ڈاکٹر محمد رضا المصطفی قادری کڑیانوالہ گجرات
مجھ سے بے شمار افراد فون پر اور سوشل میڈیا پر رابطہ کرتے ہیں کہ براہ کرم ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے کوئی موضوع تحقیق بتا دیں ۔ میں ان سب کے لئے اور اپنے قارئین کے لیے یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔
اگر آپ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے کسی موزوں موضوع کی تلاش میں ہیں تو سب سے پہلے آپ اپنا دلچسپی کا میدان دریافت کریں، کون سی کتابیں پڑھنا آپ کو پسند ہے ؟ اور آپ ذوق و شوق سے ان کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مطالعہ کرتے ہوئے آپ بور نہیں ہوتے، تھکتے نہیں ،اکتاتے نہیں۔
ہر بندے کا علمی ذوق و شوق اور رجحان طبع مختلف ہوتی ہے ۔کچھ لوگ قرآنیات میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ تفاسیر کا مطالعہ شوق سے کرتے ہیں ۔تفاسیر میں بھی مختلف رجحانات ہیں۔ کچھ کلاسیکل تفاسیر پڑھتے ہیں کچھ ماڈرن تفاسیر پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ لوگ احادیث مبارکہ پر کام کرنے کے مشتاق ہوتے ہیں ان کے دلچسپی کا میدان حدیث مبارکہ ہوتا ہے یہ بھی ایک وسیع و عریض جہاں ہے اس میں بھی علمی کام کرنے کی مختلف جہتیں ہیں۔
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مستقل شعبہ تحقیق ہے۔ کچھ لوگوں کو سیرت سے بڑی محبت اور عقیدت ہوتی ہے ان کا اوڑھنا بچھونا ہی سیرت ہوتی ہے ۔اسی طرح کچھ لوگ فقہ ور اصول فقہ سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں وہ ان کتابوں کو پڑھنے پڑھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ لوگ تقابل ادیان ،تاریخ و تصوف وغیرہ کے عاشق و دلدادہ ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ لوگ مخطوطات کے شیدائی ہوتے ہیں قدیم چیزوں پر تحقیق کرنا ان کو بہت اچھا لگتا ہے ۔
تحقیق کے طالب علم کے لئے لازم ہے کہ سب سے پہلے اپنا دلچسپی کا میدان طے کرے مجھے تفسیر، اصول تفسیر ،حدیث، و اصول حدیث، سیرت، فقہ ،اصول فقہ، تاریخ، تصوف، تقابل ادیان وغیرہ میں کون سا شعبہ پسند ہے؟ ۔اپنی طبیعت کا میلان اور مطالعہ کا ذوق دیکھے پھر جو شعبہ پسند ہو اس کے امہات الکتب میں سے کم از کم دس کتب کا مطالعہ کر لے ۔
اگر تفسیر پسند ہے تو کم از کم دس تفاسیر کا مطالعہ کرے ،اگر حدیث مبارکہ کی طرف دلچسپی ہے تو حدیث کی دس امہات الکتب کا مطالعہ کریں یہی رویہ ہر مضمون کے ساتھ اپنانے کی ضرورت ہے۔
ایم فل اور پی ایچ ڈی کے عناوین کی تلاش کے لیے ایک آسان سرگرمی یہ بھی ہے کہ آپ مختلف جامعات کی لائبریریوں کا وزٹ کریں اور ان میں ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کو بغور دیکھیں مقالہ جات کے آخر میں سفارشات اور تجاویز ہوتی ہیں ۔جہاں پر محقق اپنی سفارشات میں تحقیق کے مختلف جہتوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔کہ میں نے اس پہلو سے کام کیا ہے اور اس پہلو سے کام کی گنجائش موجود ہے ۔ اور ان عنوانات کی طرف رہنمائی بھی کی گئی ہوتی ہے ۔ آپ یہ کام ضرور کریں آپ کو کئی موضوعات ملیں گے ۔
جب آپ اپنے دل پسند شعبہء علم میں مطالعہ کریں گے تو آپ پر علم کی نئی پرتیں کھلیں گی ،نئے انکشافات ہونگے ،دل و دماغ کے دریچے وا ہوں گے ،نئی نئی جہتوں سے آشکار ہوں گے آپ کو مطالعہ کے دوران ہی اپنا موضوع تحقیق مل جائے گا ایک موضوع نہیں کئی موضوعات ملیں گے ۔ کہ کس کس جہت اور زاویے سے کام کرنا ممکن ہے ۔
یاد رکھئے مطالعہ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔یہ مطالعہ آپ کو علمی ،تبلیغی، روحانی زندگی میں بے حد معاون اور مددگار ثابت ہوگا آپ خود رہبر بن جائیں گے کئی لوگوں کے ہادی بنیں گے کئی لوگوں کی نیا پار لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ بعض اوقات آپ اپنے مضبوط مطالعے سے اپنے سپروائزر سے بھی تحقیق میں بڑھ سکتے ہیں ان سے اختلاف کر سکتے ہیں یہ تب ممکن ہے جب آپ کا ذاتی مطالعہ مضبوط ہوگا۔ اپنے مقالہ کا دفاع ہر موقع پر آپ نے ہی کرنا ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ کا مطالعہ مضبوط ہوگا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ طالب علم پڑھنا نہیں چاہتا ،مطالعہ کرنا نہیں چاہتا، وہ چاہتا ہے کہ مجھے موضوع تحقیق اور خاکہ تحقیق بھی کوئی بنا دے کتابیں بھی بتا دے بلکہ سارا مقالہ ہی کوئی دوسرا لکھ کر دیدے ۔اسی واسطے کئی حضرات کے پاس ڈگریاں ہیں لیکن علمی قابلیت برائے نام بھی نہیں ہے۔دوسری طرف کئی حضرات ایسے ہیں جن کے پاس ڈگری نہیں ہے انہوں نے مسلسل مطالعے ،جدوجہد اور محنت سے وہ مقام حاصل کیا ہے کہ وہ خود علمی حوالہ بن گئے ہیں اور ان کو بطور سند پیش کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ۔تحریر سے نام حذف کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے مذہبی لوگ یہ حرکت کریں تو قباحت اور بڑھ جاتی ہے ۔
ڈاکٹر محمد رضا المصطفی قادری کڑیانوالہ گجرات
00923444650892واٹس اپ نمبر
