مشرف شمسی
اُتر پردیش میں مسلمان خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جمعیت علماء ہند ارشد مدنی اگر اپنی جمعیت کا قومی انتخاب اُتر پردیش کے کسی شہر میں کرتے جو اُن کا ہوم اسٹیٹ ہے اور پھر اس شہر میں اجلاس عام کرتے تو ریاست کے مسلمانوں کی حوصلہ اور ہمت افزائی ہوتی لیکن ارشد مدنی نے اجلاس عام کے لیے ممبئی کا انتخاب کیا ۔ ممبئی کا انتخاب یوں ہی نہیں کیا گیا ۔مہاراشٹر میں شیو سینا ادھو کا بی جے پی سے علاحدگی ہو جانے کے بعد سے ایکناتھ شندے اور بی جے پی حکومت میں تو ہے لیکن آئندہ لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کو مہاراشٹر میں ہزیمت اٹھانی پڑےگی ۔مہاراشٹر میں لوک سبھا کی 48 سیٹیں ہیں لیکن مہا وکاس اگاڑی یعنی کانگریس ،راشٹر وادی کانگریس اور ادھوکی شیوسینا اتحاد کر کے چناؤ لڑی تو بی جے پی ایک ہندسہ میں رہ جائے گی ۔بی جے پی مہاراشٹر میں اپنی شکست کو بھانپتے ہوئے ہندو کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔سكل ہندو سماج نامی تنظیم کے تحت مہاراشٹر کے کئی حصوں میں مسلم مخالف جلوس نکالے گئے ۔اُن جلوسوں میں مسلمانوں کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔لیکن سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد جلوس نکلنے بند ہوئے ہیں ۔پھر بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ہندو مسلم کے جھگڑے کرائے جا رہے ہیں ۔احمد نگر اور اکولا میں ہندو مسلم فساد ابھی حال میں ہی ہو چکے ہیں ۔مہاراشٹر کے اس گرما گرم ماحول میں ارشد مدنی کی جمعیت کو اپنی طاقت دکھانے کے لئے آزاد میدان میں جلسہ کرنے کی اجازت مل گئی ۔سات سال پہلے جب مسلمانوں نے آزاد میدان میں جلسہ کیا تھا اور پھر اس جلسے میں پتھر بازی ہوئی تھی ۔اسکے بعد سے مسلمانوں کے کسی گروپ کو آزاد میدان میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔آخر جمعیت کو کیسے اجازت ملی؟ وہ بھی تب جب وزیر داخلہ بی جے پی کے دیویندر فڈنویس ہیں۔فڈنویس یا آر ایس ایس کی سفارش سے آزاد میدان میں جلسے کی اجازت کانگریس کو حمایت کرنے کے لئے نہیں دی گئی تھی بلکہ بی جے پی ہائی کمان کو معلوم تھا کہ اس خالص مذہبی جماعت کے جلسے میں کچھ نہ کچھ ایسا بولا جائے گا جس سے ہندوؤں کو ایک جُٹ کرنے میں اُنہیں مدد ملے گی۔ارشد مدنی نے ایک بار پھر منو كس کی پوجا کرتے تھے جیسے متنازع بیان کو دوہرا دیا اور گودی میڈیا نے اُسے پھر پکڑ لیا۔ مدنی کے اس بیان پر پھر ماحول کو گرم کیا جا رہا ہے ۔آر ایس ایس اور بی جے پی کو اسی کی ضرورت تھی اور وہ مقصد پورا ہو گیا۔
رہا سوال کرناٹک میں مسلمان کانگریس کو ووٹ دیئے اس میں جمعیت علماء ہند ارشد مدنی کے کارکنان کا بہت اہم کردار رہا ہے ایسی خبر گشت کر رہی ہے یا کرائی جا رہی ہے ۔ اس بارے میں یہ کہنا ہے کہ اس ملک کے مسلمان با ہوش ہیں ۔اُنھیں کسے ووٹ دینا ہے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔کرناٹک میں مسلمان زیادہ تر جنتا دل سیکولر کو ووٹ دیتے آ رہے تھے لیکن کانگریس نے پاپولر فرنٹ کے ساتھ بجرنگ دل پر پابندی کی بات کہی تو مسلمانوں نے پہلی بار کانگریس کو ایک مشت ووٹ دے دیا ۔اس میں جمعیت کا کردار بیگانے شادی میں عبداللہ دیوانہ جیسا ہے۔
ویسے مہاراشٹر میں مسلمان مہا وکاس اگاڑی کو ووٹ دینگے ہی اور جو دوسرے چناؤ ہو رہے ہیں مسلمان مہا وکاس اگاڑی کے امیدوار کو ہی ووٹ دیتے آ رہے ہیں ۔ایسے میں ارشد مدنی ایک بڑے جلسے میں مسلمانوں کو کانگریس کو ووٹ دینے کی بات کرتے ہیں تو یقیناً اس کا ہندوؤں میں میسج اچھا نہیں جائے گا ۔دراصل آج کے ماحول میں اس ملک کا مسلمان اور مسلم تنظیمیں خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہیں وہ زیادہ بہتر ہے۔کیونکہ بی جے پی ہندوؤں کو ڈراتی رہی ہے کہ بی جے پی کو ووٹ نہیں کروگے تو مسلمان حکومت میں آ جائیں گے ۔ارشد مدنی جانے انجانے میں بی جے پی کا سیاسی مہرہ بن گئے ہیں ۔ویسے بھی مودی سرکار کے اس نو سال میں ارشد مدنی کی جمعیت علماء نے مسلمانوں پر ہو رہے کون سی ظلم پر آواز اُٹھائی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمعیت علماء ہند کی تواریخ کانگریس کے ساتھ کا ہے لیکن اُتر پردیش میں جمعیت علماء کانگریس کا نام کیوں نہیں لیتی ہے۔یوگی سرکار طرح طرح کی پابندیاں مساجد اور مدارس پر لگا رہی ہیں اگر ارشد مدنی صاحب میں ہمت ہے تو اُتر پردیش میں گرج کر دکھائیں ۔اُتر پردیش میں چناؤ جیتنے کے لئے یوگی کو کسی جمعیت کی ضرورت نہیں ہے ۔مہاراشٹر میں بی جے پی کو ہندوؤں کو ایک جُٹ کرنے کے لئے جمعیت جیسی تنظیم کی ضرورت ہے ۔شاید اسی لئے آزاد میدان میں کسی مسلم تنظیم کو آٹھ سال بعد جلسہ عام کرنے کی اجازت مل گئی ۔

