اظفر منصور 8738916854
بلا تفریق مال و متاع اپنے دامن کے سائے میں ہزاروں انسانوں کو لئے یہ دہلی واقعی بہت خوبصورت ہے، ہندوستان میں نہ جانے کتنے شہر ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں مگر ان سے دہلی کا مقابلہ نہیں، کیونکہ دہلی ایک ایسا واحد شہر ہے جس میں مختلف الجہات و مختلف النوع ہیئتیں، شباہتیں، صورتیں آپ کو مل جائیں گی، یہاں غریب بھی ہیں، امیر بھی، حکام سلطنت بھی ہیں، زعماء قوم بھی، تنظیموں کے دفاتر بھی ہیں اور ان کے رہنماء ادارے بھی، اسکول و کالج کا بھی ہیں، اور مدارس اسلامیہ بھی، مساجد سے بلند ہونے والی اللہ اکبر کی صدا بھی ہے اور منادر سے اٹھتی فغاں بھی، اردو دوستی کی مثالیں بھی ہیں اور آپسی اخوت کی تصویریں بھی غرض کہ دہلی ایک آباد جہاں ہے جس میں ہر تخیل کی افزائش اور اسکی فرمائش کی تکمیل بآسانی ہوسکتی ہے، یہاں کی گلیاں اور اسکے ارد گرد بلند و بالا عمارتیں اس کی حقیقت ہیں، میٹرو کی بہتات بیٹری رکشہ کی بھرمار یہاں کی جان ہے، ہر قدم دو قدم پر لگنے والے بازار یہاں کی آبادی کا آئینہ ہیں، اور پورے ملک بلکہ پوری دنیا سے لوگوں کا اسکی جانب کھچے چلے آنا اس آئینہ کا عکس۔ دہلی ایسی ہے کہ یہاں خواجہ نظام الدین اولیاء آرام فرما ہیں، اور مرزا غالب ابھی بھی اپنے مینا سے جام چھلکا رہے ہیں، دہلی خواہشوں کا مرجع بھی ہے مخرج بھی ہے مخزن بھی ہے اور مدفن بھی ہے۔ یہاں کی شام غریباں نہایت خوفناک بھی ہوتی ہیں اور تعیش زدہ بھی۔
دہلی کے جسم پر ایسا پردہ چڑھا ہے کہ اس کی نقاب کشائی کے لیے ملک کیا بیرون ملک کے سیاحوں کی بھی قطاریں متوحش کر دیتی ہیں، تاج محل یہاں نہیں ہے مگر لال قلعہ کی رعنائی اور طرز تعمیر کسے دیوانہ نہیں بنا رہا ہے؟ مانا کہ ٹیلے والی مسجد، بڑا چھوٹا امام باڑہ، بارہ دری، سہارا گنج، حضرت گنج، نخاس و چوک لکھنؤ والوں کے پاس ہے مگر یہاں کی جامع مسجد، ہمایوں کا مقبرہ، رام لیلا میدان، جنتر منتر، صدر بازار، چڑیا گھر، کشمیری گیٹ، اور وزراء حکومت کی حویلیوں کے مقابلے کی ہمت کس میں ہے؟ دیوبند والوں کے پاس دارالعلوم دیوبند،مظاہر علوم اور قاسم نانوتوی و حسین احمد مدنی وغیرہ، علی گڑھ والوں کے پاس مسلم یونیورسٹی اور سر سید وغیرہ، بنارس والوں کے پاس پان اور ہندو یونیورسٹی وغیرہ، بریلی والوں کے پاس احمد رضا وغیرہ، اعظم گڑھ والوں کے پاس جامعۃ الرشاد و اشرفیہ وغیرہ، لکھنؤ والوں کے پاس دارالعلوم ندوۃ العلماء، فرنگی محل، علی میاں وغیرہ باعتبار مجموعی سب کے پاس فخر کیلئے سب کچھ ہے مگر پھر بھی کس کے جگر میں جگر ہے کہ وہ دہلی کے جگر کا جگرا دیکھے۔ کیونکہ یہاں تو ایجوکیشنل فلڈ میں جامعہ ملیہ، جواہر لال نہرو، جیسی یونیورسٹیاں ہیں، اقتصادیات میں تمام کمپنیوں کے اعلیٰ ترین دفاتر یہیں ہیں، شخصیات میں با حیات و بے حیات روحیں یہیں ہیں، اور سب سے بڑھ کر پورے ملک پر حکمرانی کا اعجاز بھی اسی دہلی کے سر بندھا ہوا ہے کہ اسے دارالحکومت کا خطاب ملا ہوا ہے۔ یہاں رہنے والے خوش نصیب ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ جنت کا مزا ملے کیونکہ یہاں تمام تر سہولیات، امتیازات کے باوجود بھی ایک کمی اور عیب ہے کہ یہاں کی فضاء کافی مسموم رہتی ہے، گرمی کی شدت جسم کو جھلسا دیتی ہے، ہوا میں پیدا ہونے والی لُو جانوں کو اچک لینے والی ہوتی ہے۔ یہاں سے اگر ملک میں محبت و اخوت کی صدا لگائی جاتی ہے تو یہیں سے نفرت و عداوت کی بیج بھی بوئی جاتی ہے۔ مگر ان تمام کے باوجود دہلی تو دہلی ہے۔ جس کی اپنی شان بھی ہے اور آن بھی۔ اس لیے اس کی عظمت کا کوئی منکر نہیں ہوسکتا۔
میرے دل سے داغ پوچھے کوئی دہلی کے مزے
لطف تھا دونوں جہاں کا اک جہاں آباد میں
