بلوا سینگر ، سنت کبیرنگر (سلمان کبیرنگری): تعلیم اچھی سیرت سازی اور تربیت کا ایک ذریعہ ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے تمام مخلوقات میں انسان کی تربیت سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ انسان ہی روئے زمین کا واحد فرد ہے جس پر زمین کی صلاح و فساد کا انحصار ہے۔ اس انسان کو اللہ نے ارادہ واختیار کا مالک بناکر دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز بنایا۔ اور اُس کو خیر و شر، نیکی و بھلائی کی راہ دکھانے کے لئے کتاب بھی دی اور انبیاء کرام کا سلسلہ بھی جاری کیا۔وہیں مدرسہ نورالعلوم برڈانڈکے ناظم اعلیٰ سراج احمد قاسمی نے کہیں انہوں نے کہا کہ کس طرح اپنی آنے والی نسلوں کو خود ان کیلئے اور تمام انسانیت کے لئے مفید اور باعث خیر بنائے۔ اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات پر ایک سرسری نظربھی ڈالیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ نئی نسل کی پرورش اور تربیت و تعلیم کے لئے ربّ کائنات نے اپنے بندوں کو کتنا آمادہ کیا ہے۔
تربیت اور تعلیم کا سلسلہ جو ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے اگلا مرحلہ گھر اور مکتب اور پھر معاشرہ کا ماحول ہوتا ہے۔ اگر ہم اس تعلق سے شریعت کی رہنمائی پر غور کریں کہ کس طرح وہ آداب اور اخلاق سے پر اور بداخلاقی، فحش و منکرات سے پاک معاشرہ کی تعمیر پر زور دیتا ہے بلکہ ایسے معاشرہ کی تعمیر کا قیام امت مسلمہ کے اجتماعی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اور فریضہ قرار دیاگیا۔ پھر یہ کام محض ایک ثواب کاکام نہیں بلکہ ضروری امر قرار دیاگیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے