ابو احمد مہراجگنج

یہ لکھنے کا موضوع نہیں ہے لیکن قوم مسلم کی بے حسی ،خود پسندی ،اور خود غرضیوں کے عروج کے دور میں یہ بھی ایک موضوع ہوگیا ہے ۔امام مسجد ہوناخود میں بڑے اعزاز واکرام کی بات ہے۔اور شریعت اسلامی میں نمایاں مقام رکھتا ہے ۔امام کے ساتھ مروت ،مودت اور اکرام کے ساتھ پیش آنا،ہمارے ایمان اور اسلام کی سلامتی اور مذہب اسلام کے برتری کا باعث ہے۔

اس مادیت زدہ دور میں امام مسجد وہ شخص ہے جو توکل علی اللہ کا نمونہ اور تیقن باللہ کی عملی تفسیر ہے۔

میٹرو پولیٹن شہروں سے دور گاؤں اور دیہات میں بھی دہاڑی مزدور کی یومیہ اجرت ساڑھے چار سے پانچ سو روپے ہوگئی ہے۔لیکن امام مسجد چوبیس گھنٹوں کی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد بطور مشاہرہ آٹھ سے دس اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار پر قناعت کئے ہوئے ہیں۔

کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ 80فیصد امام مسجد پر نہ تو زکوٰۃ واجب ہو گی اور نہ ہی قربانی۔

وجہ ظاہر ہے کہ انکی آمدنی اتنی محدود ہے کہ مہینے بھر کا خرچ بھی بڑے کفاف اور احتیاط سے ہی پورا ہوتا ہوگا ۔تو زکات اور قربانی کے واجب ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔

لیکن آج میرا موضوع سخن یہ نہیں ہے ۔میری گفتگو آج اس بات پر ہے کہ ایام عید قرباں میں خواہی نخواہی ہم اپنے مسجد کے امام کو تو اپنے دسترخوان پر مدعو کر ہی لیتے ہیں ۔لیکن امام کے پس پشت جو ان کے اہل وعیال بیوی بچے ہیں کبھی ان کے متعلق بھی سوچا ہے ؟

ہماری مسجدوں کے امام بہت کم ایسے ہیں جن پر قربانی کا وجوب ہوتا ہے تو لازماً ان کے یہاں ایام قربانی میں گوشت جبھی پہنچے گا جب ہم پہنچائیں گے ۔لیکن ہم امام صاحب کو تو یاد رکھ لیتے ہیں مگر ان کے اہل وعیال کو بھول جاتے ہیں۔ بات بہت چھوٹی ہے، بات بہت چھوٹی ہے لیکن اثر بڑا رکھتی ہے ۔

تمنا ہے یہی مجھ کو ملے پھر وہ مقام قرب

کہ ہوں ہردم میرے لب پر میرے غمخوار کی باتیں

حقیقت میں ہیں پوشیدہ معانی سیکڑوں ان میں

نصر جن کو تو سمجھا ہے محض بے کار کی باتیں

مجھے امید ہے کہ اس بار عید قرباں میں ہم اپنے امام کے ساتھ ساتھ ان کے اہل وعیال کو بھی یاد رکھیں گے ۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے