محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک

۱۔ قاتل کون
جان سے پیارا ہی جان لے لیتاہے۔ پتہ بھی نہیں چلتاکہ کون قاتل ہے ؟

۲۔ سرکس در سرکس
سرکس زوروں پر چل رہی ہے۔ دیکھنے والوں میں سبھی لوگ شامل ہیں ، اندھے بھی ہیں جو اپنے کانوں سے کام لے کر سرکس دیکھ رہے ہیں۔ان کے تصور میں جو سرکس چل رہی ہے وہ علیحدہے۔ کیوں کہ ان اندھوں کے کانو ں تک سچائی بھی پہنچائی جارہی ہے اور ان کے کان بھی بھرے جارہے ہیں۔
بھرے کانوں کی سرکس کا اصلی سرکس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کسی نے کیاخوب کہاہے کہ سرکس کے اندردوسری سرکس ہے اورپتہ ہی نہیں چلتاکہ اصلی سرکس کون سی ہے ؟

۳۔ برہنہ سوچ
برہنہ بدن لوگ ننگ ِ انسانیت تھے ، اب انسانوں کی ضرورت بنتے جارہے ہیں۔ کمال تو یہی ہے کہ دنیاہے تو یہاں دنیا داری ہی چلے ، اور اُخروی سوچ کوشکست ہو۔اسی برہنہ سوچ نے اُخروی نقاب والی سوچ کو شکست دے دیاہے۔ آپ بھی محسوس کررہے ہوں گے کہ اس شکست نے ہماری سوچ کو کہیں کانہیں رکھاہے۔ ہم نے خود اپنے پاؤں پرکلہاڑی مارلی ہے۔

۴۔ بے صلاحیت لوگ
انہیں جنازہ نکالنے کی جب بھی ضرورت پڑتی وہ اُردو کاجنازہ نکالتے ، اور دھوم دھام سے نکالتے اور جب اردو زبان کاجنازہ نکالنے میں پوری طرح کامیاب ہوگئے تو پھر اردو بولنے والی آبادی نشانہ پر آگئی۔
آج کل اس آبادی کو انگریزی سکھانے کے نام پراس کی جیب سے رقم اور اس کی گھریلوتجوری میں موجود زیور ڈھیلے کرائے جارہے ہیں اورنتیجہ میں ڈھاک کے وہی تین پات ہیں۔ والدین اوراولادوں کے درمیان فکری ، تعلیمی ، ادبی اور فلاحی تفاوت آچکاہے۔ دوسری زبان نے دوسری تہذیب کو جنم دیاہے جو مادہ پرستی کی نمائندگی کرتی ہے اوراسی کرب میں والدین مبتلا ہیں کہ نئی نسل کے ساتھ ہم نے اچھاکیاکہ برا، ابھی ایک نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے۔ وقت نے نتائج تک پہنچنے کی صلاحیت بھی چھین لی ہے۔ رہے نام اللہ کا

۵۔ دشمن نظر
’’نظریں بچاکر رکھیں۔ اپنی نظر بھی خود اپنی دشمن ہوتی ہے ‘‘ بڑے صاحب نے کہا۔ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔ میرے پیشانی پر ناسمجھی کی لکیریں بڑے صاحب نے پڑھ لیں اور فوراً مجھے سمجھاناشروع کردیا،وہ بولے’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو ارشاد فرمایاہے کہ آئینے میں اپناچہرہ دیکھ کر چہرہ اچھالگنے پرماشاء اللہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم پڑھ لیناچاہیے۔ تو اس ارشاد کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہماری نظریں بھی ہماری دشمن ہوتی ہیں، اس دعا کو پڑھنے سے نظرنہیں لگتی ، لوٹ جاتی ہے‘‘
بڑے صاحب کی وضاحت پر مجھے اطمینان ہوااور ذہن میں ریل چلنے لگی کہ کہاں کہاں میں اپنی ہی دشمن نظر کاشکار ہوتارہاہوں۔

۶۔ تنظیم کی موت
جب تنظیم مرگئی توکسی نے بھی یہ نہیں کہاکہ اس کے ہم ذمہ دار ہیں، ہماری جوچاہے سزا دی جائے۔ اور بیچاری تنظیم میں بھی اتنی روحانی طاقت نہیں تھی کہ اٹھ کر کہہ سکے کہ فلاں اورفلاں میرے قاتل ہیں ، انہیں سزا دے کر میری بے چین روح کے ساتھ انصاف کریں اورپھروہ دوبارہ فوت ہوجائے ۔

۷۔ کامیاب ہدف
زمین کوچھوکر قطرے کو زمین کے اندرون تک پہنچناتھا۔ ہوائیں پانی کے اس قطرے کو اڑالے جارہی تھیں۔ اور وہ کسی بھی طرح اپنے آپ کوضائع ہونے سے بچانے کے لئے پوری کوشش کررہاتھاکہ وہ زمین تک پہنچے ، آبادی میں سمنٹ کی چھت پر گر کرگندی نالیوں میں ضائع ہونے سے وہ خود کوبچارہاتھا۔ اوراگر چھت پر گرناہی پڑے تو وہ چھت ٹین کی ہویہ اس کی آرزوتھی۔ تاکہ اس چھت سے نیچے لڑھک کر زمین کے اندرون تک پہنچنے کااس کاہدف پور اہو۔
آخرکار ہواؤں نے اس کو آبادی کے بجائے جنگلوں کی سمت لے جانے میں کامیابی حاصل کرلی اور اس کو اپنے بندھوں سے آزاد کردیا۔ قطرہ اپنی آزادی کواستعمال کرتے ہوئے نیچے آکرجنگلوں کے پتوں پر سے ہوتاہوازمین تک پہنچ گیا۔ زمین کو چھوتے ہوئے اس کی خوشی کاٹھکانہ نہیں تھا۔اب وہ کوشش کررہاتھاکہ زمین کے اندرون تک پہنچے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے