رفیع نعمانی مہراجگنج یوپی
اسلام ایک جامع اور مکمل دین ہے اس کے اندر کہیں سے کوئی کمی یا زیادتی نہیں کی جا سکتی ہے ۔اور اگر کوئی کرتا ہے تو وہ اللہ کے نزدیک مردود عمل ہے آج کل ہمارے مسلم معاشرے میں جہاں بہت ساری رسمیں پنپ رہی ہیں وہیں ایک رسم بد برتھ ڈے بھی بڑی تیزی سے پھل پھول رہی ہے جس کو” یوم پیدائش "کہا جاتا ہے اس میں جس کا جنم دن منایا جاتاہے وہ ایک کیک کاٹتا ہے اور سبھی محفل کے حاضرین ہیپی برتھ ڈے ٹو یو کہہ کر اس کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور تالیاں بھی بجاتے ہیں پھر کیک کو سبھی لوگ کھاتے ہیں اس کے بعد دعوت کھاتے ہیں اور جس کا برتھ ڈے ہوتا ہے اسے گفٹ پیش کرتے ہیں کہیں کہیں تو رقص وسرود کی محفلیں بھی گرم ہوتی ہیں کہیں پر میلاد کا بھی پروگرام ہوتا ہے جو اس موقع پر بہتر نہیں ہے اور بہت سارے خرافات انجام پاتے ہیں مسلمان اسے باعث ثواب سمجھ کر کرتا ہے اب تو بوڑھے جوان مرد وعورت بچے بچیاں سبھی دلچسپی سے اپنے جنم دن کو مناتے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا بھی ہے کہ یہ عمل اللہ تعالی کے نزدیک مقبول بھی ہے؟ یقینا یہ عیسائیوں کے کرسمس ڈے کی ہو بہو نقل ہے جو اسلام میں ناجائز اور حرام ہے امیر تو امیر غریب بھی کچھ کم نہیں ہیں وہ قرض لے لے کر اس رسم بد میں ملوث ہورہے ہیں یہ کام در اصل کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پروان چڑھ کر مسلمانوں کے گھروں میں پھلنے پھولنے لگا ہے اور اس کی ترویج و ترقی انپڑھ گھرانوں میں ہی نہیں بلکہ دیندار گھرانوں میں بھی ہونے لگی لبرل مسلمان تو پہلے ہی سے عیسائیت کو فروغ دینے میں مشغول ہیں گویا اس پرفتن دور میں دین پر عمل پیرا ہونےکو ایسے لوگ مشکل ترین بنانے میں کوشاں ہیں ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہوکر غیروں کے رسم ورواج کیوں اپنا رہے ہیں اور منع کرنے پر چھوڑنے کو بھی تیار نہیں حالانکہ انسان کی پیاری عمر برف کے مانند پگھلتی ہے سال پورا ہونے پر خوشی نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے کہ ہماری عمر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے غفلت میں گزر گئی لہذا ہم تمام مسلمانوں کو اس قبیح رسم سے بچنا چاہیے اور جو گناہ ہوچکےہیں ان سے توبہ کرنی چاہئے۔
