محمد رضوان ندوی 

کے این پبلک اسکول نانپارہ، بہرائچ

خالقِ کائنات نے انسان کو الگ الگ خوب صورت ڈھانچوں میں اسی لئے ڈھالا ہے تا کہ انسان خلاق عالم کے کمال و جمال، قوت و سطوت اور فن کاری و بالادستی کا مشاہدہ کرے، اسی طرح ہر چیز کا عدم دوام، زوال و فنا اور مسلسل بدلاؤ اس حقیقت کو باربار، ہر آن اور ہر لمحہ ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے. دنیا کی ساری چیزیں انسان کے لئے ہیں اور انسان صرف اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں سے اپنے خالق و مالک کو پہچان لے اور سب کچھ جان اور سمجھ لینے کے بعد اپنی جبین نیاز سب سے بڑی، اعلی، ارفع، اکمل اور قادر ذات کے سامنے خم کر دے، اللہ نے قرآن میں جگہ جگہ دنیا کی چیزوں کو غور سے دیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی ہے، ایک جگہ ارشاد فرمایا

"اور وہی ہے جو اپنی رحمت یعنی بارش سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ (ہوائیں) بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان کو کسی مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیں پھر ہم اس پانی کے ذریعے زمین سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم روزِ قیامت مُردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت قبول کرو”

 

دوسری جگہ فرمایا” آسمان و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں قدرت کی نشانیاں ہیں”

 

کسی ملک، صوبہ، شہر، بستی اور گاؤں کی تاریخ اور بننے بگڑنے کے واقعات و حادثات میں بھی یہی عبرت اور تعارف مقصود و مطلوب ہوتا ہے، ہم جہاں رہتے اور بستے ہیں وہاں کے قدرتی وسائل، مناظر، پیداوار، نشیب و فراز، پہاڑ، جنگل، نہریں، جھیلیں، سڑکیں، مخلوقات،معدنیات, رہن سہن، بول چال، زبان، تہذیب، میلے، آب و ہوا، عذاب، حادثات، یادگاریں اور کارنامے ہمیں اور ہماری نسلوں کو بہت کچھ سکھاتے اور بتاتے ہیں، غفلت سے جگاتے ہیں اور آئندہ کے لئے ہوشیار اور خبردار کرتے ہیں. یہ زوال و فنا اور تغیر و انقلاب ہمیں ہر لمحہ فکر آخرت، رب سے لگاؤ و قربت، آپسی تعلق و محبت، اچھائی اور بھلائی کی چاہت اور بدی و برائی سے نفرت پر آمادہ کرتے ہیں، زندگی کی ہر ٹھوکر اور روز و شب کی ہر تبدیلی ہر دن کوئی نہ کوئی سبق اور سامان عبرت لے سامنے آتی ہے لیکن ہم سب نظر انداز کر دیتے ہیں اور غفلت کی چادر اوڑھ کر گہری نیند سو جاتے ہیں، کاش ہم سب عقل کے ناخن لیں اور اپنی آخرت سنوارنے کی فکر کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے