تحریر :ڈاکٹرمحمد نعمت اللہ ادریس ندوی

حج وعمرہ کی ادائیگی کے لئے ، ان کے طریقوں اور ضروری مسائل کا سیکھ لینا نہایت ضروری ہے؛ تا کہ اللہ کی یہ عبادتیں صحیح طور پر ادا کی جاسکیں اور قبولیت کا درجہ پا سکیں ، لہذامختصر طور پر عمرہ کا طریقہ پیش خدمت ہے۔

عمرے کا طریقہ:
۱ـــــ ـــ۔سب سے پہلا کام یہ ہے کہ میقات سے احرام باندھا جائے ،احرام باندھنے والے کے لئے سنت ہے کہ وہ ناخن اور زائد بال کٹوائے جن کا کٹوانا شریعت میں جائز ہے اور پھر اسی طرح غسل کرے جیسا کہ جنابت سے غسل کیا جاتا ہے اور بدن میں خوشبولگائے، احرام کے کپڑوں میں نہیں(بخاری:۱۵۳۹،۱۵۴۲ اور مسلم: ۱۲۱۸،۱۱۸۹،۱۱۷۷)۔
مردوں کے لئے یہ واجب ہے کہ سلے ہوئے تمام کپڑے اتار کر چادریں زیب تن کرلیںاور جوتے یا چپلیں پہن لیں ، احرام کے کپڑوں کے لئے سنت یہ ہے کہ دوصاف ستھری چادروں پر مشتمل ہوں (مسند احمد:۴۸۸۹)،جن میں سے ایک بطور تہ بند
استعمال کی جائے اور دوسری بدن پر اوڑھ لی جائے، جب کہ عورتیں اپنے معمول کے مطابق جو کپڑے پہننا چاہیں پہن لیں، لیکن خیال رہے کہ ایسے کپڑے نہ ہوں جن سے مردوں کی مشابہت ہو تی ہو یا ایسے بھڑکیلے یا چست نہ ہوں جو کسی فتنہ کا باعث بنتے ہوں۔
مزید یہ کہ عورتیں چہرے سے نقاب(چہرہ کا مخصوص لباس)اتارکر اس کی جگہ اوڑھنی وغیرہ ڈال لیں گی،البتہ اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں کہ اسے چہرے سے الگ رکھا جائے، اسی طرح اگر دستانے پہنے ہوں تو اسے بھی اتار دیں گی ؛اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوںکو حالت احرام میں نقاب اور دستانے سے منع فرمایاہے (بخاری: ۱۸۳۸ )۔
۲ ۔ فرض نماز کے بعد یا دو رکعت نماز، وضو کی سنت کی نیت سے پڑھنے کے بعد عمرہ کی نیت کر تے ہوئے تلبیہ شروع کر دے(مسلم:۱۲۱۸) ؛چنانچہ اس طور پر کہے:
’’اللّٰھُمَّ لَبّیْکَ عُمْرَۃً‘‘؛ ’’لَبّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبّیْکَ ، لَبّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ‘‘۔
(اے اللہ! میں عمرہ کے لئے حاضر ہوں،میں حاضر ہوں !اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں خاص تیرے ہی لئے حاضر ہوا ہوں ، بے شک تعریفیں اور نعمتیں اور بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیںہے )۔
لبیک کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ تو نے ہمیں حج اور عمرہ کرنے کا حکم دیا ہے اور میں تیری یہ دعوت قبول کر تے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر ہورہا ہوں۔ یہ تلبیہ
گویااب قاصد عمرہ کا ترانہ ہے، اسے چاہیے کہ طواف کی ابتداء تک والہانہ و نیازمندانہ پڑھتا اور دہراتا رہے۔
۳ ۔ محرم جب مکہ کے قریب پہونچے اور ممکن ہو تو اس کو چاہئے کہ شہر میںداخل ہونے سے پہلے غسل کرے ،اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساکیا ہے (بخاری:۱۵۷۳،۱۲۵۹)۔ جب مسجد حرام پہونچے تو عام مسجدوں کی طرح مسنون ہے کہ اپنا داہنا پائوں آگے بڑھائے اور یہ دعا پڑھے:
’’بِسْـمِ اللّـہِ وَالصَّـلوۃُ وَالسَّـلامُ عَلی رَسُـوْلِ اللـّـہِ ، اللّھُمَّ افْتَحْ لِیْ أبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘(سنن ابن ماجہ: ۷۷۲، صحیح)۔
(اللہ کے نام سے شروع کر تا ہوں اور درود وسلام ہو اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔
یہ وہی دعا ہے جو دوسری مسجدو ںمیں بھی داخل ہوتے وقت پڑھی جاتی ہے ۔
جب کعبہ شریف پر نظر پڑے، تو اسے اختیار ہے کہ دونوں ہاتھ اٹھا کر حسب توفیق جو چاہے دعا کرے کیوں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ثبوت ملتا ہے(مناسک الحج والعمرۃ از البانی:ص۲۰) ۔
۴ ۔ جب کعبہ کے پاس پہونچے تو طواف شروع کرنے سے پہلے ’’لبیک‘‘ کہنا بند کر دے اور ’’ اضطباع ‘‘ کرلے ۔ ’’ اضطباع ‘‘یہ ہے کہ احرام کی چادر کا بچلا حصہ اپنے داہنے کندھے کے نیچے کرلے اور اس کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر
