سہارنپور(احمد رضا): اب تک جو خاموش رہے آج مجبور ہوکر بولنے لگے ہیں قابل احترام لیڈر شرد پوار نے کہا کہ بھاجپا جہاں جہاں کمزور ہو تی ہے وہاں فساد کرا دتی ہے جینت چودھری کے کارکنان نے بھی آج میرٹھ میں پولیس کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے بھاجپا منسٹرس اور لیڈران کی کھل کر شکایت کی اور کہا کہ اگر بھاجپا کے لیڈران کی گرفتاری نہی ہو گی تو ہم لوک دل کے سپاہی ریاستِ بھر میں بڑا آندولن سرکار کے خلاف چلانے کو مجبور ہوں گے! کوئی کتنا بھی احتجاج یا چیخ و پکار کر ے مگر بھگوا دہشت پسند افراد جو چاہتے ہیں بہ آسانی کر کے چلے جاتے ہیں انکے جرم کو سرکار ،پولیس اور سرکاری مشینری نظر انداز کر تے ہوئے الٹے شکایت کنندہ کو ہی ملزم بناکر جیل میں ڈال دیتی ہے، پچھلے نو سال سے اس ملک میں یہی فرعونی قاعدے قوانین رائج ہیں، کوئی سننے والا نہیں، اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے۔ ڈیڑھ ماہ سے خواتین ریسلر سڑک پر انصاف کے لئے بیٹھی ہوئی تھیں، کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا، چالیس دن سے منی پور جل رہا ہے، ہزاروں گھر ،چر چ اور تجارتی مراکز جلاکر راکھ کر دیئے گئے، لاکھوں افراد جان بچانے کے لئے جنگلوں میں پناہ لینے کو مجبور ہیں، سرکار کانوں میں روئی لگائے ہوئے ہیں، چاروں طرف مسلم افراد پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، مدھہ پردیش میں مسلم طبقہ کے افراد کے گھروں اور تجارتی مراکز پر بلڈوزر چل رہے ہیں، ہندو شدت پسند کھلے عام متھرا میں خواتین ایڈوکیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں، مقامی ممبر اسمبلی کا بھائی ایڈوکیٹ کی بے عزتِی کر تا ہے، پولیس معمولی بات کہہ کر خواتین وکیل کو ہی معاملہ رفع دفع کرنے کی رائے دیتی ہے۔

اتر پردیش میں اور اتر کاشی کے بیشتر حصہ میں مسلم طبقہ کو آج بھی دھمکی دی گئی کہ اترا کھنڈ خالی کرو ورنہ برباد کر دیئے جاؤ گے، اتنا ہی نہیں بلکہ پولیس اہلکار آج بھی مسلم افراد کو پہاڑ پر لوٹنے سے منع کر تے ہیں، بگھوا غنڈے جو چاہتے ہیں پولیس ان کا ساتھ دیکر وہ کر رہی ہے، مظلوم مسلم روزی روٹی کے لئے خون کے آنسو بہانے پر مجبور ہے، سب سے افسوسناک واقعہ یہ ہے کہ بھاجپا کانپور کی میئر نے کل کانپور شہر کے قریب تیس سال سے قائم مچھلی اور میٹ منڈی کو پولیس کے سامنے اعلانیہ طور سے طاقت کے استعمال سے نیست و نابود کر ڈالا غریب دکانداروں کا سبھی سازو سامان اور مچھلیاں ندی میں گرا دی اور جسنے بھی آواز نکالی اس پر پولیس نے خوب لاٹھیاں بر سائی ہیں لوگ پو چھتے ہیں کہ اس ملک میں یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے ایسا کرنے کے یہ ملک تیس کروڑ مسلمانوں سے خالی نہیں ہو سکتا بلکہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں مگر کوئی کچھ بھی سننے کو تیار نہیں، من کی باتیں اور من مانی چل رہی ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے