ابو احمد مہراج گنج

دادا اور پوتا رشتوں کی ایسی خوبصورت لڑی ہے جس کے بننے میں کم سے کم بیس سے پچیس سال امیدوں اور آرزوؤں کی شمع روشن رکھنی پڑتی ہے ۔ پھر کہیں جاکر ایک باپ کو پوتا نامی کھلونے سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے ۔ایک باپ کے کانوں میں لفظ” دادا "کا محبت بھرا جملہ گونجتا ہے اور دل کو فرحت بخش احساس ہوتا ہے ۔

جب میں اپنے بچوں کو اپنے دادا کی گود میں اودھم مچاتے ،ہلہ گلہ کرتے ،شرارتیں کرتے ہیں داڑھی اور سر کے بال پکڑ تے دیکھتا ہوں تو بے حد خوشی ہوتی ہے ۔اس سے میرے والد کے چہرے پر چمک آجاتی ہے ۔کچھ دیر کے لئے چہرے کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں ۔اور ملال بھی ہوتا ہے ۔کیوں کہ میں دادا کی گود میں کھیلنے اور ان کے داڑھی اور سرکے بال نوچنے میں ملنے والی لذت سے بےخبر ہوں ،اور دادا سے ملنے والی ڈانٹ اور اس کے بعد ملنے والے لاڈ اور پیار سے انجان ہوں۔

کبھی میں سوچتا ہوں دادا کے ہاتھوں کا لمس کس طرح سے محسوس ہوتا ہوگا ۔ان کے کندھے پر چڑھ کر گھومنے میں کتنا مزاآتا ہوگا۔ان کے سینے اور چہرے سے چپکنے والی گھڑی کتنی سہانی ہوتی ہوگی اور یادوں کے تہہ خانوں میں کس شکل میں محفوظ ہوجاتی ہوگی ۔مجھے یہ احساس اس لیے ہے کہ میں نے اپنے دادا کو بچپنے میں کھودیا تھا۔میں بہت ہی چھوٹا تھا اور وہ اللہ کو پیارے ہوگئے تھے ۔

جب کسی دادا کی گود میں پوتا آتا ہے تو دادا کے سامنے بھی یادوں کی ایک فلم چل جاتی ہے ۔دادا کو پوتے میں برسوں پرانا کھویا ہوااپنا بیٹا مل جاتا ہے،اورپوتا اس کھوئے ہوئے بیٹے تک پہنچنے کا ذریعہ نظر آتا ہے ۔

شاید اسی لیے دادا کو پوتے سے اپنے بیٹے سے زیادہ محبت ہوجاتی ہے۔اور وہ پوتا دادا کی زندگی کا جزو لاینفک بن جاتا ہے۔

یہ تو مشاہدہ ہوگیا ہے کہ مادہ پرستی نے ہم کو انسان سے مشین میں بدلنا شروع کر دیا ہے رشتوں کی حسیت اور اس میں موجود طمانیت کو بھی دفن کرنا شروع کردیا ہے، جبھی تو لوگ تلاش معاش کے لیے اپنے ماں باپ سے دور اور بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔ترقی کی چاہ میں اپنی نسلوں کو ان کی جڑوں سے جدا کرنے میں بھی تامل نہیں کر رہے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے خاندان مل جائیں گے جہاں دادا اور پوتے دونوں ہیں لیکن برسوں بعد بھی ایک دوسرے کو چھوکر محسوس کرنے والی لذت سے محروم ہیں۔

جہاں پوتے کو دادا میں انٹرسٹ نہیں ہے ان کو دادا کی ذات آثار قدیمہ کی عمارت سے کچھ کم نہیں لگتی ۔اب پوتے کو دادا کے کندھوں پر مزا نہیں آتا بوریت فیل ہوتی ہے۔اب پوتے کو دادا کی انگلی پکڑکر چلنے میں اکتاہٹ ہوتی ہے ۔اب پوتےکو دادا کی قمیض اور چشمے بھی اولڈ لگتے ہیں۔جبھی تو گھر کے دیوار پر لگی دادا کی تصویر بھی اب پوتوں کو پرانی لگنے لگی ہے۔خورشید حیدر نے خوب ہی کہا ہے کہ ۔

پوتے نے دادا کی فوٹو یہ کہہ کر باہر رکھ دی ۔

میرا البم نیا نیا ہے یہ تصویر پرانی ہے

 ہمارے اور ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے ہماری زندگی میں دادا،دادی بہت اہم ہیں ہمارے دادا دادی ہماری جڑیں ہیں ان کے تعاون کے بغیر ہم اپنا وجود نہیں رکھ سکتے ۔دادا ،دادی ہماری اور ہمارے بچوں کی زندگی کا سب سے ناگزیر حصہ ہیں ۔وہ اس تاریک دنیا کی روشنی ہیں ،ہمیں ان کی عزت اورخدمت کرنا چاہئیے ۔ہمیں ان سے جس قسم کی غیر معمولی محبت ملتی ہے ۔کوئی دوسرا انسان اس قسم کی محبت ہمیں نہیں دے سکتا یقیناًبہت ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے دادا دادی ابھی باحیات ہیں۔ ہمیں ان کی اہمیت اپنے بچوں کو بتانا اور سمجھانا چاہیے۔دادا دادی کے ساتھ وقت گزارنے کی تلقین بھی کرتے رہنا چاہیے۔ جس دن یہ شجر ہمارے آنگن سے جدا ہوجائے گا اس دن ہم کو اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوگا۔اور محسوس ہوگا کہ زندگی کی اس کڑی دھوپ میں ہم بے سایہ ہوگئے ہیں ۔

آندھیوں سے بچاکررکھو اپنے آنگن کا بوڑھا شجر

یہ شجر ہی اگر گر گیا پھر کہا نی سنائےگا کون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے