تحریر : ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے، جس کی ادائیگی اللہ نے ہر اس مسلمان پر فرض قرار دی ہے ، جو دوسری شرطوں کے ساتھ ساتھ اس کی شرعی استطاعت بھی رکھتا ہو۔ وہ خوش نصیب جن کو اللہ نے دیار مقدسہ کی حاضری اور بیت اللہ کی زیارت کے شرف سے نوازااور حج کرنے کی سعادت بخشی،ان کا فرض بنتا ہے کہ اس نعمت عظمی کے شکریہ کے طور پر اس کی بھرپور کوشش کریں کہ اس عبادت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی واقع نہ ہو اور نہ کوئی کمی باقی رہ جائے جسے دین کے پانچویں رکن کی حیثیت حاصل ہے، اورظاہر ہے کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ فریضۂ حج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ادا کیا جائے ؛چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید یوں فرمائی:
’’لِتَاخُذُوْا مَنَا سِکَکُمْ‘‘ (مسلم:۱۲۹۷)( مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو)۔

حج کا طریقہ:
۱ ۔ حج کے لئے یوم الترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کی صبح کو حاجی اپنے مکان ہی سے جہاں وہ قیام پذیر ہے ،احرام باندھے۔ احرام کی تیاری اسی طور پر کرے جس کی تفصیلات عمرے کے طریقے کے ضمن میں بتائی جا چکی ہیں کہ زاید بال کٹوائے ، غسل کرے ،خوشبو لگائے وغیرہ وغیرہ اور ان باتوں کا خیال رکھے جو مردوں اور عورتوں کے لباس حرام کی بابت ذکر کی گئی ہیں کہ مرد بغیر سلی ہوئی دو سفید چادروں پر اکتفا کریںگے جب کہ عورتیں جو چاہیں پہن سکتی ہیں بشرطے کہ شرعی لباس ہو۔
پھر فرض نماز کے بعد ، یاد ورکعت نماز، وضو کی سنت کی نیت سے پڑھنے کے بعد، حج کی نیت کر تے ہوئے تلبیہ شروع کردے(مسلم:۱۲۱۸) ؛چنانچہ اس طور پر کہے:
’’اللّٰھُمَّ لَبّیْکَ حَجًّا‘‘ ؛ ’’لَبّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبّیْکَ ، لَبّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبّیْکَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ‘‘
(اے اللہ! میں حج کے لئے حاضر ہوں،میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں خاص تیرے ہی لئے حاضر ہوا ہوں بے شک تعریفیں اور نعمتیں اور بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیںہے )۔
۲۔پھرتلبیہ پڑھتے ہوئے منیٰ کی طرف روانہ ہو جائے اور وہاں ظہر،عصر
مغرب،عشااور فجر کی نماز اپنے وقت پر قصر پڑھے(بخاری:۱۶۵۵،۱۶۵۶،۱۶۵۷) ، اس طرح سے کہ چار رکعت والی کو دو رکعت ادا کرے۔
۳۔ ۹ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد عرفات کو روانہ ہوجائے اور وہاں پر ظہر اور عصر دو دورکعت جمع کرکے نماز ادا کرے، یعنی عصر کی دو رکعتیں ظہر ہی کے وقت میں ادا کی جائیں،جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے(مسلم:۱۲۱۸)۔ پھر سورج غروب ہو نے تک عرفات کے حدود کے اندر ہی قیام کرے اور قبلہ رخ ہو کر دعا کرے اور زیادہ سے زیادہ ذکر کر تا رہے کہ عرفات کا وقوف ہی حج کی روح ہے۔ خاص طور پر اس ذکر کی کثرت کرے :
’’لَاإِلہَ إلّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لا شریکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر‘‘(جامع ترمذی:۳۵۸۵)۔
(اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کا ملک ہے اور اسی کے لئے ہی تمام تعریفات ہیں اور وہی ہر شے پر قادر ہے)۔
جہاں تک اس پہاڑ پر چڑھنے کا تعلق ہے جس کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف کیا تھا ،تووہ نہ سنت ہے اور نہ ہی ضروری اور نہ ہی اس طرف رخ کرنا چاہئے ، ہاں ! اگر آپ اس کے پیچھے ہوں اور وہ قبلہ کی جانب ہو توکوئی حرج نہیں۔
۴۔جب سورج غروب ہو چکے تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائے اور راستے میں تلبیہ کا معمول جاری رکھے ۔ وہاں پہونچ کر مغرب اور عشاء کی نماز جمع
کرکے ادا کرے،جس میں عشاء کی نماز قصرا دو رکعت پڑھی جائے گی ۔ رات مزدلفہ میں بسر کی جائے اور فجر کی نماز اس کے اول وقت میں ادا کی جائے۔ نمازکے بعد دعا اور ذکر میںمصروف رہے ،یہاں تک کہ جب روشنی خوب پھیل جائے توسورج نکلنے سے پہلے منی ٰ کی طرف روانہ ہو جائے اورراستے میں تلبیہ پڑھتا رہے۔
کمزور وں ، بیماروں اور عورتوں کے لئے اجازت ہے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں منی روانہ ہو جائیں؛ تا کہ لوگوں کے ہجوم سے پہلے ہی جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارسکیں(بخاری:۱۶۷۹ اور مسلم:۹۱)۔جمرئہ عقبہ کی رمی کے لئے صرف سات کنکریاں مزدلفہ یا راستے سے ساتھ لے لے۔
۵۔منیٰ پہنچنے کے بعد مندرجہ ذیل اعمال انجام دئے جائیں:
(۱) جمرہ عقبہ جو مکے کی جانب ہے، اسے ایک ایک کر کے سات کنکریا ں مارے اور ہر کنکری کے ساتھ’’ اللہ اکبر‘‘ کہے۔ اس جمرے کی رمی کی ابتدا کرتے ہی تلبیہ کا سلسلہ بند کردے ۔
(۲)جس پر حج کی قربانی کرنا واجب ہو وہ اپنی قربانی کرے اور اس میں سے خود بھی کھائے اور فقراء میں بھی تقسیم کرے۔حج تمتع اور قران میں قربانی کرنا واجب ہے۔
(۳)سرکے بال منڈوائے یا کٹوائے ، مردوںکے لئے منڈوانا افضل ہے، جب کہ عورتیں اپنی چوٹیوں کے آخری حصہ سے ایک پور کے برابر بال تراش لیں۔
ان تین چیزوں میں ترتیب مسنون ہے (بخاری:۸۳ اور مسلم:۱۳۰۶)۔پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی جائے پھر قربانی کی جائے اور اس کے بعد بال منڈوائے جائیں ،بشرطیکہ یہ ترتیب آسانی سے برقرار رکھی جاسکے۔ اگر ترتیب برقرار نہ رکھی جاسکے تب بھی رمی کے بعد آپ اپنے بال کٹواکر یا منڈوا کر احرام کھول سکتے ہیں، اسے تحلل اول کہتے ہیں۔ لیکن عورتوں سے قربت کی ممانعت باقی رہے گی جب تک کہ طواف زیارت سے فراغت نہ ہوجائے اس کے علاوہ تمام وہ چیزیں جائز ہوجائیں گی جواحرام کی وجہ سے حرام تھیں۔
۶۔اب خوشبو وغیرہ لگاکر مکہ روانہ ہو اور طواف زیارت یا طواف افاضہ یعنی حج کا طواف کرے اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرے اگر حج تمتع کر رہا ہو اور اگر حج قران یا افراد کیا ہو اور پہلے سعی کرچکا ہو، تو اسے اب سعی کی ضرورت نہیں ہے ، بصورت دیگر اسے سعی کرنا ہوگی۔
۷۔طواف وسعی کے بعد دوبارہ منی لوٹ آئے اور گیارہویں اور بارہویں رات وہاں گذارے۔
