ابو احمد مہراجگنج
غالب بھی کیا بلا کے سخنور تھے۔ ان کے اشعار کی معنویت اور وقت کے مزاج سے ہم آہنگی آج بھی اسی طرح برقرار ہے جس طرح شعر کہے جانے کے وقت تھی ،بس فرق ہے تو سامعین کے ذوق سخن فہمی کا ۔
آج میں اپنی بات کو کہنے کے لیے غالب کے اس شعر کا سہارا لے رہا ہوں شعر کچھ یوں ہے کہ
*کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو*
*یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا*
غالب کے لئے "تیر نیم کش”جو کچھ بھی رہا ہوگا ۔میرے لئے اس کا مصداق ہمارے ملک بھارت میں” جمہوریت” اور سیکولر ازم ” ہے ۔ سیکولر اور جمہوری نام سے منسوب یہ "تیر نیم کش "اگر ملک کی آزادی کے وقت ہی جگر کے پار ہوگیا ہوتا۔اور بھارت بھی سیکولر اور جمہوریت کے نام کے بجاۓ کسی اور خاص فکر سے جڑ گیا ہوتا ،پاکستان کی طرح اسلامی ،غیر اسلامی ،کمیونسٹ ہوتا تو میرے دل ناتواں میں خلش نہ ہوتی جو اس تیر نیم کش "سیکولر/جمہوری سے ہوتی ہے۔
میں اپنی بات کو شاعری کے پیرہن سے باہر نکال کر اگر کہوں بات کچھ یوں ہوگی کہ جب ایک جمہوری ملک کا وزیراعظم جمہوریت کے اصولوں کو طاق پر رکھ کر ملک کے باشندوں کی ترجمانی کرنے کے بجائے کسی خاص مذہب کی روایات کو سرکاری پروگرام کا حصہ بنادے ۔قومی دنوں کے پروگرام کو ایک مذہبی رنگ اور خاص مذہبی رسومات کی پابندی کے مطابق انجام دینے لگے ۔جب ملک کے آئین ودستور پر کسی مذہب کی رسومات کو فوقیت حاصل ہوجاۓ تو میرے دل میں خلش پیدا ہوتی ہے کہ اے کاش یہ تیرنیم کش” جمہوریت” دل کے پار کیوں نہیں ہوجاتا۔ جب میں دیکھتا ہوں اس جمہوری ملک کے مختلف اداروں ،مختلف محکموں میں پولیس تھانوں میں ،تحصیل اور ضلع ہیڈکوارٹر کی باؤنڈری میں ،سرحدی فورسز کے کیمپس میں صرف ایک مذہب کی عبادت گاہ قائم کردی گئیں ہیں تو سوچتا ہوں کہ سیکولرزم کی یہ کونسی ورائٹی ہے جو میرے بھارت میں نافذ ہے ۔ابھی حال ہی میں نئے پارلیمنٹ بلڈنگ کی افتتاحی تقریب ہوئی سب نے دیکھا کہ کس طرح ایک جمہوری نظام حکومت کے پاور ہاؤس کو خاص مذہبی رسومات کی ادائیگی سے کیا گیا ۔ کیا سیکولر ملک کی یہی روایت ہونی چاہئے؟ ۔سیکولر ملک کا وزیر اعظم کسی مذہب کا نمائندہ نہیں ہوتا ہےبلکہ آئین اور دستور کا نمائندہ ہوتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو جمہوریت کے نام پر جس درد والم سے گزرنا پڑتا ہے وہ صرف ان کا حصہ ہے ۔اگر فسطائی نظریہ والی قیادت عروج پکڑتی ہے تو بھارت کے مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اس کا مقابلہ کرکے سیکولر مزاج قیادت کو حکومت کے ایوانوں میں پہنچاۓ۔اگر بھارت میں ہندو راشٹر کی آواز بلند ہوتی ہے تو سیکولر قیادت کے پوسٹر بواۓ مسلمانوں کی طرف نظر امید سے دیکھتے ہیں کہ شاید اس بار بھی وہ میری دغابازیوں کو بھول کر میری فرش راہ بننے کےلئے تیار رہیں گے ۔اور جب کبھی فسطائی طاقت ابھر کر اقتدار پر قابض ہوجاتی ہے تو وہ بھی مسلمانوں کے پچھلے زخموں پر نمک پاشی کے لیے سب کا ساتھ ،سب کا وکاس اور سب کا وشواس،کا سلوگن گلی کوچوں میں بجاتے رہتے ہیں ۔اور سیکولر کے نام پر کمیونل پولیٹکس کو بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔
سیکولر جام سےپیدا کی گئی مدہوشی جب کبھی میرے سرسے اترتی ہے ،جمہوری ملک میں ہونے کا خمار میرے دماغ سے زائل ہوتا ہے تو مجھے نظر آتا ہے کہ یہاں پر سیکولر اور کمیونل دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں جب سیکولرزم کا پلڑا کمزور نظر آتا ہے تو سیکولر قیادت کو کمیونل ایکٹیویٹی کرنے میں دیر نہیں لگتی ۔اور جب کبھی کمیونل پولیٹکس کرنے والوں کو سیکولر مسالے کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کو سیکولر بننےمیں دیر نہیں لگتی اور ان دونوں کے بیچ ہمیشہ مشکوک قرار پاتے ہے وہ لوگ جو سیکولرزم کا پٹا نہ تو نکال سکتے ہیں اور نہ اتار سکتے ہیں ۔بالآخر ہم کہنے کو مجبور ہیں کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو۔

