ازقلم: امام علی فلاحی
ایم اے جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔
رام نومی کے موقع پر ملک ہندوستان کی کئی ریاستوں سے نفرت انگیز نعرے بازی اور تشدد کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جس میں مہاراشٹر، بہار، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، گجرات، اتر پردیش، مغربی بنگال، تلنگانہ اور راجستھان جیسی ریاستیں سر فہرست ہیں۔
رام جی کے نام پر منایا جانے والا تہوار رام نومی برسوں سے ملک ہندوستان میں منایا جاتا رہا ہے، بنیادی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دن رام جی بھگوان وشنو کے ساتویں اوتار کے طور پر پیدا ہوے تھے جسے دھرم کا محافظ بھی سمجھا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بھگوان رام کی پیدائش ایک خدائی منصوبے کے تحت ہوئی تھی جسکا مقصد بادشاہ راون کے ظلم کو ختم کرکے دنیا میں امن و امان برپا کرنا تھا۔
لیکن آج اسی امن و امان اور سلامتی والے رام کے یومِ پیدائش کو حالیہ چند برسوں سے جگھڑا اور تصادم کی علامت بنا دیا گیا ہے جسکی سب سے بڑی وجہ سیاست کے ذریعے پروان چڑھائی گئی اکثریت کی سوچ ہے۔
گذشتہ رام نومی کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں دنگے اور فساد نظر آئے ہیں جسمیں سر فہرست بہار شریف، مغربی بنگال، گجرات، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ، اتر پردیش، تلنگانہ اور راجستھان وغیرہ ہیں۔
بہار کی راجدھانی پٹنہ سے تقریباً 70 کلو میٹر دور موجودہ نالندہ ضلع کے بہار شریف میں رام نومی کے دوران ہوئے تشدد نے ہر کسی کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، رام نومی کی ‘شوبھا یاترا’ کے دوران بہار شریف میں پیش آئے تشدد میں ایک کی موت اور کئی زخمی ہوئے ہیں اس کے علاوہ لاکھوں روپے کی ملکیت اور دکانیں جل کر خاک ہو چکی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس تشدد کے دوران 100 سال سے زیادہ پرانے ‘مدرسہ عزیزیہ’ کو بھی نظر آتش کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اس نفرت کی آگ میں محض ایک مدرسہ ہی نہیں جلا بلکہ 100 سال سے زیادہ پرانی تاریخ کو خاک میں ملانے کی کوشش کی گئی ہے، مدرسہ عزیزیہ کی لائبریری کو بھی جلا گیا ہے، جس میں تقریبا 4500 سے زیادہ کتابیں موجود تھیں۔
‘دی ہندو’ میں شائع خبر کے مطابق مسجد کے امام اور مدرسہ کے کیئر ٹیکر محمد سیاب الدین نے کہا کہ تقریباً 1000 لوگوں کی مسلح بھیڑ نے بہار شریف کے مرارپور علاقے میں مدرسہ عزیزیہ میں توڑ پھوڑ کی اور اس کی لائبریری میں آگ لگا دی، انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ 4500 سے زائد کتابوں کا ذخیرہ رکھنے والی 110 سال قدیم لائبریری اس حملے میں راکھ ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ مدرسہ عزیزیہ کا قیام 1910 میں ہوا تھا اور یہ وقف بورڈ/مدرسہ بورڈ کے ذریعہ منظور شدہ تھا۔ 1920 میں مدرسہ بورڈ کی شروعات بہار کے پہلے وزیر تعلیم سید فخر الدین نے کی تو مدرسہ عزیزیہ بھی ایک سرکاری مدرسہ کا درجہ حاصل کر لیا تھا، بتایا جاتا ہے کہ مدرسہ عزیزیہ میں صغریٰ وقف اسٹیٹ کا بھی دخل رہا کیونکہ اس مدرسہ کو بہار کی سب سے ہمدرد اور عطیہ دہندہ بی بی صغریٰ نے اپنے شوہر عبدالعزیز کی یاد میں تعمیر کرایا تھا اسی لیے اس کا نام مدرسہ عزیزیہ رکھا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مدرسہ عزیزیہ میں 10 اساتذہ اور 2 غیر تدریسی ملازم حکومت کی طرف سے دیے گئے تھے، علاوہ ازیں 5 اساتذہ کو صغریٰ وقف اسٹیٹ کی طرف سے تنخواہ ملتی تھی۔ یہاں تقریباً 500 بچے پڑھائی کرتے ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ مدرسہ میں درجہ اوّل سے درجہ فاضل تک کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ مدرسہ عزیزیہ کے سکریٹری ‘زی نیوز’ سے اس پورے واقعہ کو نالندہ یونیورسٹی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جس طرح کبھی نالندہ یونیورسٹی کے ساتھ ہوا تھا، اس کی دوسری شکل مدرسہ عزیزیہ کے ساتھ دیکھنے کو ملی ہے۔
اسی طرح رام نومی کے موقع پر اتوار یعنی 2 اپریل کو مغربی بنگال کے ہگلی ضلع میں ایک جلوس نکالا گیا، جلوس کے دوران دو گروپوں میں تصادم ہوا جس کے باعث علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا۔
