انظر حسین اختر کرہی

مقیم حال کاجو پاڑہ ممبئی

ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادی

فضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے

ممبئی کا مشہور شہر کاجو پاڑہ جو اپنی صنعت و حرفت اور گارمینٹ کے کارخانوں کی کثرت کی وجہ سے دنیا میں اپنی امتیازی شناخت رکھتا ہے جسے ہندوستانی تہذیب کا عطر بھی کہنا غلط نہ ہوگا یہ اپنی اعلی اقدار دیرینہ روایات اخلاق و کردار سے معمور کرلا کا ایک مضافاتی حلقہ ہے ۔ کاجو پاڑہ کی ہر گلی کوچہ میں ایک اپنائیت کا احساس ہوتا ہے اسی احساس اور سلوک کے باعث اسے لوگ ضلع سنت کبیر نگر کا دوسرا تپہ اجیار بھی کہتے ہیں۔ یہاں ہر تیسرا،شخص اسی علاقہ کا رہنے والا ملے گا کاجو پاڑہ میں یہ میری تیسری عیدالاضحٰی تھی۔ عیدالاضحٰی کا تیسرا دن ہے ۔ مگر موسم میں ابھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آج بھی ممبئی کے کاجو پاڑہ کا موسم خوشگوار صبح سے وقفہ وقفہ سے کبھی موسلا دھار بارش تو کبھی بوندا باندی ۔ بادلوں بھری شام خنکی بھری ہوا اس سہانے موسم کو دیکھ کر مجھے میرے بچپن کے گاؤں کا موسم یاد ارہا ہے ۔ ایسا موسم میرا گاؤں کا بھی ہوا کرتا تھا جب ہم گاؤں میں ہوا کرتے تھے دیہاتی زبان میں اس طرح کی بارش کو ہتھیا کہا کرتے تھے لیکن ساون بھادوں سب سے معروف اور اسے عاشقانہ موسم کہا جاتا تھا ۔ لیکن ایک طویل عرصہ سے ہماری زندگی دیار غیر کی نذر ہوگئی جب ہم شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھے تو تعلیم کے لئے گھر سے دور ریاست کے کسی شہر چلے گئے اور جب جوانی کی دہلیز پر پہنچے تو روزگار کے سلسلہ میں آنکھوں میں مستقبل کا خواب سجائے ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ممبئی چلے آئے جب یہاں بھی خواب کو تعبیر نہ ملی تو 2003 میں سعودی عرب کے ایک شہر الأحساء روانہ ہوگئے اور وہاں اپنا 18 سالہ قیمتی وقت گزار دیا ۔ اور تلاش معاش نے حال سے بے حال کردیا۔ جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اگرچہ ابھی تک خواب کی تعبیر کی تلاش جاری ہے لیکن جو بھی ہے جیسا بھی سب پر اللہ کا شکر ہے۔ لیکن گاؤں کی یاد کبھی دل سے جدا نہ ہوئی اور یہ سچ بھی ہے کہ ہمارا گاؤں ہماری شناخت ہماری پہچان ہے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ہم اپنے گاؤں کو نہیں بھول پائیں گے ۔ میرے گاؤں سے میری بہت ساری یادیں وابستہ ہیں زندگی کی بے شمار یادیں میرے گاؤں سے جڑی ہیں لیکن افسوس یہ کیسی پیٹ کی بھوک ہے جو اپنوں کو اپنوں سے دور کردیتی ہے لیکن مٹتی نہیں ہے۔ زندگی بہت سارے لمحے زندگی کے اس سفر میں چھوٹ جاتے ہیں وقت گزرجاتا ہے وقت سرپٹ دوڑ جاتا ہے بھوک مٹانے کی ہوس میں رشتے ہاتھ سے چھوٹ جاتے ہیں زندگی ڈھلتی جاتی ہے لیکن پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے پردیش کی مشقت ختم نہیں ہوتی اپنے گاوں کی محبت بھی کیا چیز ہے جس میں کئی نئے لوگ پیدا،ہوتے ہیں تو کئی پرانے چھوڑ جاتے ہیں اس مرتبہ جس،کا مجھے شدت سے احساس ہوا جب گاؤں گیا اور ممبئی کے قیام کے دوران کئی مرتبہ گھر کا سفر ہوا بہت سارے لوگ فوت ہوچکے تھے اس فانی دنیا کو چھوڑ دائمی دنیا کو رحلت کرچکے تھے ۔ وہ سب اپنے تھے محفلوں کی رونق تھے خود میں ایک انجمن تھے کرہی کی شان تھے۔ گاؤں کی گلیاں اور چوراہے انکی غیر موجودگی سے اداس ہوگئے ۔ جس کو شاعر نے اپنے شعر میں اس درد کا اظہار کچھ اس طرح کیا ہے

