سہارنپور(احمد رضا): آج دنیا میں ادب نواز طبقہ کی کوششوں اور محبتوں کی بدولت ہی اردو زبان اردو ادب اور اردو زبان کی چاشنی جس کی تس ہے لاکھ کوششیں ہماری زبان کو مٹانے کی کی گئیں مگر اردو زبان پھر بھی روز بروز شہرت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے اسی کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے سرزمین دیوبند ضلع سہارنپور کی لائق بیٹی نامور ادیبہ اور مصنفہ رخشندہ روحی مہندی نے اپنے وطن کا نام پوری دنیا میں ادب کے گلیاروں میں مشہور کر نے کا جو بے مثال کار نا مہ انجام دیا ہے اسکی جس قدر بھی تعریف کی جائے وہ تعریف کم ہی ہوگی آپکو بتادیں کہ ادبی تاریخ کی سب سے با وقار ادبی تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن دبئی*نیازمسلم لائبریری* کے احاطہ میں بچوں کے ادب کے حوالے سے گذشتہ روز سہہ پہر تین بجے منعقد ہونے والے پروگرام کو بزمِ اُردو کی شاخ بازیچۂِ اطفال کے زیرِ اہتمام تیار کیا گیا تھا اس پر وقار ادبی پروگرام کی خاص ذمہ داری بزمِ کی ایک سینئر رکن محترمہ رملہ شاداب نے اٹھائی اس پروگرام کی میزبانی بزمِ کی ایک کم عمر رکن اقراء فاطمہ نے نبھائی ، بزم کے بانی ریحان خان صاحب نے کینیڈا سے آن لائن اپنی بات سے پروگرام کا با قاعدہ آغازکیا اس پروگرام میں شرکت کے لئے ملک ہندوستاں سے تشریف لائی مشہور و معروف ادیبہ محترمہ رخشندہ روحی صاحبہ کو بطور مہمانِ خصوصی خوش آمدید کہتے ہوئے ریحان خان نے تسلیم کیا کہ محترمہ ادب کا ایک بڑا نام ہیں اور ہماری بزم کی خوش قسمتی ہے کہ رخشندہ مہدی آج یہاں منقد ہونے والے ہمارے خاص پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہو رہی ہیں! سب سے پہلے راہین نے اسماعیل میرٹھی کے بارے میں ایک مضمون پڑھا۔ ہبہ فاطمہ نے ابنِ انشاء کا مضمون جنتری نئے سال کی بہت دلچسپ انداز میں پڑھ کر سامعین کے ہونٹوں پہ مسکراہٹیں بکھیر دیں ننھے منے مہمان محمد نے کچھ اشعار پڑھے اور ثابت کیا کہ اردو زبان کی سلاست بچوں کے لئے بھی حوصلہ افزا ہے۔
خولہ کنول نے اپنی نظم سنائی علامہ اقبال کی نظم ہمدردی کو دو بہنوں حِسہ جہانگیر اور آمنہ جہانگیر نے ٹیبلو کی صورت میں پیش کیا،
اس بزم کی رونق کو با وقار مہمان خصوصی ہندوستان سے تشریف لائی ہوئی جانی مانی ادیبہ محترمہ رخشندہ روحی مہدی صاحبہ کی شرکت نے دوبا لہ کر دیا اس موقعے پر محترمہ رخشندہ روحی نے بچوں کے لئے لکھی ہوئی اپنی معتبر کہانی خواب کا دلچسپ انداز میں بیان کیا جو ہر زاوئے سے آج کی نشست کا بہت دلچسپ پہلو تھاجسے سامعین نے بہت توجہ اور جذب سے سنا اور محترمہ کو داد تحسین پیش کی اس تقریب کے آخر میں عمدہ سطح کا تمثیلی مشاعرہ بھی پیش کیا گیا جس میں حصہ لینے والی بچیوں کے نام ہیں نویرہ عذیر سیدہ حمنیٰ ریحان، زنیرہ عذیر، نتاشہ سلیم اور اقراء فاطمہ نے بہت خوبی سے کچھ بڑے شاعروں کی تمثیل کی اور سامعین سے بھر پور داد پائی منفرد و معروف فکشن نگار ڈاکٹر رخشندہ
روحی مہدی کو ان کی ادبی خدمات پر بزمِ اُردو دبئی کی جانب سے ایک یادگاری شیلڈ پیش کی گئی اور آج کی بیٹھک میں حصہ لینے والے بچوں میں تعریفی اسناد اور تحائف تقسیم کرنے کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی اس پر وقا ر تقریب کی بابت اخبارات کو مراسلہ پیشِ کر تے ہوئے میڈم ثروت زہرا زیدی نے بتایا کہ دبئی میں منعقد ہونے والا یہ ادبی پروگرام ہر صورت قابل احترام مانا جا ئیگا کیونکہ اس تقریب میں ہر کردار نے اپنا کردار محنت اور ایمانداری کے ساتھ نبھایا ہے!
