ابو احمد مہراجگنج
طاہر فراز کا ایک شعر ہے کہ
جب کبھی بولنا وقت پر بولنا
مدتوں سو چنا مختصر بولنا
لیکن بھارت میں خبریہ ٹی وی چینلز کے اینکرز اور رپوٹر مختصر بولنے کو ایک عیب سمجھ بیٹھے ہیں ،اسی لئے وہ ایک گھنٹے کے شو میں ایک ہزار بات بولیں گے مگر ایک بھی کام کی بات نہیں بولتے ہیں ،اور اگر کبھی کبھار کوئی سچی بات زبان پر آجاۓ تو بلا تاخیر اس سے پلہ جھاڑکر ۔ سامعین کو گول گول گھماکر اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ اینکرنگ اور نمائندگی کے بجائے ایکٹنگ اور ڈیفنڈنگ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ،کب ،کیوں، کس سے، کیا ،سوال کرنا ہے۔ شعوری طور سے یہ بہت اچھے سے جانتے ہیں لیکن لاشعور کو اپنا کر اور ترقی کی رفتار میں دوسروں سے سبقت حاصل کرنے کے لئےیہ کبھی پوچھتے نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ سب کرجاتے ہیں جو ان کے شعور اور وجدان کے منافی ہوتا ہے۔
ابھی حالیہ دنوں میں ایک خبر کو خبریہ ٹی وی چینلز پر بڑی توجہ ملی اور اس کے ماله اور ماعلیہ پر کافی وقت تک بحث و مباحثہ بھی چلا کہ "سیما حیدر” نےسچن کی محبت میں پاکستان سے آکر ہندو دھرم اپنا کر سچن سے شادی رچا لیا ۔
درحقیقت اس خبر کو کوریج دینے کی کوئی ضرورت اور وجہ سمجھ میں نہیں آتی سواۓ اس کے کہ وہ مسلمان سے ہندو میں کنورٹ ہوگئی ہے ۔ "سیما حیدر "کے کنورژن کو خوب ہائی لائٹ کیا جارہا ہے گویا کوئی بہت بڑی فتح اور کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔لیکن اس تصویر کے دوسرے رخ سے شعوری طور پر کنارہ کشی اختیار کی گئی ہے ۔وہ دوسرا رخ یہ ہے کہ "سیما حیدر ” بھارت میں داخل کیسے ہوئی ؟۔اس کو ویزا کیسے ملا؟اور کتنے دنوں کے لئے وہ بھارت آئی ہے۔؟اس کے بھارت میں أنے کی خبر وزارت داخلہ،وزارت خارجہ اینٹلی جنس بیورو اور این أئی اے کو ہے کہ نہیں؟،مگر افسوس کہ کسی چینل اور کسی اینکر نے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں ۔جب شعور کو طاق پر گروی رکھ کر رپورٹنگ اور اینکرنگ کی جاۓ گی تو ہمیشہ تصویر کا وہی رخ دکھایا جاۓگا جس سے مالک کا قرب اور خوشنودی حاصل ہو۔جس سے پیشے میں ترقی کی راہ ہموار ہو۔
ایک اور بڑی گمراہ کن بات ان خبریہ ٹی وی چینل نے یہ پھیلائی ہے کہ حکومت سے سوال پوچھنا اپنے دیش سے وفاداری کے خلاف ہے۔جبکہ شعوری طور سے وہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی حکومت اور سرکاردیش نہیں ہوتا ہے ،دیش سے وفاداری کے لیے کسی پارٹی کا وفادار بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ملک اور قوم سے وفاداری بہت بڑی عبادت اور حد درجہ سعادت کی بات ہے ۔
وفاداری کا رشتہ کسی فائدے، منصب ومرتبہ کی چاہ میں ہو تو ایسی وفاداری کے لیے مجھے ایک شعر یاد آرہا ہے کبھی سنیل کمار تنگ نے کہا تھا کہ
وفاداری کا یہ عالم کہ سب کتا سمجھتے ہیں
یہی سب سوچ کر میں بھی وفاداری نہیں کرتا
خبریہ ٹی وی چینلز کے اداکاروں اور رقاصاؤں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ وفاداری کے اس عالم میں تو نہیں پہنچ گئے جہاں وفاداروں کو کتا سمجھا جاتا ہے ۔
کسی انسان کا شعور اگر اس کے لاشعور سے مغلوب اور مفتوح نہیں ہے تو وہ کبھی نہ کبھی ضرور سوچے گا۔اور جب سوچے گا تو مجھے یقین کہ وہ سچ ہی بولے گا اور وقت پر بولے گا ۔
جھوٹ نے کتنے پیرہن بدلے
سچ ہمیشہ سے بے لباس رہا
کبھی میں خبریہ چینلز کے پروگراموں میں شریک لوگوں کے معصوم ، خوبصورت اور پرکشش چہروں کو دیکھ کر حیرت میں پڑجاتاہوں کہ اتنے حسین لب و رخسار اور شیریں گفتار بھی جھوٹ بولیں گے ؟
یہ سمجھ کے مانا ہے سچ تمھاری باتوں کو
اتنے خوبصورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