۸۔پھر گیارہ اور بارہ تاریخ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کو سات سات کنکریاں مارے ،اس طرح کہ چھوٹے سے شروع کرے ،پھر درمیانے اور آخر میں جمرۂ عقبہ کی رمی کرے اور ہر کنکری کے ساتھ’’ اللہ اکبر‘‘ کہے۔ چھوٹے اور درمیانے جمرہ کو کنکری مارنے کے بعد،مسنون یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا مانگی جائے ۔
یہ یاد رہے کہ گیارہ اور بارہ تاریخ کو رمی ، زوال (یعنی ظہر کی اذان ) سے پہلے جائز نہیں۔
۹۔بارہ تاریخ کی رمی کے بعد اگر منی سے لوٹنا چاہے تو حاجی کو اس کی اجازت ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی منی کی حدود چھوڑدے اوراگر چاہے تو منی ہی
میں رہے۔ویسے ٹھہرنا بہتر ہے ، ایسی صورت میںتیرہ تاریخ کو زوال کے بعد رمی کرکے
وہاں سے روانہ ہو ۔
۱۰۔جب وطن واپسی کا ارادہ ہو تو طواف وداع یعنی رخصتی کا طواف کرے،جس میں بیت اللہ کے سات چکر لگائے جائیں گے اور دو رکعت نماز پڑھی جائے گی،البتہ وہ عورت جسے ماہ واری یا ولادت کی وجہ سے خون آرہا ہو اس پر طواف وداع ضروری نہیں۔

جہاں تک حج و عمرہ کے آداب کا تعلق ہے تو ان میں سے چند یہ ہیں:
(۱)صرف اللہ کی رضا وخوشنودی کے لئے حج ادا کرے ؛ لہذا ان تمام اسباب و مظاہر سے بچے جن مین فخرو مباہات او رریاکاری کا عنصر شامل ہو اور یہ دعا کرے:
’’الّلھُمَّ ھَذِہ حَجَّۃٌ لا رِیَائَ فِیْھَا وَلا سُمْعَۃَ‘‘(سنن ابن ماجہ: ۲۸۹۰، صحیح)
(اے اللہ کریم! میرے اس حج کو ریاکاری اور دکھلاوے سے پاک رکھ)۔
(۲)نیک اور صالح قسم کے ساتھیوں کے ساتھ رہے ،ان کی خدمت کرے اور اپنے ساتھ والے پڑوسیوںکے ساتھ حسن سلوک کرے،اسی طرح انتظامی امور سے متعلق مسائل و تکالیف پر صبروتحمل سے کام لے ۔
(۳)سگریٹ پینے اور اس کی خرید وفروخت سے بچے ،کیونکہ یہ ایک حرام چیز ہے ،آپ کے جسم اور ہمنشیں کے لئے مضر اور مال کا ضیاع ہے ، پھر سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی نا فرمانی پائی جاتی ہے ۔
(۴)مسواک کے استعمال کو خود معمول بنائے اور زمزم کے ساتھ تحفہ دینے کے لئے یہ بھی خریدے ،کیونکہ صحیح احادیث سے اس کی فضیلت ثابت ہے۔
(۵)عورتوں کی طرف دیکھنے سے بچے اوراس بات کی پوری کوشش کرے کہ
بھیڑ بھاڑ میں ان سے بدن ،ہاتھ نہ چھوئے۔ عورتوں کو بھی چاہئے کہ وہ مردوں سے مکمل پردہ اور اجتناب کریں۔
(۶)نمازیوں کی گردنیں پھلانگ کر ان کے لئے باعث اذیت نہ بنے ، لہذا قریب ترین جو جگہ میسر آئے وہیں بیٹھ جائے اور نماز کی ادائیگی میں اطمینان اور سکون اور خشوع وخضوع کو ملحوظ رکھے۔
(۸)دوران طواف ،سعی ،استلام حجر اسود،قیام منی ،رمی جمرات ، اسی طرح میدان عرفات جاتے وقت یا لوٹتے ہوئے اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آئے اور ان مواقع پر اپنے آپ میں نرمی پیدا کرنا ہی بڑا مقصد ہے۔
(۹)اللہ تعالی حی وقیوم کو چھوڑکر قبروں میں مدفون لوگوں سے دعا مانگنے سے بچے،کیونکہ یہ تو ایسا شرک ہے جس سے حج اور عمرہ بلکہ ہر قسم کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ
الْخَاسِرِیْن‘‘ (الزمر:۶۵) ( اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے) ۔
(۱۰) ان اعمال سے بچے جو تقدس حرم کے منافی ہو۔
(۱۱) اہل علم سے ربط رکھے اور مسائل کی معلومات کے لئے ان سے رجوع کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے