ابو احمد مہراج گنج 

جب کوئی دل محبت سے معمور ہو جاتا ہے۔جب کسی کے دل میں کسی کی چاہت گھر کرلیتی ہے ۔جب کسی کے دل میں کوئی تصویر آویزاں ہوجاتی ہے ۔ جب کسی دل میں بے قراری و بے سکونی پیدا کرنے کی وجہ بن جاتی ہے تو وہ دل ! دماغ سے فیصلہ لینے کے بجائے جذبات سے فیصلے کراتا ہے اور اس فیصلے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہتا ہے تم اپنی کرنی کر گزرو۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔

جب کوئی انسان کسی شئے کی محبت میں گرفتار ہوکر اس منزل میں پہنچ جائے کہ "جو ہوگا دیکھا جاۓگا”۔تو پھر ایسے انسان کے لئے فضائل اور مسائل بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں وہاں صرف محبت کی لینگویج چلتی ہے ۔

موجودہ وقت کی محبت /بھگوا لو ٹرپ جب اپنی آخری منزل پر پہنچتا ہےتو آدمی لذت کے حصول اور ضرورت کی تکمیل پر منحصر ہوا رہتا ہے۔

اوپر جو گول مول اور مبہم سی باتیں ذکر کی گئی ہیں ان کی تفسیر عصر حاضر میں یہ ہےکہ جب ہماری بہن بیٹاں کسی غیر مسلم ،کسی مشرک کے دام محبت میں الجھ جاتیں ہیں

اور رفتہ رفتہ موجودہ وقت کی محبت /بھگوا لو ٹرپ کے آخری نقطہ حصول لذت اور تکمیل ضرورت تک پہنچ جاتی ہیں تو ان کو فضائل و مسائل کی پرواہ نہیں رہتی ہے ان کی نظر ان کے محبت کی آخری منزل پر بنی رہتی ہے کہ لذت کا حصول اور ضروریات زندگی کی تکمیل ہوتی رہے۔اور یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے سمجھنے میں ہم کو دشواری پیش آ رہی ہے ۔ہم مرتد ہورہی بہنوں/ بیٹیوں کے لیے فکر مند تو ہیں لیکن کس قدر ؟ منبر ومحراب سے، عظیم الشان اجلاس عام اور اصلاح معاشرہ کے اسٹیج سے صرف فضائل اور مسائل بیان کرکے اپنا فریضہ محبت ادا کررہے ہیں ۔جبکہ محبت کی اصل پریشانی یہی ہے کہ محبت زدہ شخص فضائل ومسائل سے بے نیاز ہوتا ہے خیر خواہی اور ناصحانہ کلمات سے متنفر ہوتا ہے جیسا کہ غالب نے بتایا تھا "یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح۔” "کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا”۔

اس لئے ہمیں اپنا طریقہ علاج بدلنا ہوگا۔ نہیں تو ہمارے علاج سے بیمار محبت کا حال اچھا نہیں ہوگا بلکہ وہ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” کا مصداق بنتے جائے گا۔ وہ اپنی ڈگر پر اور تیز گام ہوتے جائے گا۔

غیروں کو کوسنے اور ان میں خامیاں نکالنے سے زیادہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے معاشرے کا محاسبہ کریں ،اپنی طرز معاشرت پر ایک سرسری نظر ڈالیں دیکھیں ،سوچیں ، غور وفکر کریں کہ آخر کمی کہاں ہے خامی کدھر ہے ہماری چہار دیواری میں شگاف کدھر ہے جہاں سے ڈاکو چور اچکے ہماری بہن بیٹیوں کے ایمان عزت و عصمت پر ڈاکہ زنی کرنے میں کامیاب ہو تے جارہے ہیں ۔اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں۔

بے خودی بے سبب نہیں غالب

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے