سہارنپور(احمد رضا): ملی رہنما اور سینئر سماجوادی قائد صابر علی خان نے کہا ہے کہ کشمیر سے امراوتی لوٹ رہے نظر علی کے اہل خانہ پر مدھیہ پردیش کے شیو پوری میں جس طرح سے قاتلانہ حملہ کیا گیا اور مسلم گھرانہ کو پٹتا ہوا دیکھ پولیس اور راہگیر تماشائی بنے رہے اس طرح سے ان دنوں اترا کھنڈ ،مہاراشٹرا ،راجستان اور اب ہماچل پردیش کے کلو (Kullu) علاقہ میں بھی لگاتار مسلم طبقہ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور نعرہ بازی اور جانی مالی نقصان پہنچا نے کی نیت سے بڑے حملہ کئے جا رہی ہے واضع ہو کہ جس طرح سے کچھ دن کے وقفہ کے دوران ممبئی کے ناسک ضلع میں بے خوف ہوکر چار مسلم افراد کو ہندو شدت پسند تنظیم کے افراد نے ہجو می تشدد کے ذریعہ ذبردست جانی اور مالی نقصان پہنچا یا جس کے نتیجے میں دو مسلم افراد ہلاک ہوگئے اور دو شدید ترین چوٹوں سے لڑ رہے ہیں ان حملوں کی جس قدر بھی مذمت کی جاۓ وہ کم ہے، ہندو دہشت گردوں کے حملہ میں عفان عبدالمجید انصاری اور ناصر قریشی بری طرح سے مجروح ہوئے ہیں کچھہ دیر بعد عفان انصاری نے موقعے پر ہی تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا ہے جبکہ ناصر اسپتال میں زیر علاج زندگی اور موت کے بیچ سانسیں لے رہا ہے اس واردات سے قبل بھی یہاں دو مسلم افراد پر اسی طرح سے حملہ کیا گیا تھا جسمیں لقمان انصاری نے بھی موقعے پر تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا تھا ہنگامہ کے بعد پولیس اہلکار معمولی سی سرگرمی دکھاتے ہیں اور مسلم طبقہ کو ہی خوف دلاتے ہیں تاکہ ہندو دہشت گردوں کو بچا یا جا سکے! صابر علی خان نے صاف صاف کہا کہ ملک میں جہاں ہندو فرقہ کے دہشت پسند نامزد قاتل افراد کو کھلا چھوڑا گیا ہے وہیں بے قصور مسلم نوجوان لوجہاد , گئو کشی اور اشتعال انگیز تقاریر کے جھوٹے الزامات میں لمبے عرصے سے سے جیلو ں میں بند ہیں ہریانہ اور راجستان کے مافیا مسلم طبقہ کے افراد کے کلیدی قاتل مونو ما نیسر بجرنگ دل کا سرگرم لیڈر ہے جبکہ مسلم نوجوان اوسط درجہ کے مظلوم شہری ہیں مزے دار بات یہ ہے کہ مونو کے خلاف بھوانی ہریانہ میں ایف آئی آر درج ہے، وہیں راجستھان پولیس کی فہرست میں بھی مونو نامزد ہے مگر کافی وقت کا عرصہ بیت گیا ہے، دونو ں ریاست کے پولیس اہلکار قاتل مونو کو گرفتار نہیں کر سکے واضع ہو کہ مونو ما نیسر اور اسکے ساتھیوں نے ناصر اور جنید دو مسلم افراد کو بری طرح سے مجروح کرتے ہوئے انکو بلیرو سمیت پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا تھا مگر آج تک اصل قاتل آزاد چھوڑے ہوئے ہیں جبکہ بے قصور مسلم نوجوان بے قصور ہونے کے باوجود بھی پچہلے ایک ہزار دنوں سے جیل میں مصیبتوں کو برداشت کر رہا ہے۔
بجرنگ دل کے قاتل افراد کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے سے تلملائے بجرنگ دل کے دہشت پسند افراد نے لگاتار زبردست احتجاج کیا اور قاتلوں کو آذاد کئے جانے کی مانگ کی مٹھی بھر مظاہرین نے گہلوت حکومت کیخلاف اشتعال انگیز نعرہ لگائے اور گہلوت سرکار سے معافی مانگتے کی مانگ دہرائی مگر پولیس نے کوئی معاملہ دہشت پسند افراد کے خلاف قائم نہی کیا۔ وشو ہندو پریشد اعلانیہ کلو میں مسلم افراد کے خلاف مار کاٹ کرنے کے لئے ہندؤں کو اکسانے پر بضد ہے۔ اس طرح کی سیکڑوں مثالیں ملک کے بیشتر علاقوں میں روز بروز دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہیں مگر ہندو مجرمین کے خلاف پولیس سخت کارروائی کرنے سے بچتی آرہی ہے جبکہ بے قصور مسلم طبقہ کے خلاف بلڈوزر چلانے اور ان کو بری طرح سے زد و کوب کر جیل میں ڈالنے سے ذرہ برابر بھی نہی ہچکچاتی ہے۔ اس طرح کا ماحول آج ملک کی بیشتر ریاستوں میں تیزی سے پنپ رہا ہے جبکہ قابل احترام عدلیہ اور سیکولر نظریات والے افراد بھی مسلم افراد کی تباہی پر تماشائی بنے ہوئے ہیں!