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

مجھے اپنی زندگی کے گزرے لمحات کا کسک آج بھی ہے مجھے میرے گاؤں کی مٹی سے دور ہونے کا قلق آج بھی ہے جب گاؤں کی ہوک دل میں اٹھتی ہے تو دل مسل کر رہ جاتا ہوں آج بھی مجھے وہ لمحے یاد آتے ہیں ممبئی میں رہ کر اپنے پیاروں سے دور اپنی گلیوں اور کھیت کھلیان باغ و بہار سے بہت دور جہاں ہم ننگے پاؤں دوڑا کرتے تھے وہ کچے مکانوں میں پکے لوگ وہ غریبی میں امیر لوگ وہ سادگی میں کھلے دلوں کے لوگ وہ تالاب جہاں ہم گھر والوں سے نظر بچا کر گرمیوں میں نہایا کرتے تھے وہ لہلہاتے کھیت نیلے آسمان کے نیچے سرسوں کے پیلے خوبصورت پھول دھنیا کی بھینی خوشبو جو موسم بسنت میں فضا کو معطر کئے رہتی تھی یادوں کا ایک دریا ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے ایک لہر کے بعد دوسری لہر جگہ لے لیتی ہے ۔ گرمیوں میں وہ چھت پر سونا وہ صاف آسمان کے وقت تاروں کی طرف دیکھنا چاند پر بڑھیا کو چرخہ کاٹتے تکنا رات کو گاؤں کے بچوں کے ساتھ چھپ چھپائی کھیلنا ۔ جب ہم گاؤں چھوڑتے ہیں گاؤں میں رہنے والوں کو چھوڑتے ہیں بس یادوں کو ساتھ لیکر جاتے ہیں جہاں پر لوگ بڑے دل والے اور محنتی ہوتے ہیں جو بغیر ذاتی مفاد دیکھے۔ مدد کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں آپ سب ان کو چھوڑ دیتے ہیں عید اور دیوالی پر جلتے چراغ سے روشن ہونے والے گاؤں کو چھوڑتے ہیں ترقی کی راہ پر نکل کر گاؤں کو چھوڑ کر جاتے ہیں جس شہر میں ہوتے ہیں وہاں پر زندگی کی سبھی آسائشیں فراہم ضرور ہوتی ہیں مگر گاؤں جیسا سکھ اور اپنوں جیسی اپنائیت کبھی میسر نہین ہوتی ۔ اور نہ گاؤں والی زندگی ملتی ہے نہ وہ کچی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا گھر ملتا ہے جس کی بنیاد آپ کے باپ دادا نے اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی ۔ نہ وہ صحن مل سکتا ہے جہاں پر ہم نے پہلی مرتبہ چلنا شروع کیا تھا جہاں برسات میں گھر کے گرتے پرنالہ سے نہایا کرتے تھے اور بارش کے نہ ہونے پر کال کلوٹی کھیلتے تھے اس کے عوض ہمیں گاؤں والوں سے جو چاول اور دال ملتی اسے ہم کھچڑی بنا کر مل بانٹ کر بڑے شوق سے کھاتے تھے وہ کھانا بھی بڑا لذیذ ہوا کرتا تھا ۔ اب وہ دن بھی خواب ہوئے ۔ اور پہلی بارش پڑتے ہی مٹی کی خوشبو فضا میں اڑتی پھرتی تھی آپ کو وہ روشن دان بھی نہیں ملے گا جہاں سے صبح کی پہلی کرن جھانکا کرتی تھی اور پنچھی اپنا گھونسلہ بنایا کرتی تھی ۔

آج بھی میرے گاؤں میں وہ خاصیت موجود ہے صفائی کے فقدان کے باوجود تازہ میٹھا آم مختلف انواع کا پیدا ہوتا ہے جہاں امرود جامن سینگاڑا شریفہ دالان میں نیم کا درخت اور گڑ کا شربت ہر گھر میں آسانی سے مل جاتا ہے جہاں مٹی بھرے رستوں پر ہریالی اور ہزاروں رنگوں کی بہار اترتی ہے جہاں موسم پر وقت تغیر میں رہتے ہیں اور گاؤں کے لوگ 4 موسموں کے کپڑے صندوق یا الماریوں میں محفوظ رکھتے یا نکالتے پورا سال گزاردیتے ہیں۔ جہاں بادل کے گرجنے اور بجلی کے چمکنے سے گھر روشن ہوجاتا تھا جہاں جاڑے اور بہار کے رنگوں اور فضا میں انکی خوشبوؤں میں فرق ملتا ہے ۔ ممبئی کی عید اور گاؤں کی عید میں ایک بڑا فرق بھی مجھے محسوس ہوا جس کا مشاہدہ بھی ہوا ۔ گاؤں کی عید کے دن تڑکے سے ہی پورے گھر یا یوں کہیے پورے گاؤں میں چہل پہل مچی رہا کرتی تھی جاڑوں کا موسم ہوا تو چولہے پر بڑے سے پتیلے میں سارے گھرکے نہانے کی خاطر پانی کھول رہا ہوتا،البتہ گرمی کی عید میں اس اہتمام کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ہمارے محلے کی مسجد کے قریب کی سرکاری نل کے مسلسل چلنے کی آواز بتا دیا کرتی تھی کہ جن کے گھر کے غسل خانے میں لمبی ویٹنگ ہے وہ یہاں نہا رہے ہیں اور ہمارے کچھ دوستوں کی جماعت بغل کے کھیتوں میں رکھے انجن پر چلے جایا کرتے اور دل بھر کر غسل کرلیا کرتے تھے ۔ گاؤں کی زندگی میں وسائل جس قدر کم ہوا کرتے تھے سلیقہ اتنا ہی زیادہ تھا مٹی کے گھروں میں لوگ عید آنے سے پہلے خود ہی چونا پھیر لیا کرتے تھے گھروں کی کچی زمین کی سجاوٹ کرنے کے لئے گھر کی مائیں مٹی اور بھوسا، ملا کر اس کی گوبر لپائی کرتی تھیں ۔ عید کے دن دالان اور صحن میں مہمانوں کے لئے پلنگ ڈالے جاتے اور ان پر چادریں بچھا،دی جاتی تھیں اور اس پر بانس کا ہاتھ کا بنا پنکھا اور ہاتھوں کی دستکاری سے مزین تکیہ بستر پر رکھ دیا جاتا جس پر مختلف تکیہ کے اشعار لکھے ہوتے تھے مہمان اسے بڑے شوق اور چٹخارے لے لے کر پڑھتے تھے وہ ساری روایت اب ناپید ہوگئی ۔ وہ دل کے صاف اور زبان کے پکے لوگ بھی چلے گئے ۔ لیکن عزیزوں اگر آپ کاجو پاڑہ میں ہیں تو یہاں کے موسم اور یہاں کی عید میں کافی حد تک یکسانیت نظر آئے گی کیونکہ یہاں بھی اکثریت اپنوں کی ہے اپنے گاؤں اور عزیز و،اقارب کو دیکھ بہت زیادہ راحت محسوس ہوتی ہے گاؤں والوں نے اپنی ہجرت کے ساتھ اپنی تہذیب اور رسم روایت کو ساتھ لےکر آ گئے ہیں ۔ عید قرباں کے دن قربانی کے گوشت کا تبادلہ یہاں بھی بحسن و خوبی اچھی طرح سے ہوتا ہے ضیافت اور مشترکہ دعوت کا دور بھی چلتا ہے مجھے تو یہاں کے لوگوں کے شوق کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سارے لوگ ایک گھر کے ہوں الا ماشاءاللہ ہر سماج اور ہر معاشرے میں کچھ لوگ جدا ہوتے ہیں باقی سب ایک جیسے ہوتے ہیں سبھی دعوت میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی سعی میں رہتے ہیں اتنا پیار اور اتنا اتحاد مجھے اور کسی جگہہ نہیں نظر آیا عید کی نماز ختم ہوتے ہی فون کی گھنٹی جو بجنا شروع ہوئی وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ یہاں کے لوگوں کا یہی حسن کردار اور جذبہ مہمان نوازی گاؤں کی عید کو بھلانے میں مددگار ثابت ہوئی ورنہ گھر سے دور عید کا مزہ ہی ادھورا،رہ جاتا پھر بھی ان سب کے باوجود اپنا گاؤں اپنا ہوتا ہے

یوں تو سمیٹ لایا تھا

ہر چیز گاؤں سے

دھاگے تمہارے نام کے

برگد پہ رہ گئے

 اللہ رب العالمین ہم سب کو صحت و عافیت اور سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گاؤں کو سدا شاد و آباد رکھے تمام شرور و فتن سے اللہ حفاظت فرمائے اور اللہ کاجو پاڑہ کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور ہم سب کو شریعت اسلام پر چلنے اور دین اسلام کے اصول پر تجارت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

آپ تمام قارئین کو عیدالاضحٰی مبارک

   دعا ھے آپ دیکھیں زندگی میں بے شمار عیدیں

خوشی سے رقص کرتی مسکراتی پر بہار عیدیں

اللہ ہم سب کی زندگی بار بار یہ دن لائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے