ابو احمد مہراج گنج

عنوان دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کچھ واہیات قسم کی باتیں کروں گا ۔یقینا ایسا ہی ہے ۔اگر آپ کو واہیات باتیں پسند نہیں ہیں تو آپ اس کو یہی پر چھوڑ کر چلے جائیں ۔ ویسے اکبر آلہ آبادی کا ایک شعر ہے۔ (نقل کفر کفر نباشد ۔) شعر کچھ یوں ہے ۔

مذہبی بحث تو میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

 واٹس ایپ یونیورسٹی کے کچھ پروفیسر اور چند ریسرچ اسکالرز نے مجھے دوچار ویڈیوز بھیجے جس میں انھوں نے جنت میں ملنے والی "حور” پر ہو رہے اعتراضات کا جائزہ لیا ہے۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے ، اگر ہم کو جنت میں حور ملے گی تو تم بھی اس سے خالی نہیں رہو گے، تمھیں بھی سورگ میں اپسرائیں اور پریاں ملیں گی۔

میں سمجھتا ہوں رقابت کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے ۔ زعفرانی چہرے عداوت اور رقابت کے اس منزل میں پہنچ گئے ہیں کہ اب انھیں یہ بھی برداشت نہیں ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کو جنت میں”حور” کیو ں ملیں گی ۔ میں ان زعفرانی چہروں سے اور اپنے مذہبی بھائیوں سے کہنا چاہونگا کہ "حور "حاصل کرنے کے لیے”مرنا” پڑتا ہے اور ہم لوگ ابھی زندگی کی جنگ ہی نہیں جیت سکے تو حور ، پری ، اپسرا کیا خاک ملے گی ۔

بات جب حور پری اپسرا کی نکل چلی ہے تو پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ تینوں ایک ہی ہیں یا الگ الگ ہیں؟

حور کا ذکر مسلمانوں کی مذہبی کتابوں میں ہے، حور کہتے ہیں ۔ معشوق، نہایت حسین،  محبوب، گوری چٹی عورت کو جس کے آنکھوں کی پتلیاں اور بال بہت سیاہ ہوں ۔کسی شاعر نے اس حور کے ایک وصف کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ

ہاتھ سے اپنے اگر روشن کرے وہ حور شمع

روشنی پیدا کرے مثل چراغ طور شمع

لیکن ہمارے مذہبی رہنما بتاتے ہیں کہ یہ دنیا والی حور جس کے ساتھ ہم روز تو تو، میں میں اور گتھم گتھا کرتے ہیں، جنت میں جاکر اس جنتی حور سے بھی زیادہ خوبصورت ترین اداکارہ ہو جائے گی اور حد تو یہ ہے کہ وہ ان جنتی حوروں کی سردار بھی بن جائےگی۔ اللہ خیر کرے۔

پری انسانوں سے مشابہ نہایت حسین، محبوب، معشوق عورت کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پر ہوتے ہیں اور کوہ کاف اس کا مسکن ہے۔ اس کا ذکر مسلمانوں کے مذہبی کتابوں میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے ، بڑے ، بوڑھے، نوجوانوں کے خیالوں میں ہوتا ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ حور نہ سہی پری ہی مل جائے تو کچھ وجہ تسکین خاطر ہو جائے۔

اپسرا، سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں حسین عورت، جو اندر استھان میں رہتی ہے ، اور دیوتاؤں کا دل بہلاتی ہے ، اپسرا کے ایک اور معنے بیان کئے جاتے ہیں اپ بمعنی پانی ۔ سرا بمعنی بہتی ہوئی۔ مطلب ہوا کہ حسین عورت جو پانی کی طرح تیرتی اور ہواؤں کی طرح بہتی ہو یعنی بہت ہی نازک ۔ لطیف اور شفاف عورت۔

حور ۔ پری ۔ اور اپسرا کے معنی اور مطلب میں اتنی یکسانیت اور اتنی قربت ہے کہ کسی پر کسی کا شبہ ہوسکتا ہے اور کسی ایک کا مل جانا بھی تسلی بخش بن سکتا ہے ۔

اب میں یہ نہیں سمجھ پاتا کہ جنت میں پری ہی حور ہوگی یا اپسرا کو ہی جنت کی حور کہا گیا ہے ۔ یا حور کا نام ہی سنسکرت میں اپسرا ہے؟ جو بھی ہو تینوں ہیں تو کمال کی چیز۔ مگر اس سے بھی زیادہ کمال کی بات یہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب مرد کو عورت نامی لالی پاپ اور اس کے بمثل ہی پیش کرتے ہیں ۔ ایک چیز جو میرے زعفرانی بھائیوں کے حق میں جاتی ہے وہ یہ کہ مسلمان کو جنت میں صرف 72حوریں ہی ملیں گی ۔ لیکن زعفرانی بھائیوں کے دھرم شاشتروں کے مطابق ان کے لئے 1000 (ایک ہزار) اپسرائیں پلکیں بچھائے انتظار میں ہوں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب ان بھائیوں کو کوئی گلہ شکوہ نہیں ہونا چاہیے 72/کے مقابلے ان کے حصے میں 928 اپسرائیں زیادہ ہیں ۔

کیا ہم مرد اسی لائق ہیں کہ ان عورتوں کے حور پریوں کے لالچ میں ایک دوسرے سے لڑتے بھڑتے جھگڑتے رہیں؟ اور ایک دوسرے کی گردن مارتے رہیں ۔ تن کو سر سے جدا کرتے رہیں۔ اور حور پری اپسرا کے سنہرے خواب کے آرزو میں اپنا موجودہ آج بھی کل پر بھینٹ چڑھا دیں۔

ایک بات اور کہ جنت اور سورگ میں ان گنت نعمتیں ہیں، کیا ان سب کے متعلق ہم جان گئے ہیں؟ یا ہمارے واعظوں نے جنت کی ساری نعمتوں کا ذکر خیر سنا دیا ہے؟ جو اب حور پری اور اپسراؤں کے اوصاف، خصوصیات تین تین چار چار گھنٹے بانچھیں پھاڑ پھاڑ کے بتاتے اور سناتے ہیں اور اتنی حسرت دل میں رکھے ہوئے ہیں شاید کل ہی کوئی حور پری ملنے والی ہے۔

آپ بھی کبھی سوچ کر دیکھیں کہ آپ کے گھر آنگن میں جو حور پری اپسرائیں ہیں ان کو ساٹھ ستر سالہ زندگی میں تو کوئی دوسری عورت برداشت نہیں ہوتی تو کیا جنت اور سورگ میں وہ آپ کو حوروں ، پریوں اور اپسراؤں کے ساتھ برداشت کرلیں گی؟

اور اگر بالفرض وہ راضی بھی ہو جائیں تو کیا آپ کی ہمت اس کی اجازت دے گی کہ اپنی ہنٹر والی کے سامنے دوسری پریوں سے بوس و کنار ہوسکیں ۔ شاید غالب کے سامنے یہی سب سوال رہے ہوں گے جن کا تسلی بخش جواب نہ پاکر اس نے کہا تھا :

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے