سہارنپور(احمد رضا): آگرہ میں یمنا پولیس اسٹیشن کے قریب واقع ایک مسلم گھرانہ پر کل اعلانیہ انداز سے کچھ  شدت پسند ہندو افراد نے حملہ بول دیا گھر میں توڑ پھوڑ کی گھر کا سامان بھی توڑديا کل ملاکر گھر کے ہر فرد کی پٹائی کی اورگا ڈی بھی توڑ ڈالی اور درندے وشال کمار ،سنجے کمار ،چھوٹو اور شیلو کمار نے گھر کی 18سالہ بیٹی پر بھی جان لیوا حملہ کرتے ہوئے اس کو کھینچا، اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اس کا جسمانی استحصال کیا۔ علاقہ کے لوگ تماشائی بنے رہے، مسلم گھرانہ کی مدد کو کوئی ہندو فریق باہر نہیں نکلا، سبھی جالیوں اور اپنی اپنی کھڑکیوں سے مسلم گھرانہ پر حملہ ہوتے اور بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہوئے اطمینان سے دیکھتے رہے!

دوسری خطرناک خبر شولاپور مہاراشٹرا سے یہ ملی ہے کہ آج وہاں ہندو دہشت پسند افراد نے دو مسلم افراد پر جان لیوا حملہ کر دونوں کو بری طرح سے مجروح کر دیا ہے جسمیں ایک کی حالت بیحد نازک بنی ہے یہاں بھی علاقہ کے لوگ اور پولیس تماشائی بنی رہی ظالم ہندو لڑکے مسلم افراد پر حملہ کرتے رہے اس سے قبل یریانہ کے ایک گاؤں ایک مسلم گھر سے 70 گائیں اور بیس بکریاں بجرنگ دل کے غنڈے جبریہ طور سے کھول کر لے گئے اور پولیس وہاں بھی تماشا دیکھتی رہی اب سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ ایک جمہوری ملک میں مسلم طبقہ پر اس طرح سے ظلم و جبر کب تک چلیگا یا یہ سیاسی افراد کی سازش کا حصہ بھر ہے!  معزز شہریوں کا کہناہے کہ مسلم آبادی کچھہ سالوں سے ہندو دہشت گردوں کے نشانہ پر آگئی ہے مسلم طبقہ حالات اور دین اسلام کی تعلیمات کے مد نظر صبر کا دامن تھامے ہوئے بیٹھا ہے لٹنے پٹنے اپنے مکانات اور دوکانات بلڈوزر سے توڑے جانے اور اعلانیہ قتل کئے جانے اور جھوٹے الزامات میں پھنسا کر سالوں سال جیل کی سلاخوں کے اندر ہزار مصیبتیں برداشت کرنے کے بعد بھی اف نہیں کر پایا، لیکن آج سیدھے مذہب پر حملہ ہونے لگا ہے۔ ممبئی کی جے پی انفرا سوسائٹی میں ایک مسلم فیملی کل ایک بکرہ خرید کر لے آئے تو لگاتار رات بھر بکرا باہر نکالنے اور مکان خالی کرانے کے لئے ہندو مرد اور خواتین ہزاروں کی تعداد میں مسلم اہل خانہ کے باہر جے شری رام کے نعرے لگاتے رہے، پولیس تماشائی بنی رہی۔ عام چرچائیں ہیں کہ اگر روز بروز ایسے ہی حالات پیدا ہوتے رہے تو لگتا ہے کہ مسلمان خاموش تماشائی نہیں بنا رہیگا اس لئے وقت رہتے ہندو شدت پسند افراد کو عقل سے کام لینا ہوگا، تیس کروڑ مسلمانوں سے الجھ کر اس سرکار یا قوم کا کسی بھی صورت سے بھلا ہونے والا نہیں ہے، جوں جوں حالات کشیدہ ہوں گے تو ہندو شدت پسند افراد کے لئے ہی مشکلات کھڑی ہوں گی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے