ادبی تنظیم دبستان گوپال گنج (بہار) نے عید ملن کے تحت مشاعرے کا انعقاد کیا۔
گوپال گنج (بہار): ادبی تنظیم دبستان گوپال گنج (بہار) نے عید ملن کے نسبت سے ایک ادبی تقریب کا اہتمام کیا۔ اس موقع سے دوپہر 12 بجے تھاوے کے الفا انٹرنیشنل مشن اسکول میں ڈاکٹر افروز عالم کی کتاب ”جہان باقی“ کی رسم رونمائی اور آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد ہوا ۔ یہ پروگرام دو اجلاس پر مشتمل تھا ۔
تقریب کے آغاز میں ہی دبستان گوپال گنج کے صدر شرف الدین شرف نے افتتاحی کلمات پیش کر کے تقریب کا آغاز کیا اور پروگرام کے کنوینر رضی احمد فیضی اور نبی اللہ احسن کے ہمراہ گل پوشی و شال پوشی کر کے مہمانوں کا استقبال کیا ۔
پروگرام کی صدارت بیتیا سے تشریف لائے معروف شاعر و ناقد ڈاکٹر نسیم احمد نسیم نے ادا کیا۔ جس میں گوپال گنج کے شاعر و ادیب جناب معراج الدین تشنہ اور لکھنؤ سے تشریف لائے معروف رباٸ کے قابل قدر شاعر و ناقد ڈاکٹر سنجے مشرا شوق نے اپنے مضامین پڑھے۔ اس کے بعد صاحب صدر نے تفصیلی خطبہ پیش کر کے تقریب کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہوئے چار چاند لگا دئیے۔
ڈاکٹر افروز عالم نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ دوسرے اجلاس کا اعلان کیا۔
یہ پروگرام بالکل کل ہند مشاعرے کے تحت انجام پیر ہوا۔
دوسرے نشست کی صدارت ڈاکٹر سنجے مشرا شوق نے فرماٸ۔ شہہ نشین پر صدر کے ساتھ دبستان کے صدر محترم شرف الدین شرف موجود رہے جب کہ دونوں نشست کی نظامت سنجے مشرا سنجے نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
اس موقع پر نرگس ناز، آزاد عالم، خورشید عالم، اکبر حسین، آفتاب عالم، سبحان علی، مولانا ظہیر احمد ندوی، انجینئر مختار عالم، وجیہہ الحق ندوی کے علاوہ ضلع کی اہم شخصیات موجود رہیں ۔
آخر میں رضی احمد فیضی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اگلے پروگرام تک مشاعرے کے ملتوی ہونے کا اعلان کیا ۔
مشاعرے میں پڑھے گۓ شعرائے کرام کے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں۔۔
سنجے مشرا شوق (لکھنٶ)
میں روشنی کو بانٹنے والا سفیر ہوں
سورج جو بجھ گیا تو اجالا بناؤں گا۔
نسیم احمد نسیم (بتیا)
ہم تری چاک پہ مٹی کی طرح رکھے ہیں
تو اگر ہاتھ لگا دے تو سنور جائیں گے۔
ڈاکٹر طاہر الدین طاہر (صاحب گنج)
اب ترے پیار کی ہر بات سے جی ڈرتا ہے
دن تو ساتھی مگر رات سے جی ڈرتا ہے۔
سعید قادری (صاحب گنج)
کاذبوں کا قبضہ ہے پھر سے تخت شاہی پر
ہے انہیں کہاں فرصت بستیاں جلانے سے۔
شہباز شمسی (ابو ظبی)
در پہ دریا کے رکھ کے پیاس مری
عقل چرنے گئی تھی گھاس مری۔
رضی احمد فیضی
وہ سورج لے کے آتا ہے تو آئے
یہ فیضی موم کا پتلا نہیں ہے۔
معیز بہمن بروی
کتنی محنت و مشقت سے مکاں بنتا ہے
یہ کہاں سوچتا ہے آگ لگانے والا۔
معراج الدین تشنہ
گھر پر بلا کے اس نے کہا مجھ سے ناز سے
دعوت کے اہتمام کا مطلب کچھ اور ہے۔
شرف الدین شرف
کیسے کہہ دوں مجھے آپ کیا دیجئے
مجھ کو میری وفا کا صلہ دیجئے۔
مدھوسودن مدھو
شاید یہ بجھ نہ پائے گی تشنہ لبی مدھو
آیا اگر سمٹ کے جو دریا گلاس میں۔
چاند جوہری
وفا کی جنگ کبھی ہار کر نہیں جاتا
مریض عشق تڑپتا ہے مر نہیں جاتا۔
سنجے مشرا سنجے
میں سمجھتا تھا کہ وہ قصہ پرانا ہوگیا
آج پھر اس کی نظر کا میں نشانہ ہو گیا۔
آزاد مانجھا گڈھی
کوئی ان کو دیکھے تو خود کو بھلا دے
تو کیا ہے حقیقت چلو دیکھتے ہیں۔
غلام سرور ہاشمی
روشنی آتی نہیں پیار کی اس کے گھر میں
اپنے آنگن میں جو دیوار اٹھا دیتا ہے۔
ڈاکٹر افروز عالم
جاگا ہوا ہے موسم دریا چڑھا ہوا ہے
آٶ تجھے چھپا لوں ہر اک بری نظر سے۔

