کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
عید ملنے ملانے کے لیے آیا تھا ، کدورتوں کو ، گندگیوں کو ، میل کچیل کو صاف کرنے آیا تھا ، معاف کرنے کرانے ،عفو و تسامح کی پر بہار فضاء قائم کرنے کے لئے آیا تھا ، پرخاش کو مٹانے کے لئے آیا تھا ، انا کے صنم کو توڑنے آیا تھا۔ غرور پندارئیت کی جڑوں کو کھودنے کے لئے آیا تھا ، محبت باٹنے، پھول بنکر خوشبو بکھیرنے آیا تھا ، مردہ ضمیروں کو جگانے آیا تھا ،دل کی زمین میں الفت وپیار کے چشمے جاری کرنے آیا تھا، عبادت میں استمرار ، اور طاعت وبندگی میں دوام کیلئے آیا تھا ، زندگی کو بامقصد بنانے آیا تھا ، حبل اللہ سے گردن باندھنے آیا تھا ، اور تمسک بالکتاب والسنۃ کا درس دینے آیا تھا ، عمل کی دنیا آباد کرنے آیا تھا، غافلوں کو جگانے آیا تھا ، کہ الناس نیام اذا ماتوا انتبھوا۔
اگر سماج و معاشرہ نفرتوں اور دشمنیوں کی آگ میں جھلستا ہوا عید منا رہا ہے ، عداوت کی بھٹیوں کو شعلہ زن کرکے عیدمنارہا ہے ، ظلم وچیرہ دستی کو جاری رکھکر عید کی پرسموم خوشیاں بانٹ رہا ہے ، غریبوں کو ستاکر ، ملہوفوں کو پریشان کر ،غیرت مندوں کو غلط پر للکار کر ، اور فاقہ کشوں کا نوالہ چھین کر ، اور پورۓ سوسائٹی میں دنگاکرا کر ، سرپھٹول کا بازار گرم کر ، غلط افکاروں کی قلعہ تعمیر کر ، نادانوں کا استحصال کر تو سمجھ جائیں کہ شیطانی ٹولہ خوش ہوحکا ہے ، ایک ماہ کی پابندی کا انہیں بہتر فائدہ ملا ہے ، اب انسانی و ابلیسی شیطان اپنے کام میں مصروف ، آپسی چشمک وچپقلش کی شروعات ، مفتاحا للشر ومغلاقا للخیر۔
لہٰذا جنگ کے شعلوں پر روغن قاز ڈالنے کے بجائے ان کو صلح واتحاد کے پانی سے بجھانے کی کوشش کیجئے ،چلئے تو نفرت کی دیوار گرادیجئے ، مخاصمت کا ہمالیہ تہس نہس کردیجئے ، پرانے روش کو ختم کردیجئے ، فکر و خیال کو صحیح سمت دیجئے ، صدقہ ، فطرہ ، لڑائی ،جھگڑا بند کیجئے ، ترجیحی امور پر ترکیز کیجئے ، زندگی کے ایام بڑۓ قیمتی ہیں ،انہیں ضائع ہونے سے بچائیے ، اپنی صلاحیتوں کو پہنچانئے ، خیر کے کاموں میں لگئے ، اور راہ سبیل میں فنا ہوجائیے ، یہی پیغام ہے عید رمضان ، إنما العيد لمن تزداد به الأعمال الصالحة۔
تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال۔

