از ڈاکٹرمحمد نعمت اللہ ادریس ندوی

ہمارے دین اسلام کی نمایاں اور اعلی خصوصیتوں میں یہ ہے کہ ہماری بشری کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ نے احکام و عبادات میں بڑی آسانیاں پیدا فرمائی ہیں ،تا کہ ان پر بغیر کسی تکلف اور مشقت کے عمل ممکن ہو۔لہذا اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ نفس کو مشقت میں ڈالنا اور دشواری اختیار کرنا دین کا کمال ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے ۔اللہ کا فرمان ہے :
’’ وَ مَاجَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ‘‘ (الحجّ: ۷۸)
( اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی )۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ، وَلَن یُّشَادَّ الدِّیِنَ أَحَدٌإِلَّا غَلَبَہُ‘‘(بخاری: ۳۹، بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ )۔
(یقینا دین آسان ہے اور جس نے بھی دین میںکھینچا تانی کی ،تو وہ
شخص مغلوب ہو جائے گا)۔
یعنی یہ کہ وہ شخص خود ہمت چھوڑ بیٹھے گا اور اسے دین کی اصل خصوصیت، سہولت پسندی ہی کو اختیار کرنا پڑے گا۔
اسی بنا پر یہ بات باعث تعجب نہیں کہ فریضہ حج جسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور کمزوروں کا جہاد کہا ہے(سنن نسائی: ۲۶۲۶، بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)، اس کے احکام ومسائل میں آسانیاں اور سہولتیں رکھی گئی ہوں، لہذا آئیے ان میں سے بعض مسائل کا قدرے تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:
۱۔فریضۂ حج میں سب سے پہلی آسانی تو یہی نظر آتی ہے کہ دوسرے فرائض یعنی نماز و روزہ اور زکوٰۃ کے برخلاف اللہ نے حج زندگی میں صرف ایک بار فرض قرار دیاہے اور آج کل سفر حج کی کاروائیوں کی مشقت اور ازدہام کی کثرت کو دیکھنے کے بعد، کلام نبوی کی صداقت اور امت کے لئے جذبۂ شفقت کا ہم گویا اپنی ظاہر بیں آنکھوں سے مشاہدہ کررہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کی فرضیت کا اعلان فرمایا تھا اور لوگوں کو حج کرنے کی دعوت دی تھی تواس وقت ایک صحابی نے، جن کا نام اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ ہے ، بار باریہ سوال دہرایا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حج ہر سال فرض ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار سکوت اختیار کیا اور پھر ارشاد فرمایا :
’’لَوْ قُلْتُ نَعَمْ، لَوَجَبَتْ وَ لَمَا اسْتَطَعْتُمْ ‘‘(مسلم : ۱۳۳۷، بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)۔
(اگر میں ہاں کہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہوجاتا ور تم اسے ادا نہ کر پاتے)۔
۲ ـ۔ یوں تو عورتیں شرعی عذر کی بناپر نماز نہیں پڑھ سکتیں یا روزے نہیں رکھ
سکتیں ،لیکن حج کے لئے نکلی ہیں اور احرام سے پہلے انہیں عذر پیش آگیا ، تو ان کے لئے بھی جائز ہے کہ عام عازمین حج کی طرح غسل و صفائی کریں ،خوشبو لگائیںاور میقات سے احرام کی نیت کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور ذوالحلیفہ پہونچ کر بچہ کی پیدائش کی وجہ سے حالت نفاس میں آگئی تھیں، ان کو احرام کے لئے یوں حکم دیا تھا:
’’اغْتَسِلِیْ، وَاسْتَثْفِرِیْ بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِیْ ‘‘(مسلم : ۲۲۱۸، بروایت جابر رضی اللہ عنہ)۔
( غسل کرلو،ایک کپڑا باندھ لو اور احرام میں داخل ہو جائو)۔
عورتیں اگراحرام کے بعد بھی اس صوت حال سے دوچار ہو جائیں تو بھی یہی حکم ہے کہ سوائے طواف بیت اللہ کے سارے اعمال حج ادا کریں ،جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے عذر پیش آگیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا:
’’افْعَلِیْ کَمَایَفْعَلُ الْحَاجُّ، غَیْرَ أَنْ لَا تَطُوْفِیْ بِالْبَیْت
