تبریزفراز محمد غنیف تیمی
استاد : معہد النور، راجپور نگر پالیکا، وارڈ 9، بیریا ، روتہٹ نیپال
وطن عزیز ہندوستان ایک جمہوری ملک ہےـ اس کی تہذیب و ثقافت دنیا بھر میں گنگا جمنی تہذیب سے متعارف ہے ـ اس میں مختلف زبانیں بولی و سمجھی جاتی ہیں ـ یہاں مختلف مذاہب کے پیروکاران جیسے ہندو، مسلم، سیکھ، عیسائی، جین اور بودھ تقسیم وطن سے پہلے سے ہی ایک ساتھ زندگی گذارتے آ رہے ہیں ـ دفعہ ١٦ کے تحت یہاں کی عوام کو آزادانہ زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے ـ یہی وجہ کر یہاں کے اکثر مذاہب کے پیروکاران کے اپنے اپنے مذہبی بورڈ ہیں ـ ہندوؤں کے لیے ہندو پرسنل لاء ہے تو مسلمانوں کے لیے مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے ـ
مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک این جی او ہے ـ جو سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ یہ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے 7-8 اپریل 1973ء کو قائم کیا گیا تھا۔ اس کی ہیڈ آفس اوکھلا دہلی میں واقع ہے ـ اس کے قیام کا سب سے بڑا مقصد ملک میں پرسنل لا کا تحفظ اور یہاں کے مسلمانوں کے مسائل کو حکومت کے سامنے رکھنا ہے۔ یہ شروع دن سے ہی اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں کوشاں ہے ـ اور الحمد للہ اس نے مذکورہ سالوں میں قوم و ملت اور وطن عزیز کے حق میں کچھ قابل رشک کاز بھی سر انجام دیا ہے ـ
لیکن حیف صد حیف کہ کچھ تعصب پسند عناصر کی آنکھوں کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کارنامے ایک بھی نہیں بھا رہے ہیں ـ یہی وجہ کر وہ گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں مداخلت کر کے اس کے وجود کو ناپید کر دینے اور ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی بات بڑے ہی شد و مد کے ساتھ کررہے ہیں ـ
یکساں سول کوڈ کا مفہوم : یکساں سول کوڈ کا مطلب ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے ہر شہری کے لیے یکساں قانون ہو ـ چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات سے ہو۔ اس میں شادی، طلاق اور جائیداد کی تقسیم میں تمام مذاہب پر یکساں قانون نافذ ہوگا۔ فلک شگاف آواز میں دعویٰ تو یہ کیا جا رہا ہے کہ یکساں سول کوڈ ایک منصفانہ قانون ہے ـ جس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اس کا ہندو پرسنل لاء سے گہرا تعلق ہے ـ یہ وطن عزیز کے مسلمانوں کے ساتھ یہاں کے دیگر شہریوں کو ہندو پرسنل لاء تھوپنے کی ایک ناپاک جسارت ہے ـ
وطن عزیز کے انگریزوں کے ناپاک ہاتھوں غلام بننے سے پہلے اس میں مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک اور انگریزوں نے کم و بیش دو سو سالوں تک حکمرانی کی اس دوران کسی ہندو کو مسلم پرسنل لاء یا یکساں سول کوڈ کا پابند نہیں بنایا گیا ـ بلکہ ماضی کی طرح ہندو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرتے تھے اور مسلمان اور دوسرے لوگ اپنے اپنے مذاہبِ کے مطابق زندگی گزارتے تھے ـ یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں کبھی کسی قسم کی آواز بلند ہوئی اور نہ ہی کبھی کسی طرح کا کوئی شور و غوغا ہوا ـ سبھی لوگ اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا رہے اور اپنی مذہبی تعلیمات کی ترویج و اشاعت میں سرگرداں بھی رہے ـ
اسی لیے 15 اگست 1947ء کو جب وطن عزیز سفید فام انگریزوں کے شکنجہ استبداد سے آزاد ہوا اور 26 جنوری 1950 کو آئین ہند تیار ہو کر نافذ العمل ہوا تو اس نے اس ضمن میں یہاں کے دیگر شہریوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی بنیادی حقوق عطا کئے ـ جو آئین ہند میں آج بھی جلی حروف میں مسطور ہیں ـ
ذیل کے سطور میں وہ چند آرٹیکلز پیش خدمت ہیں ـ جن میں مسلمانوں کو بنیادی حقوق عطا کئے گئے ہیں ـ
