لکھنؤ، 04 جولائی (پریس ریلیز): راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے جاری ایک بیان میں کہا کہ 6 دسمبر 1992 کا وہ سیاہ دن، جب فرقہ پرست عناصر نے بابری مسجد کو شہید کر دیا، آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک دردناک یاد ہے۔ اس وقت مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی مزید نہ بڑھ جائے، لیکن مسلمانوں نے اپنے قائدین کی اپیل پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ حکومت اور آئینی نظام کے سپرد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد متعدد مسلم تنظیموں، جن میں مسلم پرسنل لا بورڈ، جماعت اسلامی ہند اور دیگر تنظیمیں شامل تھیں، نے مسلمانوں کو صبر اور امن و امان برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ بالخصوص مرحوم سلطان صلاح الدین اویسی نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ اْس وقت کے وزیرِ اعظم پی۔ وی۔ نرسمہا راؤ سے بات چیت ہوئی ہے اور بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کی کوشش کی جائے گی، لہٰذا تمام لوگ امن و امان برقرار رکھیں۔ ان کا یہ تاریخی بیان اور سیاسی مؤقف اس وقت خاصا موضوعِ بحث رہا۔محمد آفاق نے کہا کہ مرحوم سلطان صلاح الدین اویسی اپنی تقاریر میں اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو کسی دوسری سیاسی جماعت پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے جمہوری نظام کے اندر اپنی سیاسی طاقت، خودمختار شناخت اور مؤثر قیادت پیدا کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے دوسروں سے زیادہ ہماری اپنی کمزوریاں اور بعض تنظیموں کی غلط پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق کئی تنظیمیں قوم کے بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے حکومتوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف رہیں، جبکہ قوم کو عملی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کا مقصد صرف ذاتی یا خاندانی مفادات کا تحفظ نہیں، بلکہ پوری قوم کی خدمت ہونا چاہیے۔آخر میں محمد آفاق نے مسلمانوں اور دیگر تمام کمزور اور پسماندہ طبقات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیدار ہوں، ہر انتخاب میں اپنے بنیادی مسائل کو ترجیح دیں اور اپنی سیاسی طاقت کو منظم کریں۔ انہوں نے کہا:ملاحوں کے سہارے ہماری ناؤ پار نہیں ہوگی، ہمیں خود تیر کر دریا پار کرنا ہوگا۔
مذکورہ اطلاع راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے جاری ایک پریس ریلیز میں دی ہے۔
