ابو احمد مہراج گنج۔

نومبر 2004 میں میری ملاقات ایک شخصیت سے ہوئی اور وہ ملاقات اتنی کامیاب رہی کہ میں چھ سال تک اس شخصیت کے زیر انتظام درس وتدریس کے ساتھ انتظامی امور میں بھی ان کا معاون بن کر کام کرتا رہا۔لیکن اس مدت میں مجھے ان سے کوئی شکوہ شکایت اور غلط فہمی پیدا نہیں ہوئی۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ایک جونیئر کو اپنے باس سے ایک ملازم کو اپنے آقا سے اور ایک استاذ کو اپنے مہتمم اور پرنسپل سے شکایت نہ ہو ۔لیکن میں بخدا کہہ سکتا ہوں وہ ذات ایسی تھی کہ اس کے زیر عاطفت میں اس کے نگرانی میں کام کرنے والے کو ،اس ذات باکمال سے کوئی رنج پہنچا ہو کوئی تکلیف ہوئی ہو شکایت ہوئی ہو ۔وہ ذات گرامی تھی حضرت مولانا محمد جنید عالم ندوی رحمۃ اللہ علیہ ہمایوں پور گورکھپور کی۔

کل بروز سہ شنبہ بتاریخ 13/6/23 شام سات بجے میرے ایک محترم دوست کے ذریعہ ایک حادثہ فاجعہ کی خبر موصول ہوئی کہ مولانا جنید عالم صاحب ندوی اس دارفانی سے دار ابدی کو کوچ کرگئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔اس خبر نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ایک مسکراتا گورا روشن چہرا اوراس چہرے پر طمانیت کاوقار چشمے کے پیچھے مقناطیسی آنکھیں کسی شخص کو اپنا گرویدہ بنا لینے کے لیے کافی تھیں ۔

اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مولانا ندوی مرحوم اپنے آفس میں بیٹھے ہوتے اور مجھے آفس میں جانا ہوتا میں کام کے بوجھ سے الجھن کا شکار رہتا لیکن مولانا کے پرکشش چہرے پر نظر پڑتی اور مجھے اطمینان قلب ہوجاتا کہ چلو حضرت موجود ہیں ۔کبھی میں سلام کرنے میں کامیاب ہوجاتا تو کبھی مولانا مرحوم کی مشفقانہ دعائیں سبقت حاصل کرلیتی تھیں ۔

مولانا کبھی کبھار دوپہر کا کھانا مدرسے میں ہی کھاتے اور اس قدر ذوق وشوق سے روٹی دال کو تناول فرماتے کہ ہمیں رشک آجاتا کہ جس کھانے کوہم کبیدہ خاطر ہی پیٹ میں اتارتے ہیں اسی کھانے کو حضرت کس قدر خوش ذوقی وخوش خلقی سے سبحان اللہ الحمد للہ کے شکرانے کے ساتھ کھاتے ہیں ۔

مولانا مرحوم ایک سادہ زندگی بسر کرنے والے اعلیٰ ظرف کے حامل انسان تھے۔آدمیوں کی اس بھیڑ میں ایسے انسانیت نواز انسان بہت کم ہوتے ہیں ۔

مولانا مرحوم عام طور پر ظہر اور کبھی کبھار عصر کی نماز ہمارے ساتھ مدرسے میں پڑھتے تھے لیکن چھ سال کی مدت میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ کسی شاگرد اور کسی طالب علم سے وضو کے لیے پانی مانگا ہو ۔لکھنے اور دیکھنے میں یہ بہت چھوٹی سی بات ہے لیکن برتنے میں بہت مشکل امر ہے۔

میں نیا نیا فارغ ہوکر مدرسے میں لگا تھا تو مجھ سے موبائل چلانے اور کمپیوٹر کی بیسک باتیں بڑی توجہ سے سنتے اور فرماتے تھے کہ مولانا اگر ہم جدید علوم سے آراستہ نہیں ہوں گے تو اپنے موروثی علوم کی تعلیم بھی درستگی کے ساتھ نہیں دے سکیں گے۔اور موروثی علوم کی حفاظت میں ناکام ثابت ہوں گے۔

مولانا مرحوم وسیع المشرب واقع ہوئےتھے ۔حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علوم ومعارف کے شناساں تھے۔مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے مداح تھے ۔

مولانا جنیدعالم صاحب ندوی مرحوم کو حکمت اور طبابت میں کامل دسترس حاصل تھی دہلی اور امرتسر میں ہمدرد کے حکیم کے بطور خدمات انجام دے چکے تھے ۔

گورکھپور شہر کے ایک وسیع حلقے کو اپنے اعلیٰ کردار عمدہ گفتار اور سنجیدہ برتاؤ سے اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا ۔تین چار دہائیوں تک گورکھپور کے علمی و ادبی محفلوں کی جان سمجھے جاتے صدارت اور قیادت ان کےہی سپرد کی جاتی تھی ۔

مولانا ندوی مرحوم کبھی کبھی ظریفانہ گفتگو بھی فرماتے تھے اور ہم سب کے چہرے پر تبسم کی جھڑی لگادیتے تھے ۔

ایک بار مجھے بطور مزاح نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا مدرسے میں اگر صابر کلیری بنوگے تو بھوکے مرجاؤ گے۔

پھر بعد میں واقعہ کی تفصیل بتاکر سمجھایا اور اپنے قیمتی تجربات سے بھی نوازا ۔

مولانا حدیث ،تفسیر تاریخ کے علاوہ سوانح جات پڑھنے میں کافی دلچسپی رکھتے تھے ۔ایک بار باتوں باتوں میں مولانا وحیدالدین خاں مرحوم کا ذکر خیر آگیا تو فرمایا کہ مولانا میں نے ان کو ندوہ کی طالب علمی کے زمانے میں بھی دیکھا تھا اور دہلی جاکر ان سے بارہا ملا ۔بتانے لگے کہ مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی طرح مطالعہ کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا جب مولانا وحیدالدین خاں صاحب کتابوں سے سر اٹھاتے تھے تو ان کی پیشانی اور کانوں کے اردگرد کی رگیں پھولی ہوئی اور چہرے پر تھکاوٹ کے آثار صاف محسوس ہوتےتھے۔

مولانا کی مجموعی زندگی نہ عسرت میں گزری اور نہ بہت فراوانی میں رب ذوالجلال نے بقدر کفاف مال و متاع سے نوازا تھا ،مولانا اتنا استغنا کے ساتھ زندگی گزارتے تھے کہ اگر وہ خالی جیب بھی ہوتے تو بھی کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ۔مجھے تو بارہا اپنا پرس بھی دکھاتے اور ہنستے ہوئے سمجھاتے تھے کہ زندگی کو اتنے متانت سے گزارو کہ سامنے والے کو آپ کے حالات کا ذرہ برابر بھی علم نہ ہوسکے ۔

وہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں پر بھی توجہ دیتے تھے ۔میاں صاحب اسلامیہ انٹرکالج میں ہونے والے مسابقاتی پروگرام میں مولانا بطور ججزکے بھی تشریف لے جاتے تھے اور جب ان کے مدرسے کے طالب علم کسی مسابقہ میں عمدہ پرفارمینس کرتے تو مدرسے میں آکر اس کی حوصلہ افزائی فرماتے اور اپنی جیب سے انعام بھی دیتے تھے ۔

کبھی کبھی بہت تھکے ہوتے تو کہتے مولانا ایک اچھی سی چائے پلوا دو اور چائے بھی اس طرح پیتے کہ ایک چسکی لینے کے بعد توجہ چائے سے ہٹ جاتی اور جب میں یاد دلاتا کہ حضرت چاۓ ٹھنڈی ہورہی ہے تو کہتے مولانا چاۓ کو تھوڑا تھوڑا ٹھنڈا کرکے پینا چاہیے ۔

میں نے طالب علمی کے بعد کی زندگی ان کو دیکھ کر ہی گزارنا سیکھی وہ جہاں ایک سلجھے ہوئے مہتمم اور پرنسپل تھے وہیں ایک عمدہ اور بہترین قسم کے استاذ بھی تھے۔تقریر وخطابت کا ملکہ حاصل تھا مجمع کو ہمہ تن گوش کرنے میں ماہر تھے اور عوام کی نفسیات کے مطابق خطاب فرماتے تھے ۔روایتی مقررین کی بنسبت زیادہ وقت نہیں لیتے آدھے ایک گھنٹے میں مجمع کو رلانے اور ہنسانے کا کام کرجاتے تھے۔

کہتے ہیں کہ انسان پر نام کا بڑا اثرپڑتا ہے میں نے جنید بغدادی کو تو نہیں دیکھا ہے ہاں جو کچھ ان کے متعلق کتابوں میں پڑھاہے ۔وہ سب اس جنید گورکھپوری میں کم وبیش موجود تھا۔بلاشبہ یہ گورکھپوری جنید تھے ۔

اللہ پاک کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ان کی قبر میں اور تاحشر ان کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں عافیت اور سلامتی کے ساتھ نومت العروس عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور خزانہ غیب سے مدد فرمائے آمین یارب العالمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے