سہارنپور(احمد رضا): مسلم آبادی کے خلاف ہونے والی خونی سازشیں آجکل خد بہ خد بھاجپا کے لئے بد بختی اور بد نصیبی کی علامت بن کر سامنے آ رہی ہیں ہر جانب فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کو ہار کا شکار ہو نا پڑ رہا ہے اس کے بعد بھی یہ مسلم دشمنی سے باز نہیں آ رہے ہیں ، ممبئی کے قرب و جوار میں لگاتار مسلم افراد پر حملوں کے ساتھ ساتھ ہندو شدت پسند افراد اب منظم ہوکر مساجد کے اندر داخل ہو کر لوٹ پا ٹ اور اعلانیہ توڑ پھوڑ کرنے لگے ہیں کولہا پور کے علاقہ گجا پور میں واقع رضا جامع مسجد میں گھس کر ہندو شدت پسند افراد نے زبردست توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دینی کتب اور صفوں کو خرد برد کردیا مسجد کے گنبد پر بھگوا جھنڈا لہرایا اور گنبدوں پر توڑ پھوڑ کی اس موقعے پر موجود امام صاحب کے علاوہ دیگر مسلم افراد پر جا ن ليوا حملہ کیا کافی افراد کو چوٹ لگی تو وہیں مسجد کو بہت نقصان پہنچایا گیا ہے ملک بھر میں پھیلے 25 کروڑ سے زائد مسلمان ایک ہزار سے زائد سالو ں سے اس ملک کا حصہ بنے ہوئے ہیں اس ملک کی سر زمین کو سر سبز اور شاداب بنانے میں اہل مسلم نے بڑی سے بڑی جانی اور مالی قربانیاں پیش کرتے ہوئے اس ملک کی سرحدوں اور آن بان اور شان کی حفاظت کی ہے آج اس دور حکومت میں اسکا بدل مسلم آبادی کو نفرت اور حسد کا شکار بناکر لیا جا رہا ہے مسلم طبقہ کو پیٹ پیٹ کر قتل کیا جا رہا ہے پولیس مقتول کے خلاف ہی مقدمات قائم کر رہی ہے بھوانی اور مدھیہ پردیش میں مسلمانوں زندہ جلانے والے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں آخر اس ملک کے عوام کو کون سی بیماری لاحق ہے کہ جس وجہ سے یہ ملک کو بربادی کی طرف لیجانے پر بضد ہیں اس ظلم و جبر سے آخر ملک کے سوا ارب عوام کو کیا حاصل ہوگا یہ غور طلب بات ہے!جس شعبے میں مسلمانوں کو کام کرنا ہے اس پر کام نہیں ہورہاہے خاص طورپر مسلمانو ں کو آج تعلیم کی اشد ضرورت ہے ، مختلف سہولیات کے باوجود آج بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہورہی ہے ، بچے تعلیم سے دور ہیں ، سرکاری اسکولوں کی تعلیم کا اللہ ہی مالک ہے ، سرکاری اسکولوں میں مسلمانوں کے اساتذہ ہونے کے باوجود ان میں قوم مسلم کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وہیں نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ، ایسے میں جو بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ان بچوں کا ساتھ دینے کے لئے قوم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے آگے آتے ہیں تو مسلمانوں کے تعلیم حاصل کرنے کے بڑے مسئلہ کا حل نکل سکتا ہےعام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے آغاز میں مسلمانوں کی بڑی تعداد فیس اور دیگر اخراجات کو لے کر بہت پریشان ہوتے ہیں ان کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے اگر نجی تعلیمی ادارے فیس یا اخراجات میں بہت زیادہ رعایت دیتے ہیں تو کالجوں اور اسکولوں کو چلانا مشکل ہوجائیگا اس سے تعلیمی میعار میں کمی آسکتی ہے ، طئے شدہ فیس ہی ادا کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جاتاہے تو اس والدین پر دبائو پڑیگا ، اس صورت میں ایک کام یہ ہوسکتاہے کہ مالی استطاعت رکھنے والے افراد اپنے طورپر کسی اسکول یا کالج کا رخ کرتے ہوئے ضرورت مند بچوں کی کفالت یا کم ازکم اسکی فیس کی ذمہ داری لیتے ہیں تواسکول یا کالج پر بھی بوجھ کم ہوگا، بچوں کی بھی مدد ہوجائیگی اور انکی یہ مدد ان بچوں کے مستقبل کے لئے بہترین ثابت ہوگی۔ درحقیقت اس طرح سے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا بھی ثواب جاریہ ہے لیکن ہم نے مخصوص علوم پر خرچ کرنے کو ہی ثواب جاریہ سمجھ رکھا ہے ، آج ثواب جاریہ کے لئے لوگ مختلف ذریعے ڈھونڈتے ہیں جبکہ قوم کو تعلیم سے آراستہ کرنا نہ صرف ثواب جاریہ ہے بلکہ دنیاوی اعتبار سے فرض بھی ہے ۔ ٹرسٹ ہو یا ادارے ، وہ عام طورپر یہ کرتے ہیں اسکولوں کے آغاز میں بچوں کو ایک پینسل کا ڈبہ ، چھ کاپیاں اور دو پین دیتے ہیں جو کہ اس سے ان بچون کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بڑا کام تو بچوں کی تعلیم کے لئے انکے اخراجات میں تعاون کرنا ہے ۔ یہی وقت کی ضرورت ہے ۔ کوشش کریں کہ اپنے اطراف بچوں کی تلاش کریں ، انکے داخلوں کے تعلق سے معلومات کریں ، انکے کالجوں کی فیس کی ادائیگی میں آگے بڑھیں ، یہ وقت کا اہم تقاضہ ہے۔