دریں اثنا بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس نے کہا کہ تشدد کے ذمہ داروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شرپسندوں اور غنڈوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ریاستی وزیر صنعت ششی پنجا نے تشدد کی مذمت کی، ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پارٹی ریاست میں امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسی طرح گجرات کے وڈودرا شہر میں رام نومی تہوار کے موقع پر فتح پورہ علاقے میں جلوس کے دوران ہنگامہ و پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد علاقہ میں سیکوریٹی کو سخت کردیا گیا اور پولیس فورس تعینات کر دی گئی، اسکے علاوہ گجرات ہی کے کھمبھاٹ اور ہمت نگر شہر میں بھی یہ تصادم سامنے آیا جس میں دو فرقوں کے درمیان تشدد ہوا۔ خبروں کے مطابق وشو ہندو پریشد نے ہمت نگر میں رام نومی کا جلوس نکالا اور کہا یہ جا رہا ہے کہ کچھ شرپسندوں نے جلوس پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد زبردست ہنگامہ ہوا۔ شرپسندوں نے سڑک پر کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور دکانوں کو آگ لگا دی۔
اسی طرح رام نومی کے موقع پر مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے پالدھی میں منگل (28 مارچ) کی رات کو ایک مسجد کے سامنے ڈی جے کے ساتھ ایک مذہبی جلوس نکالے جانے کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق،یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ے جلگاؤں سے ناسک ضلع کے وانی تک نکالا گیا ایک مذہبی جلوس پالدھی گاؤں سے گزرا۔پولیس نے بتایا کہ مسجد کے سامنے بجنے والے ڈی جے میوزک پر بحث کی وجہ سے جھگڑا ہوا، جو پتھراؤ میں بدل گیا۔مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کو لوٹا گیا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
اسکے علاوہ مہاراشٹرا ممبئی کے مضافاتی علاقے مانخورد اور مالونی میں بھی دنگا ہوا۔
مانخورد کے علاقے میں رام نومی کے جلوس میں ایک مسجد کے پاس اشتعال انگیز نعرے اور ڈھول تاشہ بجانے سے روکنے پر بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور آس پاس کی دکانوں میں بھی توڑ پھوڑ کی، پولیس نے مانخورد میں دونوں فرقوں کے خلاف فساد پھیلانے کا معاملہ درج کرلیا ہے جبکہ مالونی میں شرپسندوں کے خلاف متعدد دفعات کے تحت معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔
مانخورد کے پی ایم جی کالونی میں رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ رام نومی کے جلوس میں 50؍ سے زائد موٹر سائیکل پر سوار ریلی نکلی تھی اور جب وہ ریلی پی ایم جی کالونی میں واقع کوئنا بلڈنگ نمبر 104؍ کے پاس پہنچی تو اس وقت مسجد میں تراویح ہورہی تھی ڈھول تاشے کی آواز سے ہونے والے خلل کو روکنے کیلئے مقامی افراد نے موٹر سائیکل سواروں سے کہا کہ وہ تھوڑا آگے جاکر ڈھول تاشے بجائیں تاکہ نماز پڑھنے والوں کو تکلیف نہ پہنچے، اس پر ان کے درمیان توتو ، میں میں ہو گئی اور موٹر سائیکل سواروں نے مشتعل ہوکر مسلم نوجوانوں سے مارپیٹ کی اوروہاں پر پارک کی گئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ شروع کردی ۔
دوسری جانب ما لونی کے علاقے میں واقع امبوز واڑی رام جانکی مندر سے اتوار کی شام 5؍بجے رام نومی کا جلوس نکالا گیا تھا۔ اس میں تقریباً 300؍ افراد شامل تھے ۔ یہ جلوس جب شام تقریباً 7؍بجے مالونی گیٹ نمبر 7؍ انجمن جامع مسجد کے قریب پہنچا تو جلوس میں شامل شرپسندوں نے ڈھول تاشے بہت ہی تیز آواز میں بجا کر ایک دوسرے پر گلال پھینکنا شروع کردیا۔ اس وقت مسجد میں نماز ہورہی تھی، مالونی گیٹ نمبر 7؍ کے قریب رہنےوالے ایک شخص نے بتایا کہ شرپسندوں نے جب نعرے بازی شروع کی تو علاقے کے نوجوانوں نے انھیں منع کرنے کی کوشش کی جس پر جلوس میں شامل نوجوان مشتعل ہوگئے ۔ اطلاع ملتے ہی مسجد کے ٹرسٹیان اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کے نوجوانوں کو سمجھا بجھا کر حالات پر قابو پانے کی کوشش کی حالانکہ مسجد کے سامنے کافی دیر تک ہنگامہ ہوتا رہا۔
بہر حال! رام نومی جلوس کے دوران تشدد کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے، سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں ملک کی مختلف ریاستوں میں رام نومی جلوس کے دوران ہوئے تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
یہ درخواست ہندو فرنٹ فار جسٹس نے دائر کی ہے ، غرضی میں رام نومی کے موقع پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے ہوے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نقصانات کا معاوضہ صرف ان لوگوں سے وصول کیا جائے گا جنہوں نے رام نومی کے دوران تشدد پھیلایا تھا۔