١۔ آرٹیکل 29 (1) میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آئین ہند ہر لسانی و تہذیبی اقلیت کو اپنی تہذیب کو برقرار رکھنے کا حق دیتا ہے اور اسے حق کا تحفظ فراہم کرتا ہے ـ
٢۔ آرٹیکل 25، 26 اقلیتوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہیں اور یہ مسلم پرسنل لاء کے احکامات کی پیروی اور ان کے مطابق زندگی گزارنے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں یہ بنیادی حقوق تمام مذہبی فرقوں کی شناخت اور انفرادیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں ـ
٣۔ آرٹیکل 44 میں لکھا گیا ہے کہ ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں یکساں شہری قانون ہو یہی وجہ ہے کہ ابتداء آزادی سے ہی ملک میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کی جارہی ہے جو سراسر اسلام سے متصادم ہے اور دفعہ 25 کے خلاف ہے ۔
٤۔ جب کہ یہ اس اشکال کو دفعہ (2) 13 میں واضح کر دی گیا ہے کہ حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو دئیے ہوئے بنیادی حقوق کے خلاف ہو ـ
واضح رہے کہ موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار ہوئی ہے تب سے وہ انتخابات کے موقع پر انتہا پسند ہندوؤں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے مسلم مخالف پالیساں وضع کرنے میں مصروف ہے ـ جن میں سے ایک ملک بھر میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ہے لایا جائے ـ اس کے طفیل وہ مسلمانوں پر ہندو پرسنل لاء جبرا تھوپنا چا رہی ہے ـ شاید اسی خطرہ کے پیش نظر ہمارے آبا و اجداد نے آئین ہند لکھے جانے کے وقت اس کی مخالفت کی تھی ـ
خیال رہے کہ اگر موجودہ حکومت ملک بھر میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے سے سب سے زیادہ مضر اثرات یہاں کے اقلیتوں پر پڑنے والے ہیں ـ ذیل کے سطور میں اس چند مضر اثرات پیش خدمت ہیں :
١۔ اس سے اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا متاثر ہونا یقینی ہے جو آئین ہند کی بنیادی روح کے خلاف ہے ـ
٢۔ صبح میں اللہ کا نام لینے کی بجائے وندے ماترم کا گانہ گانا پڑے گا ـ جو اسلامی عقیدہ بالکل مخالف ہے ـ
٣۔ سورج کو پوجنا ہوگا ـ
٤۔ گائے ، زمین ، سورج ، چاند ، ستارے ساری چیزوں کو معبود ماننا پڑے گا اور ان کی بھکتی کرنی پڑے گی ـ
٥۔ اسپیشل میریج ایکٹ انڈین سیکشن ایکٹ کے ماتحت کوئی کسی بھی مذہب میں بلا روک ٹوک شادی کر سکتا ہے ـ جس سے اسلامی نکاح، طلاق ، خلع، عدت، مہر اور نان و نفقہ وغیرہ کا اسلامی تصور ختم ہو جائے گا ـ
٦۔ ہم جنس پرستی کو فروغ ملے گا ـ
٧۔ ہمارے مذہبی ادارے اورمقدس مقامات کو خطرہ لاحق ہو جائے گا ـ
٨۔ اسلامی حجاب ، عورتوں کے حقوق ، مردو عورت کے درمیان فرق ساری چیزیں بے معنی ہو جائیں گی ـ
٩۔ یکساں قانون ایسے ملک کے لیے مناسب ہو سکتا ہے جس میں ایک ہی مذہب اور ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہوں ـ ہندوستان ایک تکثیری سماج کا حامل ملک ہے ـ جس میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ـ کثرت میں وحدت ہی اس کا اصل حسن اور اس کی پہچان ہے ایسے ملک کے لیے یکساں سول کوڈ کا نفاذ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
خلاصہ تحریر یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ کسی بھی قیمت پر درست ہے اور نہ ہی قابل قبول ہے ـ کیوں کہ یہ گنگا جمنی تہذیب کے خلاف ہے ـ بلکہ اس ملک میں قومی یکجہتی اس بات سے پیدا ہوگی کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کا سنہری موقع دیا جائے ـ اس سے ہر گروہ میں اطمینان پیدا ہوگا وہ محسوس کریں گے کہ وہ اس ملک میں برابر کے شہری ہیں ـ نیز اس سے حب الوطنی میں اضافہ ہوگا احساس محرومی ختم ہوگا اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا ہوگا ـ
