ابو احمد مہراج گنج
ہم میں سے اکثریت نے یہ سن رکھا ہوگا کہ "فلمیں سماج کا آئینہ ہوتی ہیں” میں سمجھتا ہوں اس میں پوری سچائی نہیں ہے ۔بلکہ بھارت کی ہندی فلمیں اکیسویں صدی میں اقلیتی طبقے کی کردار کشی ،نفرت انگیزی،اور حکمران جماعت کی ہدایات کی پیروی میں تخلیق کی جارہی ہیں ۔یہ باتیں سن کر آپ میری شکل دیکھ رہے ہوں گے اور میری صورت پر لاحول ولا قوہ بھی پڑھ چکے ہوں گے ،ایک مولوی نما شکل اور فلموں پر گفتگو یہ کیا بے ہودگی ہے۔مجھے اس جرم کا اعتراف ہے ۔لیکن اپنے جیسے حلیے والوں کو بھارت میں ہورہے معاشرتی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا بھی اہم امور میں شامل ہے ۔
بھارت میں فلمیں تفریح کے دور سے گزر کر تفریق اور تذلیل کے لیے پرواز شروع کر چکی ہیں اور حالیہ برسوں میں خوب کامیاب بزنس بھی کری ہیں ۔ان فلموں کی نمائش کے جو مقاصد تھے ان کو حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی بہتر رہا ہے۔
اس سلسلے کی ابتدائی کوشش کچھ اس طرح سے کی گئی کہ فلموں میں جو منفی کردار ہوتے تھے یعنی غدار، مافیا ، ڈان،ولن ان کو مسلم نما بنا کر ،عربی رومال پہنا کر ،چہرے پر داڑھی اور سر پر ٹوپی لگواکر جب اس کیریکٹر سے کرائم سین۔عصمت دری۔لوٹ مار،آگ زنی ،ہفتہ وصولی جیسے مناظر فلمائے گئے تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ اس ذریعے سے بھگوا برگیڈ کے فلم ساز بھارت کے مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے اور مستقبل میں ان کے ساتھ بھید بھاؤ پیدا کرنے کی بنیاد کھڑی کر رہے ہیں۔ اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا فلموں میں یہ چلن عام ہوتے چلا گیا ۔منفی کردار ،یعنی غدار ،ولن کا نام ۔مسلم نام پر رکھا جانے لگا ،اس کو نماز پڑھتے اور قتل کی سپاری لیتے۔ہاتھ میں تسبیح سرپر عربی رومال کے ساتھ اغوا کرنے ،دارو،شراب کے ٹھیکے چلانے ۔سیکس کے اڈے اور بھڑوا گیری کے ایجینٹ کو مسلمان بناکر پیش کرنا اب فلم انڈسٹری میں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے ۔اس سے بھارت کے مسلمانوں کے کردار اور معیار دونوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے ۔اور عبدل نام اور عبدل کا کام یہیں سے نکل کر آیا ہے۔
بات جب تک چوری ،چماری،لوٹ مار کے مناظر تک محدود تھی تو اس کی خطرناکی بھی کچھ حد تک کم تھی ۔لیکن جب کردار کشی کے اس مہم میں مسلمانوں کے ساتھ ملک مخالف سرگرمیوں کو جوڑ دیا گیا ۔جیسے فلم "فنا”میں عامر خان کو دہشت گرد بناکر دکھایا گیا ۔یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جہاں سے ہندی فلموں میں مسلمان کو آتنک وادی اور ملک مخالف کاموں ملوث مناظر بنانے اور دکھا کر مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے کے مہم کی باضابطہ شروعات کردی گئی ۔اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کشمیر فائل نامی پروپیگنڈا فلم بناکر پورے ملک کے مسلمانوں کو مجرم قرار دینے کی طرف قدم بڑھا دیا گیا ہے ۔
اگر بات یہیں تک محدود ہوتی تو قدرے غنیمت اب تو مسلمان مردوں کی شبیہ بگاڑنے کے بعد نمبر مسلمان خواتین کا تھا ،جہاں اداکارہ کو مسلم لڑکیوں کے ڈریس میں پیش کرکے اس سے گندے فحش اور حیا سوز مناظر کروائے گیے وہیں پر مسلم لڑکیوں کو اکسانے اور بے راہ رو بنانے کی غرض سے ان کے غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ معاشقے کی خوب خوب فلمیں بنائیں گئیں ۔جن میں ایک مسلم لڑکی ایک غیر مسلم لڑکے کے عشق میں گھر سے بھاگ کر شادی کرلیتی ہے ۔اس پر بھی صبر کر لیا جاتا مگر اب تو باپردہ مسلم خواتین کو بھی ٹارگیٹ بناکر ایک فلم "لپ اسٹک انڈر مائی برقع ” نامی ریلیز کی گئی اور اس میں بھرپور طریقے سے برقع پوش مسلم خواتین کی کردار کشی اور مسلم خواتین کو جنسی خواہشات کی بھوکی دکھایا گیا۔ یہ ساری چیزیں ایک سیکولر ملک میں تفریح اور انٹر ٹینمنٹ کے نام پر ہوتی رہیں اور ہم ہمارے مذہبی ، سیاسی ،سماجی رہنما اپنی آنکھوں کو حیاسوز مناظر دیکھنے سے باز رکھنے میں لگے رہے،اورادھر ہماری پہچان، داڑھی، ٹوپی، رومال، تسبیح، جائے نماز کو شراب خانوں سے لیکر جوئے کے اڈوں اور مسجد کے صحن سے لیکر رقاصہ کے کوٹھوں تک رگیدتے رہے ،اور ہم ڈاڑھی پر ہاتھ پھیر کر تسبیح کے دانے گھماکر مطمئن بیٹھے ہیں ۔ابھی حالیہ دنوں میں ایک فلم ریلیز ہوئی ہے "دی کیرلا اسٹوری” جس میں فرضی دعوؤں کی بنیاد پر ایسا مواد پیش کیا گیا جس سے مسلم عورتوں مردوں سب کے کردار کو مشکوک بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور کچھ حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔
فلموں کے ذریعے سماج کے ۔متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف جو زہر کاشت کیا جارہا ہے اس کو اگر وقت رہتے کاوئنٹڑ نہیں کیا گیا ان کے مواد کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی گئی تو سلسلہ ہنوز جاری رہے گا ۔کیوں کہ ملک کے حکمران جماعت کو اس سے سیاسی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔اس لئے حکومت در پردہ ان کا تعاون بھی کرتی ہے اور ان کو شاباشی دیکر مزید نفرت انگیز مواد بنانے کی ہدایت بھی ۔
اب فلموں کے ذریعے کی جارہی منظم کردار کشی، منافرت انگیریزی ۔سماجی بائیکاٹ ۔اور اس جیسی دوسری برائیوں کی خبر ہمارے مذہبی جماعتوں کے قائدین کو تو بہت کم ہی ہوتی ہوگی کیونکہ یہ لوگ نہ تو فلمیں دیکھتے ہیں اور نہ ہی اس میں پیش کئے جارہے ایشوز سے واقف ہیں ۔اس لئے یہ ذمہ داری ہمارے سیاسی ،سماجی اور اسکول کالج یونیورسٹیز کے پروفیسر حضرات کی بنتی ہے کہ وہ بروقت ایسی فلموں کا تعاقب کریں اور اس میں کسی خاص کمیونٹی کی شبیہ کو داغدار اور کردار کو مشکوک بنانے کے خلاف آواز بلند کرنے میں پہل کریں ۔ممکن کہ تب تک مذہبی جماعتوں کے قائدین کو بھی اس کی خبر ہوجائے اور وہ بھی اپنا تعاون پیش کریں۔اور ہم کردار کشی کے اس منظم شازش کے خلاف ایک دیوار کھڑی کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔
خزاں سے ہار نہ جانا کسی بھی حالت میں
نمو ملے نہ ملے خواہش نمو رکھنا