حَتّٰی تَطَّھَّرِیْ‘‘(بخاری: ۱۶۵۰ اور مسلم: ۱۲۱۱۱، بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا) ۔
( ہر وہ کام کرو جو حاجی کر تا ہے سوائے بیت اللہ کے طواف کے ، یہاں تک کہ پاک ہوجائو)۔
۳۔مردوں کے لئے احرام کے کپڑوں سے متعلق یہ رخصت دی گئی ہے کہ اگر اس کے پاس ازار یا چادر نہ ہو، مثلا بھول کر احرام کی چادریں بھی بقیہ سامانوں کے ساتھ ہوائی جہاز کے عملے کے حوالے کرکے جہاز میں سوار ہوگیا ،تو بوقت احرام عارضی طور پر پائجامہ پہن سکتا ہے اور اسی طرح اگرچپلیںاور جوتے نہ ہوں توپاؤں کی
حفاظت کے لئے چمڑے وغیرہ کے بنے ہوئے موزے پہن سکتا ہے ،جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ثابت ہے جو کہ صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مَنْ لَمْ یَجِدِ الإِزَارَ فَلْیَلْبَسِ السَّرَاوِیْل،وَ مَنْ لَمْ یَجِدِ النَّعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسِ الْخُفَّیْنِ ‘‘( بخاری : ۸۴۳، مسلم :۱۱۷۸، بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہما)
(جو شخص تہبند نہ پائے وہ پائجامہ پہن لے اور جو جوتے نہ پائے وہ موزے پہن لے)۔
یہ حدیث ائمہ اربعہ میں سے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کی دلیل ہے اور مزاج شریعت سے قریب تر ہونے کی وجہ سے زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے، دوسرے ائمہ نے موزوں کو پہننے کی صورت میں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹنے کو واجب قرار دیتے ہیں جس کی دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے اور وہ بھی صحیحین میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے لباس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ممنوع و ناجائز کپڑوں کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا :
’’ …إِلَّا أَحَدٌ لَایَجِدُ نَعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسْ خُفَّیْنِ وَ لْیَقْطَعْہُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ ‘‘(بخاری: ۱۵۴۲، مسلم :۱۱۷۷، بروایت ابن عمر رضی اللہ عنہما)۔
( …سوائے اس کے کہ کسی آدمی کے پاس پہننے کے لئے جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے او ران کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے)۔
لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
حالت احرام میں داخل ہونے سے پہلے مدینہ منورہ ہی میں ایک شخص کے سوال کے جواب میں ارشادفرمائی تھی اور یہ واقعہ مسجد نبوی میں پیش آیا تھا جیساکہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف روایتوں کو جمع کرکے نتیجہ اخذ کیا ہے(فتح الباری، حدیث نمبر : ۱۵۴۲ کی تشریح) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں خطبہ کے دوران بیان فرمائی تھی ؛ چنانچہ یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ موزوں کو کاٹنے کا حکم ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث سے منسوخ ہوگیا ؛ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں جم غفیر کے سامنے موزے پہننے کی اجازت دی مگر کاٹنے کا حکم نہیں دیا ۔ اگر ضروری ہوتا تو یقینا آپ وضاحت فرماتے جیساکہ نصوص شرعیہ کی روشنی میں علماء نے یہ اصول مستنبط کر رکھاہے: ’’ تأخیر البیان عن وقت الحاجۃ لایجوز‘‘( وضاحت طلب امر کی تفصیل، فوری طور پر نہ بتاناجائز نہیں )۔
۴- حجر اسود کو بوسہ دینے کا عمل، سنت طواف ہے اور سنت کی ادائیگی کے لئے کسی مسلمان کو تکلیف پہونچا نا جائز نہیں ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ حجاج کی ایک
بڑی تعداد اس گناہ کاارتکاب کر تی نظر آتی ہے، جب کہ ہماری شریعت نے لوگوں کو مشقتوں سے بچانے اور ایذاء پہنچانے کے گناہ سے باز رکھنے کے لئے یہ حکم دیا ہے کہ اگر بآسانی بوسہ لینا ممکن ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ ہاتھ یا اور کسی چیز سے چھوکر اسی کو چوم لے اور اگر چھونا بھی ممکن نہ ہو تو صرف ہاتھ سے اشارہ کر نے پر اکتفا کرے ۔ایذا رسانی کی ممانعت کی عمومی دلیلیں تو بہت ہیں ،مثلا یہ آیت کریمہ : ’’ وَ الَّذِیْنَ یُؤُذُوْنَ الْمُؤُمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِاحْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّ إِثْمًا مُّبِیْنًا‘‘(الأحزاب :۵۸ ) (اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں ،بغیر کسی جرم کے جوان سے سرزد ہوا ،تو وہ بڑے ہی بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں،لیکن ایک روایت بالخصوص حجر اسود کے سلسلے میں ملتی ہے جو کہ سندا تو ضعیف ہے مگر معنی کے اعتبار سے صحیح ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ کو یہ ہدایت دی : ’’ یَا عُمَرُ! إِنَّکَ رَجُلٌ قَوِیٌّ،لَا تُزَاحِمْ عَلَی الْحَجَرِ فَتُؤْذِیَ الضَّعِیْفَ، إِنَّ وَجَدتَّ خَلْوَۃً فَاسْتَلِمْہُ، وَ إِلَّا فَاسْتَقْبِلْہُ، فَہَلِّلْ وَکَبِّرْ ‘‘ (مسند احمد)
(اے عمر!تم طاقتور آدمی ہو، لہذا حجر اسود کے پاس دھکم پیل نہ کرو کہ کہیںکمزوروں کو تکلیف نہ ہو جائے ،اگر موقع ملتا ہے تو چومو، ورنہ اس کا استقبال کرکے تکبیر وتہلیل پر اکتفا کرو)۔
۵۔شریعت کی آسانی اس مسئلہ میں بھی نظر آتی ہے جو کہ رکن اعظم یعنی وقوف عرفہ سے متعلق ہے ۔ وقوف عرفہ ایسا رکن ہے کہ اگر چھوٹ جائے تو حج ہی نہیں ہوگا، اس کا کوئی بدل نہیں ۔ اس کا وقت جمہور علماء کے نزدیک نویں ذی الحجہ کو دوپہر کے
وقت سورج ڈھلنے سے لے کر دس تاریخ کی فجر تک رہتا ہے ، اس درمیان کوئی شخص تھوڑی دیر کے لئے بھی وہاں سے گذر گیا تو اس کا حج ادا ہو گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :
’’الحَجُّ عَرَفَۃُ، فَمَنْ جَائَ لَیْلَۃَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ‘‘(جامع اترمذی: ۸۸۹، بروایت عبد الرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ)۔
(حج عرفہ ہے،لہذا کوئی شخص مزدلفہ کی رات کو فجر کی نماز سے پہلیوہاں پہنچ گیا تو اس کا حج ہو گا)۔
یہ الگ بات ہے کہ چونکہ نو تاریخ کو سورج غروب ہونے تک میدان عرفہ میں اس شخص کے لئے وقوف واجب ہے جو دن میں وہاں پہنچا ہو، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے؛ لہذا اگر کسی نے اس کی مخالفت کی تو اس پر دم واجب ہو گا ۔لیکن کوئی شخص غروب کے بعد عرفہ پہونچ سکا ،چاہے فجر سے پہلے کسی وقت ہو، تو اس کا حج ہو گیا اور دم نہیں ہے، جیسا کہ حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے ، جو رات کو عرفات سے گذرتے ہوئے فجر کی نمازکے وقت مزدلفہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر مل سکے تھے، تو آپ نے ان کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا :
’’ مَنْ شَہِدَ صَلَاتَنَا ہٰذِہٖ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّی نَدْفَعَ وَ قَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذٰلِکَ بِعَرَفَۃَ لَیْلًا أَو نَہَارًا، فَقَدْ أَتَمَّ حَجَّہَ وَقَضٰی تَفَثَہُ ‘‘(جامع ترمذی :۸۹۱)۔
(جو شخص ہماری اس نماز میں مزدلفہ میں حاضر ہوا او رہمارے ساتھ
وقوف کیا یہاں تک کہ ہم کو چ کر جائیں اور اس سے پہلے میدان عرفات میں دن یا رات کے وقت وقوف کر چکا ہو، تو اس نے حج پورا کر لیا او راپنا میل کچیل دور کرلیا )۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں غروب آفتاب کے بعد عرفہ پہونچنے پر حج کو صحیح ٹھہرایا، لیکن دم واجب قرار نہیں دیا۔ اگر دم واجب ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور وضاحت فرماتے ۔
۶- وقوف مزدلفہ یعنی مزدلفہ میں رات گذارنے کے حکم میں بھی شریعت نے
کمزوروں ،عورتوں اور بچوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ فجر سے پہلے آدھی رات کے بعد کوچ کر جائیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت ثابت ہے اوراسی کی بنا پر حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کا اس پر عمل تھاجس کا ذکر صحیحین میں ہے اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام حضرت عبد اللہ کے حوالے سے روایت ہے (بخاری :۱۶۷۹، مسلم :۱۲۹۱)۔
لیکن طاقت وقوت رکھنے والوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کر تے ہوئے ،سورج طلوع ہونے سے تھوڑا پہلے، مزدلفہ سے نکلنا چاہئے۔ اس کی تائید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے بھی ہو تی ہے جو کہ حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ پچھلے صفحے میں پیش کی گئی کہ :’’ جو شخص ہماری اس نماز میں مزدلفہ میں حاضر ہوا او رہمارے ساتھ وقوف کیا یہاں تک کہ ہم کو چ کر جائیں اور اس سے پہلے میدان عرفات میں دن یا رات میں وقوف کر چکا ہے تو اس نے حج پورا کر لیا‘‘۔
۷- جہاں تک دسویں ذی الحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کا مسئلہ ہے ،تو اگر دین کی
سہولتوں کو مد نظر رکھا جائے ، تو یقینا نہ جان لیوا بھیڑ بھاڑ پیدا ہو اور نہ کسی کو تکلیف پہنچے ، چنانچہ اس سلسلہ میں جس طرح معذور و کمزور لوگوں، عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے پہلے ہی نکل آنے کی اجازت ہے، اسی طورپر ان کے لئے یہ بھی چھوٹ ہے کہ آفتاب کے نکلنے سے پہلے پہلے رمی کرلیں جیسا کہ صحیحین میں مذکور حضرت اسماء رضی اللہ عنہاکی حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے کہ جب ان کے غلام حضرت عبد اللہ نے طلوع آفتاب سے پہلے رمی پر ان سے کہا تھا :
’’أَیْ ہَنَتَاہُ فَقَدْ غَلَّسْنَا‘‘ أَیْ تَقَدَّمْنَا عَلَی الْوَقْتِ الْمَشْرُوْعِ ،فَقَالَتْ :
(بی بی صاحبہ! ہم نے تو وقت سے پہلے رمی کرلی، توانہوں نے فرمایا):
’’ کَلَّا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ النَّبِیَّ ﷺ أَذِنَ لِلظُّعُنِ ‘‘(بخاری :۱۷۶۹، ، مسلم (:۱۲۹۳)۔
( نہیں بیٹے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دے رکھی ہے)۔
بقیہ لوگ جو مضبوط وطاقتور ہیں ان کے لئے یقینا وقت آفتاب نکلنے کے بعد شروع ہو تا ہے اور اس کی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن سورج نکلنے سے پہلے رمی کرنے سے منع کیاتھا جب کہ ازواج مطہرات کے ساتھ ہی ان کو بھیج دیا تھا (مسند احمد) ۔لیکن رمی کا وقت دسویں تاریخ کوسارے دن رہتا ہے ،بلکہ علماء نے اس کی اجازت دی کہ اگر مشکلات کی وجہ سے دن میں نہ کر سکے تو اس دن اور اسی طرح گیارھویں اور بارھویں تاریخ کورات کو فجر سے پہلے پہلے کر لے ۔یہ جائز ہے،بلکہ بلا کراہت جائز ہے ؛کیوں کہ اس میں کوئی قباحت نہیں کہ رات کو دن کے تابع مان لیاجائے جیساکہ وقوف عرفہ کے مسئلے میں ہے ، اور رات کی رمی کے سلسلے میں اولا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ جب آپ سے ایک صحابی نے پوچھا کہ میں نے شام ہونے کے بعد رمی کی تو جوابافرمایا : ’’لَا حَرَجَ‘‘(بخاری : ۱۷۳۵، بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہ)( کوئی حرج نہیں)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمی کے سلسلے میں ابتدائے وقت کی تحدید تو ثابت ہے لیکن انتہائے وقت کی نہیں ( الشرح الممتع از ابن عثیمین ۷/ ۳۸۵ ، ۳۸۶)۔
اسی طرح کمزوروں ،بچوں، بیماروں اور معذوروں کوساتھ لے جانا بھی ضروری نہیں،ان کی طرف سے نیابت کرکے دوسرا حاجی بھی رمی کر سکتا ہے، اللہ کا فرمان ہے :’’فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ ‘‘(التغابن : ۱۶)( اللہ سے ڈرو جتنا ممکن ہو سکے) ،البتہ طاقتور مردوں اور عورتوں کے لئے وکیل بنانا جائز نہیں۔
