بنگلورو میں فٹ پاتھوں کی بحالی اور ہزاروں خاندانوں کا مستقبل
از: عبدالحلیم منصور
کوئی تو سود چکائے، کوئی تو ذمہ لے
اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے
شہر صرف فلائی اووروں، چمکتی سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ ان کی اصل شناخت اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں پیدل چلنے والے، خواتین، بچے، معمر شہری، معذور افراد، محنت کش اور چھوٹے کاروباری کس قدر محفوظ، باوقار اور بااعتماد ماحول میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ اسی لیے فٹ پاتھ کسی بھی مہذب شہر کی صرف تعمیراتی ضرورت نہیں بلکہ اس کے شہری شعور، آئینی ذمہ داری اور سماجی انصاف کا پیمانہ بھی ہوتے ہیں۔
ہندوستان کے شہروں میں فٹ پاتھ آج صرف کنکریٹ کی پٹیاں نہیں رہے بلکہ شہری منصوبہ بندی، آئینی حقوق، معاشی ناہمواری اور سماجی انصاف کے باہمی تعلق کی ایک زندہ علامت بن چکے ہیں۔ ایک طرف ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسے محفوظ، کشادہ اور بلا رکاوٹ فٹ پاتھ میسر ہو، تو دوسری جانب ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کی روزی روٹی انہی فٹ پاتھوں سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلورو میں فٹ پاتھوں پر تجاوزات ہٹانے کی حالیہ مہم نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا ایک آئینی حق کے تحفظ کے لیے دوسرے بنیادی حق کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، یا پھر دونوں کے درمیان متوازن راستہ تلاش کرنا ہی ایک فلاحی ریاست کی اصل ذمہ داری ہے؟
حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک طالب علم کی سڑک حادثے میں موت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستہ محض شہری سہولت نہیں بلکہ آئین کے تحت زندگی اور آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق کا حصہ ہے۔ عدالت نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ہندوستان میں سڑکوں کی منصوبہ بندی طویل عرصے سے موٹر گاڑیوں کو مرکز میں رکھ کر کی جاتی رہی ہے، جبکہ پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں سڑک حادثات میں اموات کی شرح تشویش ناک حد تک بلند رہی ہے۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ شہری ڈھانچے میں طاقتور اور خوش حال طبقے کی ضروریات کو ترجیح دینا اور کمزور طبقات کو نظر انداز کرنا سماجی عدم مساوات کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی پس منظر میں حکومتِ کرناٹک نے گریٹر بنگلورو کی آرٹیریل اور سب آرٹیریل سڑکوں پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔حکومت کے مطابق 20 مارچ 2026 کو منعقدہ آل پارٹی اجلاس میں تمام جماعتوں کے منتخب نمائندوں نے فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لیے مکمل طور پر بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد تین ماہ کا پیشگی نوٹس جاری کیا گیا اور پھر یکم جولائی سے تجاوزات ہٹانے کی مہم شروع کی گئی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد غریب تاجروں کو بے دخل کرنا نہیں بلکہ فٹ پاتھوں کو ان کے اصل مقصد، یعنی پیدل چلنے والوں کے استعمال، کے لیے بحال کرنا ہے۔ وزیر برائے ترقیاتِ بنگلورو کرشنا بائرے گوڈا کے مطابق حکومت اسٹریٹ وینڈرز کے لیے متبادل وینڈنگ زونز کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے تاکہ شہری سہولت اور روزگار کے درمیان ایک متوازن نظام قائم کیا جا سکے۔
بلاشبہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ مستقل کاروبار، غیر قانونی پارکنگ، ریستورانوں کی توسیع، شوروموں کی نمائش، تعمیراتی ملبہ یا دیگر قبضوں کے لیے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے کہ بنگلورو سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں صرف ریڑھی بان ہی فٹ پاتھوں پر قابض نہیں ہیں، بلکہ بااثر تجارتی ادارے، ہوٹل، گیراج، نجی عمارتیں، غیر قانونی تعمیرات اور لگژری گاڑیوں کی پارکنگ بھی بڑی حد تک انہی راستوں کو مسدود کرتی ہے۔ اگر قانون کی عمل داری واقعی مقصود ہے تو اس کا اطلاق ہر قسم کی تجاوزات پر بلا امتیاز ہونا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قانون طاقتور اور کمزور کے درمیان کوئی فرق نہ کرے۔
دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ بنگلورو میں ہزاروں خاندانوں کی زندگی انہی فٹ پاتھوں سے وابستہ ہے۔ ان میں بڑی تعداد پسماندہ، دلت، اقلیتی اور معاشی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے، جو دیہی بے روزگاری، زرعی بحران، معاشی بدحالی اور محدود مواقع کے باعث شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ان کے لیے فٹ پاتھ پر چھوٹا سا کاروبار کوئی شوق یا انتخاب نہیں بلکہ زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ایسے بے شمار افراد ہیں جنہوں نے سود پر قرض لے رکھا ہے، جو اپنے بیمار والدین کے علاج، بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات، مکان کے کرائے اور روزمرہ ضروریات کی ذمہ داری اسی محدود آمدنی سے پوری کرتے ہیں۔ ان کے لیے چند دن کی بے روزگاری بھی پورے خاندان کو شدید معاشی بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹریٹ وینڈرز صرف اپنی روزی نہیں کماتے بلکہ شہری معیشت کے ایک اہم اور فعال حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کم آمدنی والے لاکھوں شہری روزمرہ استعمال کی اشیاء انہی کے ذریعے مناسب قیمت پر حاصل کرتے ہیں، جبکہ یہ غیر رسمی معیشت کو متحرک رکھنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے اسٹریٹ وینڈرز (تحفظِ معاش اور ضابطۂ کاروبار) ایکٹ، 2014 نافذ کیا تھا، جس کا مقصد تجاوزات کو قانونی جواز فراہم کرنا نہیں بلکہ اسٹریٹ وینڈرز کے روزگار کا تحفظ، ان کی مردم شماری، رجسٹریشن، ٹاؤن وینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل، وینڈنگ زونز کے تعین اور مناسب متبادل انتظام کے بغیر بے دخلی سے بچانا تھا۔ اس قانون کی روح یہی ہے کہ شہری نظم و نسق اور انسانی معاش کے درمیان تصادم پیدا نہ ہونے دیا جائے بلکہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔
شہری خوبصورتی، قانون کی حکمرانی اور محفوظ فٹ پاتھ یقینا ناگزیر ہیں، مگر یہ مقاصد اسی وقت پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کے ساتھ انسانی وقار، معاشی تحفظ اور سماجی انصاف بھی وابستہ ہو۔ اصل سوال حکومت کے اختیار کا نہیں بلکہ طریقۂ کار کا ہے۔ اگر فٹ پاتھ ہر حال میں پیدل چلنے والوں کے لیے خالی کرانے ہیں تو کیا تمام رجسٹرڈ تاجروں کی بازآبادکاری کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے؟ کیا ہر زون میں متبادل کاروباری مقامات، بنیادی سہولتیں اور قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے؟ کیا کارروائی کے دوران ہر قسم کی تجاوزات کے خلاف یکساں معیار اپنایا جا رہا ہے؟ اور کیا ترقی کا بوجھ صرف معاشرے کے کمزور ترین طبقے پر ہی ڈالا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے واضح اور عملی جواب شہریوں کو درکار ہیں۔
بنگلورو جیسے عالمی شہر کو ایسے شہری ماڈل کی ضرورت ہے جہاں ایک طرف پیدل چلنے والوں کو محفوظ، صاف اور بلا رکاوٹ فٹ پاتھ میسر ہوں، تو دوسری طرف محنت کش طبقے کی روزی بھی محفوظ رہے۔ مستقل وینڈنگ زونز، شفاف رجسٹریشن، شناختی کارڈ، بنیادی سہولتیں، آسان قرض، سماجی تحفظ، مرحلہ وار منتقلی، ہنرمندی پر مبنی متبادل روزگار اور ہر قسم کی تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہی اس مسئلے کا دیرپا اور منصفانہ حل ثابت ہو سکتی ہے۔
ترقی کا معیار صرف یہ نہیں کہ فٹ پاتھ کتنے صاف ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس ترقی کے سفر میں کتنے کمزور ہاتھوں کو سہارا دیا گیا ہے۔ ایک آئینی، جمہوری اور فلاحی ریاست کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب قانون کی بالادستی، شہری سہولت، انسانی وقار اور معاشی انصاف ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بن جائیں۔ فٹ پاتھ یقیناً پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ ہونے چاہییں، مگر ان ہاتھوں کو بھی بے سہارا نہیں چھوڑا جانا چاہیے جو برسوں سے انہی فٹ پاتھوں کے سہارے اپنے گھروں کے چراغ روشن کرتے آئے ہیں۔ یہی متوازن طرزِ فکر قانون کی روح، آئین کے تقاضوں اور سماجی انصاف کے تصور سے حقیقی ہم آہنگی رکھتا ہے۔

