علماء ودانشوران نے صاحب تعریب وتحقیق کو مبارکباد پیش کیا
محمد نور الحسن خان قادری علیمی
دارالعلوم محمدیہ نعیم الاسلام گوونڈی،ممبئی
جس طرح ملکی سطح پر اردو زبان میں اہل سنت وجماعت کا دفاع کرنا ضروری ہے اسی طرح عربی ودیگر زبانوں میں بھی عالمی سطح پر اہل سنت وجماعت کا دفاع بہت ضروری ہے
ابھی تک یہ کتاب اہل سنت وجماعت کی طرف سے فتنئہ وہابیت و دیوبندیت کے سر کوبی کے لئے اردو میں تھی تو عرب ممالک میں سمجھنے وسمجھانے کے لئے دشواری ہو رہی تھی، اس دشواری کو ختم کرنے کے لئے استاذ محترم شہزادۂ فقیہ ملت حضرت مفتی ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری دام ظلہ کی کئی سالوں سے کوشش رہی تھی کہ اس کتاب کی تعریب وتحقیق کرکے عربی زبان میں چھپوایا جائے بحمداللہ حضرت کی کوششیں رنگ لائیں اور آج عربی زبان میں قاہرہ،مصر سے چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہے جس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے
(۱)حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین کتاب لکھی،تو اس کے رد میں خلیل احمدامبیٹھوی نے المھند لکھی پھر اس کے رد میں شیر بیشۂ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خان علیہ الرحمہ نے راد المھند علی المفند اور صدرالافاضل حضرت علامہ سید نعیم الدین مرادا آبادی علیہ الرحمۃ نے التحقیقات لدفع التلبیسات لکھی، مگر یہ کتابیں اردو میں تھیں اور المھند عربی میں جس کی وجہ سے عرب دنیامیں مشکل پیش آرہی تھی، اسی ضروت کو محسوس کرتے ہوئے ان دونوں کتابوں کی تعریب اور راد المھند کی تحقیق شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ازہار احمد ازہری دام ظلہ نے کی تاکہ اہل سنت جماعت کا کما حقہ دفاع ہوسکے۔
(۲) چنانچہ جب مفتی ازہار احمد امجدی ازہری صاحب دام بالفضل دو ہزار چودہ (2014) کے اواخر میں جامعۃ الازہر مصر سے بھارت آئےتو اس سے پہلے راد المھند کی تقریبا تعریب کرچکے تھے، پھر بھارت میں تقریبا ایک سال کے اندر ہی اس کی تعریب و تحقیق مکمل کردئے۔
(۳) حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ابھی تقریظ و غیرہ لینے کی کوشش جاری تھی کہ اسی درمیان عالی جناب میثم عباس قادری، پاکستان سے گفت و شنید ہوئی تو انہوں نے التحقیقات عربی مترجم کی تصحیح کے لیے کہا تو میں نے کہا تصحیح میں بہت وقت لگے گا، اس لیے میں اس کی از سرنو تعریب کردیتا ہوں، لہذا عالی جناب میثم عباس صاحب نے التحقیقات کی تحقیق کی تھی، اسی پر اعتماد کرکے جلد ہی اس کی تعریب کردیا۔
(٤) جس میں تقریظ جلیل حضرت علامہ مفتی قاسم صالح محمد کریم الیمنی صاحب قبلہ نے تحریر فرمایا۔
اور تقریظ جمیل حضرت علامہ مفتی فیضان المصطفی صاحب قبلہ نے رقم فرمایا۔
اور مقدمہ صاحب تعریب وتحقیق شہزادۂ فقیہ ملت مفتی ازہار احمد امجدی صاحب قبلہ نے زیب قرطاس فرمایا۔
(۵) اس کے بعد مکتبہ کے انتخاب، عرب و ہند کے علما سے تقاریظ حاصل کرنے میں تقریبا چھ سال گزر گیے، بہر حال انتھک کوششیں رنگ لائیں اور عربی و بھارتی علما کی تقاریظ کے ساتھ قاہرہ مصر کے مکتبہ دار الصالح سے کتاب ماہ شوال کے آخر میں چھپ کر منظر عام پر آ گئی۔
کتاب منظر عام پر آتے ہی متعدد علماء کرام نے صاحب تعریب وتحقیق مفتی ازہار احمد امجدی ازہری کو دعاؤں اور حوصلہ افزا کلمات سے نوازنے کے ساتھ مبارکباد پیش کیا،خاص طور سےحضرت مولانا ابرار شافی یمنی، یو کے سے،مولانا محمد کلیم ،حضرت علامہ مولانا حق النبی سکندری ازہری پاکستان، مولانا عمران احمد ازہری،مولانا شاہد رضا نوری، اور مولانا مدثر حسین صاحب کے علاوہ متعدد علماء کرام نے مبارکباد پیش کیا
(6) عالی جناب میثم عباس صاحب، مولانا سیدمحمد زرقانی ازہری صاحب یو کےجنھوں نے کتاب کی طباعت کا بار اٹھایا، اورمولانا شیراز ازہری صاحب اور تمام پاک و ہند کے علما، جنہوں نے اس کتاب کی تحقیق و طباعت میں حصہ لیا وہ سب قابل مبارک باد ہیں۔
مولی تعالیٰ اپنے حبیب صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ وتوسل ان تمام حضرات کے کاموں کو اپنی بارگاہ مقدس میں قبول و مقبول فرمائے اورمزید اسی طرح دین متین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اور استاذ محترم شہزادۂ فقیہ ملت صاحب قبلہ دام ظلہ جو فی الحال زیارت حرمین شریفین کے لئے گئے ہوئے ہیں اللہ ربّ العزت انھیں حج مبرور عطا فرمائے اللہم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