دوسرے اور تیسرے دن بھی سورج ڈھلنے سے لے کر فجر تک رمی کا وہی مسئلہ ہے جو ابھی بتایا گیا ۔لیکن تیسرے دن یعنی بارہویں تاریخ کوغروب آفتاب کے بعد رمی کرنے والا منی میں قیام کرے گا اورتیرہویں تاریخ کی رمی کرکے واپس آئے گا۔
ویسے یہ بات گوش گذار کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ہلاکت خیز بھیڑ بھاڑ اور شدید مشقت کی بناپر بعض علما نے ایام تشریق کی رمی کا وقت زوال سے مقدم کرنے کا فتوا دیاہے۔ ’’علمائے متقدمین میں عطا و طاؤوس اس کے قائل ہیں ۔ احناف کے یہاں اس کا جواز بتایا جاتاہے‘‘ (الشرح الممتع۷؍۳۸۴)، لیکن عام طور پر اس کا فتوا نہیں دیا جا سکتا ، اس کا فیصلہ حالات کے مطابق علمائے وقت کی ذمہ داری ہے ۔
۸ – اعمال یوم النحریعنی رمی ، نحر ،حلق یا تقصیر اور طواف بیت اللہ کے سلسلے میں ایک مسئلہ غور طلب یہ ہے جو علما ان اعمال کی ترتیب کی سنیت کے قائل ہیں ،ان کے یہا ں تو قضیہ پیش نہیں آتا کہ ترتیب میں فرق پڑ جائے اور اعمال مقدم وموخر ہوجائیں تو کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ متفق علیہ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب دیا :’’افْعَلْ وَلَا حَرَجَ‘‘(بخاری :۸۳، مسلم : ۱۳۰۶، بروایت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ )(کرو کوئی حرج نہیں)، لیکن جو علما ترتیب اور بالخصوص نحر و حلق کے درمیان ترتیب واجب کہتے ہیں جیسے علمائے احناف، تو ان
کے سامنے یہ مسئلہ قابل غور ہے کہ قارن و متمتع حاجی اگر آج کل کی مشکلات کی وجہ سے خود قربان گاہ نہیں جا پارہا ہے اور اس نے کسی ادارہ یا بینک کو وکیل بنا رکھا ہے تو کیامحض موہوم اور ظنی وعدہ کی بنا پر حلق کرواکر اپنا احرام کھول دے؟میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی محتاط فیصلہ نہیں ہوگا الا یہ کہ کسی معتبر ذمہ دار سے ذاتی طور پر رابطہ ہوجائے اور وہ یقین دہانی کرائے کہ آپ کی قربانی ہو چکی ہے۔
لہذا ان تمام الجھنوں سے بچنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ ترتیب کے وجوب کے بجائے سنیت کو راجح مانا جائے اور اس پر عمل کرتے ہوئے دسویں تاریخ کے اعمال میںکسی مصلحت یا ضرورت کی بنا پر تقدیم وتاخیر کرنی پڑے، تو کوئی حرج نہ سمجھا جائے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔
۹ -حج کی آسانیوں میں یہ بھی ہے کہ جس عورت کو عذر شرعی پیش آگیا ہو اور اس کے لئے مکہ مکرمہ چھوڑنا بھی ضروری ہو گیا ہو، تو طواف وداع اس سے ساقط ہو جاتا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :
’’أَمَرَ النَّاسَ أَن یَّکُوْنَ آخِرُ عَھْدِھم بِالْبَیْتِ الطَّوَافُ إِلَّا أَنَّہُ خَفَّفَ عَنِ الْمَرْأَۃِ الْحَائِضِ ‘‘(بخاری : ۱۷۵۵، مسلم :۱۳۲۸)۔
( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہو نا چاہئے لیکن حائضہ عورت کے لئے چھوٹ ہے)۔
بلکہ حائضہ عورت نے طواف افاضہ جو کہ ارکان حج میں سے ایک رکن ہے اب تک نہیں کیاہے ا ورسفر کی مجبوری پیش آگئی ہے، مزید انتظار ممکن نہیں ، ساتھیوں کے چھوٹ جانے کا خطرہ ہے اور دوبارہ لوٹ کر آنا بھی دشوار ہے ، تو وہ مسجد کو نجاست سے بچانے کے لئے ضروری تدابیر اختیار کرکے طواف کرسکتی ہے ،جیسا کہ شیخ بن باز رحمۃ اللہ علیہ کا فتوی ہے(فتاوي تتعلق بأحکام الحج و العمرۃ و الزیارۃ از ابن باز ص ۱۱۱)۔ البتہ ایسی صورت میں احتیاط کا تقاضہ یہ ہے احناف کا مسلک اختیار کیا جائے کہ ارتکاب محظور کی وجہ سے اس پر دم واجب ہوگا ۔
محرم شخص کے لئے غسل کرنا ،احرام کی چادریں بدلنا، دھونا،سر کو کھجلانا، چھتری یا خیمہ کے ذریعہ سایہ حاصل کرنا ،ضروری چیزیں رکھنے کے لئے کمر پر پٹے باندھنا وغیرہ ،یہ سب کچھ جائز ہے اور دین کی آسانیوں کا حصہ ہے ۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ،اس پر چلنا آسا ن کردے اور ہمارے حج کو قبول فرمالے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے