از: اوشین شوکت (جموں کشمیر)

ہر سال ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں،تیس ہزار، چالیس ہزار، مگر یہ صرف اعداد نہیں، یہ زندہ حقیقتیں ہیں۔ ہر نمبر کے پیچھے ایک ٹوٹی ہوئی زندگی ہے، ایک گھر کا بکھرنا ہے، ایک باپ کی جھکی ہوئی نظر ہے اور ایک ماں کی خاموش چیخ۔ یہ کہانیاں صرف خبروں میں نہیں رہتیں، یہ دلوں میں دفن ہو جاتی ہیں، جہاں درد ہوتا ہے، مگر آواز نہیں۔ جب کسی لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، تو صرف ایک لمحہ نہیں ٹوٹتا، اس کی پوری دنیا بکھر جاتی ہے۔ مگر اصل اذیت اس کے بعد شروع ہوتی ہے، جب وہ انصاف مانگتی ہے اور اسے انصاف نہیں، سوال ملتے ہیں۔ "کہاں تھی؟” "کس کے ساتھ تھی؟” "کپڑے کیسے تھے؟” یہ سوال کیوں؟ کیوں ایک مظلوم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہے؟ اگر کپڑے ہی معیار ہیں، تو اس آٹھ سال کی بچی کا کیا قصور تھا؟ اگر وقت غلط تھا، تو اس ڈاکٹر کا کیا قصور تھا جو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے نکلی تھی؟ سچ یہ ہے کہ مسئلہ کپڑوں کا نہیں، مسئلہ سوچ کا ہے۔ ایک خطرناک سوچ، جہاں عورت کو ایک انسان نہیں، ایک "چیز” سمجھا جاتا ہے۔ جہاں خاموشی کو رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔جہاں "نہ” کو سننے کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔

جبکہ حقیقت بہت سادہ ہے: رضامندی (Consent) ایک واضح، آزاد اور خوشی سے دیا گیا "ہاں”ہے۔ خاموشی رضامندی نہیں۔ ڈر رضامندی نہیں۔ مجبوری رضامندی نہیں۔ پھر بھی یہ بنیادی بات سمجھنے میں اتنی مشکل کیوں ہے؟

ہم نے کچھ نام سنے ہیں، نربھیا، جس نے پورے ملک کو ہلا دیا۔ کولکاتا کا واقعہ، جہاں ایک ڈاکٹر بھی محفوظ نہ رہ سکی اور وہ معصوم بچیاں، جن کے ساتھ ہونے والے واقعات نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔ ہر بار غصہ، ہر بار احتجاج، ہر بار وعدے، مگر پھر خاموشی۔ تو کیا انصاف صرف چند دنوں کا شور ہے؟ کیا یہ صرف وقتی غصہ ہے جو وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے؟ جب ایک لڑکی آواز اٹھاتی ہے، تو اسے صرف مجرم کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، بلکہ اسے اپنے ہی معاشرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گھر والے کہتے ہیں: "چپ رہو، عزت کا مسئلہ ہے” باہر والے کہتے ہیں: "بدنامی ہوگی” آخر وہ لڑکی کہاں جائے؟ کس پر یقین کرے؟ اور اگر وہ ڈٹ جائے، تو اسے ڈرایا جاتا ہے، دبایا جاتا ہے، توڑا جاتا ہے۔ کبھی سمجھوتے کی بات، کبھی دھمکی، کبھی کردار پر سوال، یہ سب اس کے زخموں کو اور گہرا کر دیتے ہیں۔

یہ صرف جسم کا زخم نہیں ہوتا، یہ ذہن، روح اور وجود کا زخم ہوتا ہے۔ وہ نیند کھو دیتی ہے، خود پر اعتماد کھو دیتی ہے اور کبھی کبھی جینے کی وجہ بھی۔ وہ زندہ ہوتی ہے، مگر جیتی نہیں۔ اور دوسری طرف؟ مجرم اکثر آزاد ہوتا ہے، جب تک انصاف ملتا ہے، وہ اپنی زندگی جی رہا ہوتا ہے اور وہ لڑکی ہر دن تھوڑی تھوڑی مر رہی ہوتی ہے۔ یہ سب سننا آسان ہے، اس پر بات کرنا بھی آسان ہے۔

ہم جب صرف سوچتے ہیں، تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر جس پر یہ گزرتی ہے، صرف وہی جانتا ہے کہ جینا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کیسا نظام ہے؟ کیوں انصاف میں اتنی تاخیر ہے؟ کیوں ایک زخمی انسان سے بار بار وہی لمحہ دہرانے کو کہا جاتا ہے؟ کیوں اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، بجائے اس کے کہ اسے سہارا دیا جائے؟ اور سب سے بڑا سوال… کیا واقعی کوئی عورت محفوظ ہے؟

بچپن سے بڑھاپے تک… چھوٹی بچی، جوان لڑکی، شادی شدہ عورت یا ایک بوڑھی خاتون، درندوں کے لیے عمر، رشتہ اور وقت کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ سچ ہے اور یہی سب سے بڑی تکلیف بھی۔ اور یہ ظلم صرف ایک شکل تک محدود نہیں۔ کبھی ایک لڑکی صرف "نہ” کہتی ہے اور اس کے جواب میں اس پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔ اس کا چہرہ، اس کی پہچان، اس کی پوری زندگی چھین لی جاتی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا "نہ” کہنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا پوری زندگی جھیلنی پڑے؟ تو پھر ہم کب بدلیں گے؟ کب ہم یہ سمجھیں گے کہ

مسئلہ عورت نہیں، سوچ ہے؟ مسئلہ کپڑے نہیں، ذہنیت ہے؟

مسئلہ وقت نہیں، نظام ہے؟ اور ایک تلخ حقیقت جسے ہم ماننے سے کتراتے ہیں۔ کبھی کبھی وہی ادارے اور لوگ، جو حفاظت اور انصاف کے دعوے کرتے ہیں، خود سوالوں کے کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ کئی بار ایسے ریپ کیسز سامنے آئے ہیں جہاں سیاسی پارٹیوں(Political Parties) سے جڑے لوگ یا کچھ پولیس والے بھی ملوث پائے گئے، مگر ان کے نام سامنے نہیں آتے، یا پھر طاقت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عام انسان ڈر جاتا ہے، خاموش ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں۔ لوگ سیاسی پارٹیوں کی پوجا کرتے ہیں، ان کے لیے لڑتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آخر عورتوں کی حفاظت کے لیے حقیقت میں کیا بدلا؟ کیوں آج بھی ایک لڑکی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی؟ کب یہ نظام بدلے گا؟ کب طاقتور لوگوں کو بھی ویسی ہی سزا ملے گی جیسی ایک عام انسان کو ملتی ہے؟ اور کب اس ظلم کے خلاف سچ میں آواز اٹھے گی؟ ہم بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے: "یہ حساس موضوع ہے” لوگ نظریں جھکا لیتے ہیں، زبانیں بند کر لیتے ہیں، لیکن کیا ان معصوم بچیوں کی چیخیں حساس نہیں تھیں؟ کیا ان لڑکیوں کی برباد زندگیاں حساس نہیں ہیں؟ ہمیں شرم آتی ہے بات کرنے میں، مگر ظلم کرنے والوں کو شرم کیوں نہیں آتی؟ یہ خاموشی، یہی سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ خاموشی ہی مجرم کی طاقت ہے۔ یہ خاموشی ہی ہر اگلے جرم کی بنیاد ہے۔ اے شہریو! کب جاگو گے؟ کب تک اپنی آنکھیں بند رکھو گے؟ کب تک یہ سوچ کر خاموش رہو گے کہ "یہ ہمارے گھر کا مسئلہ نہیں”؟ یاد رکھو! آج کسی اور کی بیٹی ہے، کل یہ تمہارے گھر کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتی ہے۔ آواز اٹھاؤ! ظلم کے خلاف کھڑے ہو جاؤ! یہ صرف ایک لڑکی کی جنگ نہیں، یہ پورے معاشرے کی جنگ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں۔ آواز اٹھائیں۔ اور یہ طے کریں کہ سوال مظلوم سے نہیں، مجرم سے ہوں گے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ، ایک تلخ مگر ضروری حقیقت بھی ہے، ہمیں خود کو بھی محفوظ رکھنا سیکھنا ہوگا۔ باہر کی دنیا میں محتاط رہنا، اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنا، انجان لوگوں پر اندھا اعتماد نہ کرنا، اور اپنی حدوں کو واضح رکھنا۔ یہ سب کمزوری نہیں، سمجھداری ہے۔ گھر کے اندر بھی، ہر رشتہ محفوظ ہو، یہ ضروری نہیں۔ اس لیے خود پر بھروسہ رکھنا، کسی بھی غلط رویے پر خاموش نہ رہنا، اور فوراً آواز اٹھانا، یہی پہلا قدم ہے۔ ڈرنا حل نہیں۔ خاموشی حل نہیں۔ آواز ہی طاقت ہے۔ کیونکہ جب تک ہم یہ نہیں بدلیں گے، کچھ نہیں بدلے گا۔ یہ محض الفاظ نہیں، یہ ایک آئینہ ہے، ایک پکار ہے، ایک ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت کے سامنے کھڑا ہر انسان خود سے یہی سوال کرے، کب تک ایک لڑکی انصاف کے انتظار میں روز تھوڑی تھوڑی مرتی رہے گی؟ اور کب وہ دن آئے گا جب اسے صرف زندہ رہنے کا نہیں، بلا خوف جینے کا حق بھی ملے گا؟ اگر ہم آج بھی خاموش رہے، تو کل یہ خاموشی کسی اور کی زندگی برباد کرے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریپ (Rape) صرف ایک جرم نہیں، بلکہ ایک معاشرتی بیماری ہے۔ جب تک ہم بطور معاشرہ اپنی سوچ نہیں بدلیں گے، تب تک قانون بھی مکمل انصاف فراہم نہیں کر سکتا۔

آواز اٹھائیں، کیونکہ انصاف صرف قانون سے نہیں، بلکہ معاشرے کی سوچ سے بھی آتا ہے۔ اور ایک بات "انصاف کی سب سے بڑی موت وہ دن ہے، جب معاشرہ سوال پوچھنا چھوڑ دے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے