اٹوا، سدھارتھ نگر: فلاحِ انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ اٹوا کے زیرِ اہتمام بمقام جامع مسجد ”پکڑی چودھری“ فضیلة الشیخ صفی الرحمٰن فرقانی حفظہ اللہ کی نگرانی، حافظ تنزیل الرحمٰن حجازی حفظہ اللہ کی صدارت جناب سیدعزیزالرحمٰن حفظہ اللہ کی نظامت میں مغرب و عشاء کے درمیان ایک دینی، اصلاحی جلسہ منعقد ہوا جس میں خطاب کرتے ہوۓ صدرجلسہ حجازی صاحب نے فرمایا کہ ”آج لوگوں کے اندر دینی ذوق ختم ہوتا جارہا ہے اسی کا اثر ہے کہ آج مسجدیں خالی ہوتی ہیں چند بزرگوں کے سوا مسجدوں میں جوانوں اور نوجوانوں کا طبقہ نظرنہیں آتا جب کہ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں لوگوں کو بیٹھنے کی جگہیں تلاش کرنی پڑتی ہیں کرسیاں خالی نہیں ملتی ہیں شیخ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ کہاکہ اس دین بیزار ماحول میں دینی جلسوں اور دینی محفلوں کی اہمیت مزیدبڑھ جاتی ہے دینی ودعوتی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانوں کو چاہیے کہ وہ زوالِ نعمت سے پہلے اس کی قدر کریں اور ہرطرح کی افراط وتفریط اور انحرافات سے دور رہیں ۔
جناب کلیم اللہ ریانی حفظہ اللہ نے اصلاحِ معاشرہ پر گفتگوکرتے ہوۓ کہا کہ شادی بیاہ کےلیے زوجین کےانتخاب میں دینداری کو ترجیح دینی چاہیے نیز بچوں کااچھانام تجویزکرناچاہیے ان کےلیے دینی وعصری تعلیم کا انتظام کرناچاہیے اور اولاد کو دینی ماحول فراہم کرناچاہیے جو خصوصا والدین کی ذمہ داری ہے۔
فضیلة الشیخ عبدالحسیب سنابلی نے حقوق العباد پرگفتگوکرتے ہوۓبطورِ خاص میراث کی بابت اظہارِ خیالات کیا انہوں نےکہا کہ وصیتِ الہی کو پورا کیا جاۓ ورنہ مال کی تطہیرنہیں ہوسکتی انہوں نے مزید کہا کہ جہیز کی اسلام میں کوٸی شرعی حیثیت نہیں ہے نہ جہیز کبھی میراث کا بدل ہوسکتا ہے مسلمانوں کوچاہیے کہ اللہ سے ڈریں کوتاہیوں کو چھوڑیں مکمل اسلام میں داخل ہوجاٸیں۔
جلسہ کا آغاز سیدعزیزالرحمٰن کی تلاوتِ قرآن کریم اور کلیم اللہ ریانی کے حمدیہ ونعتیہ کلام سے ہوا بوقتِ اذانِ جلسہ کا اختتام ہوا۔اس موقع پر کافی تعداد میں لوگ موجود رہے۔