رکھ لے۔پھر حجر اسود کے سامنے آئے اور ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ‘‘ (سنن بیہقی: ۹۲۵۶)کہتے ہوئے داہنے ہاتھ سے چھوئے اور بوسہ دے اگر ممکن ہوسکے ،لیکن کسی کو دھکا دے کر تکلیف نہ پہنچائے۔ اگربوسہ دینا مشکل ہو تو ہاتھ یا چھڑی سے اس کو چھوئے، پھر ہاتھ یا چھڑی کو بوسہ دے اگرچھونا بھی مشکل ہو تو ’’بسم اللہ واللہ اکبر‘‘ کہہ کر اشارہ ہی کرلے، لیکن جس چیز سے اشارہ کرے تو اس کو بوسہ نہ دے(الشرح الممتع از ابن عثیمین:۷؍۲۳۷)۔ اس کے بعد بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب کرکے یہ دعا پڑھتے ہوئے طواف شروع کردے :
’’اللّٰھُمَّ إِیْمَانًا بِکَ وَ تَصْدِیْقًا بِکِتَابِکَ وَوَفائً بِعَھْدِکَ وَاتّبَاعاً لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلّی اللّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ‘‘(سنن بیہقی: ۹۲۵۷)۔
(اے اللہ تجھ پر ایمان لا کر اور تیری کتاب کی تصدیق کرکے اور تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے)۔
طواف کے سات چکر ہونگے۔ پہلے تین چکر میں ’’رمل‘‘ کرے، ’’رمل‘‘ چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ اس طواف میں ہوتاہے جو مکہ آتے ہی سب سے پہلے کیا جائے، خواہ یہ طواف، عمرہ کا ہو یا تمتع کا یا قران کا یا افراد کا ،بقیہ چار چکروں میںمعمول کی رفتار سے چلے گا۔’’ اضطباع‘‘ بھی اسی طواف میں کرے گا،اس کے علاوہ دوسرے طواف میں نہیں کرے گا۔
طواف کا ہر چکر حجر اسود سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوگا ۔ہر چکر میں اگر ممکن ہوسکے تو رکن یمانی کو دائیں ہاتھ سے مس کرے(مسلم:۱۲۶۸)،اسے چومنے یا اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
دوران طواف رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے:
’’رَبَّّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الآخِرَۃِ حََسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘(مسند احمد)
(اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ۔اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا)۔
۵ ۔ طواف سے فارغ ہو کر دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے جو کہ مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کی جائے گی ،اگر وہاں مناسب جگہ نہ ملے تو مسجد کے کسی بھی حصے میں پڑھ سکتا ہے اور سنت یہ ہے کہ پہلی رکعت میں ’’قل یٰأ یھاالکافرون‘‘ اور دوسری رکعت میں ’’قل ھو اللّٰہ أحد‘‘ سورہ فاتحہ کے بعد پڑھے(مسلم:۱۲۱۸)۔
۶۔دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد مستحب یہ ہے کہ زمزم کا پانی پئے (۱۴)اور صفا و مروہ کے درمیان عمرہ کی سعی کے لئے روانہ ہوجائے جو کہ صفا سے شروع ہو گی اور مروہ پر ختم ہو گی۔
سعی کے لئے صفا کے قریب پہونچ کر یہ آیت پڑھے:
’’إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ ‘‘(البقرۃ:۱۸۵)
(یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں)۔
اور کہے : ’’ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہٖ ‘‘(مسلم:۱۲۱۸) (میں وہاں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ تعالی نے شروع کیا ہے) ۔
او رپھرصفاکی پہاڑی پر چڑھنے کے بعد کعبہ شریف کی طرف رخ کرکے اور ہوسکے تو دیکھتے ہوئے بغیر کسی اشارہ کے دونوں ہاتھ اٹھا کر تین تکبیریں کہے : ’’اللّٰہ أکبر، اللّٰہ أکبر، اللّٰہ أکبر‘‘اور یہ پڑھے:
’’لَاإِلہَ إلّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لا شریکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٍ، لَا إِلَہَ إِلّا اللّہُ وَحْدَہُ أَنْجَزَ وَعْدَہُ ، وََصَدَقَ عَبْدَہُ ، وَھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہ‘‘(سنن نسائی: ۲۹۷۲)۔
(اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لئے ہی تمام تعریفات ہیں اور وہی ہر شے پر قادر ہے۔معبود برحق اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے، وہ اکیلا ہی ہے ،اس نے
اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے بندے کو سچا کر دکھایا اور اس اکیلے نے ہی تمام لشکروں کو پسپا کردیا)۔
اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے اور ایسا تین بارکرے (سنن نسائی: ۲۹۷۲)۔
پھر صفا سے اترکر مروہ کا رخ کرتے ہوئے سعی شروع کردے۔ سعی کے دوران مذکورہ تکبیر و تہلیل دہرائے ،دوسری دعائوں کا اہتمام کرے اور بہ طور خاص طور اس دعا کا: ’’رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ تَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ الأعَزُّ الأکْرَمُ‘‘(سنن بیہقی:۹۳۵۹) (اے رب مغفرت فرما اور رحم کر اور وہ سبھی گناہ بخش دے جو تیرے علم میںہے توسب سے بڑا عزت وکرم والا ہے) ۔ میلین اخضرین کے درمیان دوڑتے ہوئے گزرے۔جب مروہ پہنچے تو دونوں ہاتھ اٹھا کر اسی طور پر تکبیر وتہلیل اور دعاکرے ، جس طرح کے صفا پر کیا تھا (سنن نسائی:۲۹۷۲) اور پھر دوسرا چکر شروع کرے۔ اس طرح سعی کے سات چکر ،ایک جاتے ہوئے دوسرا آتے ہوئے ،مکمل ہونگے۔
۷۔سعی کرنے کے بعد اپنے سر کے بال کٹوائے یا منڈوائے اور منڈوانا افضل ہے(بخاری:۱۵۶۸ اور مسلم:۱۳۰۲) ، البتہ عورتیں صرف انگلی کے ایک پورکے برابر بال کے آخری حصہ سے کٹوانے پر اکتفا کریں گی (سلسلہ صحیحہ از البانی:۶۰۵)۔
اس طرح آپ کا عمرہ مکمل ہو جائے گا اور آپ کے لئے وہ تمام چیزیں جائز ہوجائیں گی جو احرام کی حالت میں آپ کے لئے ناجائز تھیں۔
عمرہ کی ادائیگی کر تے ہوئے اور پھر مکہ میں قیام کے دوران جن آداب اور ضروری باتوں کا خیال رکھناچاہئے ان میں سے بعض یہ ہیں:
۱۔اعمال عمرہ کی ادائیگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے مطابق اطمینان وسکون ، حضور قلب اورانابت الی اللہ کے جذبہ کے ساتھ کرے، تاکہ عمرہ کا بھر پور ثواب حاصل ہوسکے، اور اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو جاننے والوں سے پوچھ لے۔
۲ ۔ طواف کے دوران ،ان اذکار اور دعاؤں میں مشغول رہے جن میں جی لگے اور عبادت کا لطف محسوس ہو۔ دوسروں کے پیچھے ،بلا سمجھے محض رسمی طور پر دعاؤں کو دہرانا غیر ضروری فعل ہے اور ان دعاؤں کا بھی کوئی ثبوت نہیں جو ہر چکر کے لئے الگ الگ عام طور پر دستیاب کتابچوں میں لکھی ہوئی ملتی ہیں ۔
۳ ۔ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے دھکم پیل سے مکمل اجتناب کرے، غیر معمولی تکلف اور طویل انتظار سے بھی بچے ، اس کے بجائے صرف اشارہ پر اکتفا کر لینا حصول ثواب کے لئے کافی ہے ۔
۴ ۔ رکعتین طواف کی ادائیگی کے لئے مقام ابراہیم کے پیچھے اگر بھیڑ بھاڑ ہو تو الگ تھلگ اطمئنان کی جگہ تلاش کرے ، طواف کرنے والوں کے لئے رکاوٹ اور ایذارسانی کا ذریعہ نہ بنے ورنہ نیکی گناہ میں تبدیل ہو جائے گی ۔
۵۔مسجد حرام میںراستوں اورگذر گاہوں پر نہ بیٹھے تا کہ لوگوں کو مشقت نہ ہو ، لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر اور تکلیف پہنچا کر آگے جانے کی کوشش نہ کرے بلکہ جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھے اورجب نماز پڑھے تو خشوع وخضوع کا اہتمام کرے ۔
۶۔مکہ میں قیام کے دوران اس کا استحضار رکھے کہ اس بلدامین میں جس طرح نیکی کا ثواب چند در چند ہے ،اسی طرح معمولی برائیاں بھی سنگین ہو جاتی ہیں اور ان پرگرفت و سزا سخت ہے۔ چنان چہ جب تک رہے ہمیشہ حرم میں نماز کی پابندی کرے ، تلاوت کا اہتمام کرے ،اللہ کا ذکراور اس کی اطاعت و فرماں برداری میں لگا رہے ، نیکی اور ثواب کمانے کے لئے کوشاں رہے ، اور بیت اللہ کا طواف کثرت سے کرے۔
اللہ تعالی اعمال حج و عمرہ کو اچھی طرح سمجھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قبولیت سے نوازکر جنت الفردوس کا مستحق بنائے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے