریقے کس حد تک درست اور قابلِ اعتماد ہیں۔ اگر ایک خاندان میں ایک قربانی کر دی جائے تو کیا یہ مقصد کے لیے کافی نہیں؟ اور اگر مزید خرچ کرنے کا جذبہ موجود ہے تو کیا معاشرے میں ضرورت مندوں کی مدد، تعلیمی و رفاہی کام، اور دیگر فلاحی سرگرمیاں اس کے زیادہ مستحق نہیں؟
سب سے زیادہ غور طلب پہلو یہ ہے کہ جس معاشرے میں فرض نمازوں سے غفلت عام ہو، حلال و حرام کی تمیز کمزور پڑ رہی ہو، اور والدین و رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی ہو رہی ہو، وہاں قربانی کے لیے غیر معمولی بے چینی کیوں نظر آتی ہے؟ کیا یہ ترجیحات کے بگڑنے کی علامت نہیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عبادات کو ان کی اصل روح کے ساتھ سمجھیں، ان میں اخلاص اور شفافیت پیدا کریں، اور ایسے تمام راستوں سے بچیں جو دین کے نام پر بداعتمادی یا بدعنوانی کو فروغ دیتے ہوں۔ قربانی یقیناً سنتِ ابراہیمی ہے، مگر اس کی ادائیگی میں دیانت اور ذمہ داری بھی اسی قدر ضروری ہے۔
علماء کرام کی جانب سے مرحومین اور رسول اللہ ﷺ کی جانب سے قربانی کرنے کی بھی تحریک دی جاتی ہے۔اس تحریک کی بنا پر ایک معتد بہ تعداد اس پر عمل بھی کرتی ہے۔مجھے اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں،البتہ بھارت کے مسلمان جن گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں،ان کے پیش نظر بہتر یہی ہے کہ مرحوم کی جانب سے قربانی کے بجائے اس کی رقم مسلمانوں کی غربت،جہالت اور بیماری دور کرنے پر صرف کی جائے۔واللہ اعلم بالصواب۔
