موسم کے بے رخی نے ایک بار پھر سے کسانوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔
ظہیراللہ صدیقی (دیوریا): اس سال بھی بارش نہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں میں پڑی دراڑیں دیکھ کر کسان مایوس ہیں ۔ بارش نہیں ہونے سے کھیتوں میں ڈالے گئے دھان کے تنکے بھی سوکھنے کی حالت میں آگئے ہیں۔ کئی اضلاع میں بارش نہیں ہونے کے وجہ دھان کے کھیتوں میں دراڑیں پڑ گئے ہے۔ کم بارشوں کی وجہ سے خشک سالی کی صورتحال بن گئی ہے۔ایسے میں اس سال خشک سالی کے امکان کو دیکھتے ہوئے کسان پریشان نظر آ رہے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو اگلی فصل پر بھی اثر پڑے گا۔
مئی کے مہینے میں کم بارش کی وجہ سے کسانوں کی مشکلات شروع سے ہی دکھائی دے رہی ہیں۔کسانوں نے ہلکی سی بارش اور پمپ سیٹ کی مدد سے دھان کو روپائی کئے۔دیوریا ضلع دیسہی دیوریا بلاک حلقہ کے کسانوں نے لگ بھگ %90 روپائی پمپ سیٹ کھیتوں میں پانی بھر دھان کی روپائی کے کام کو انجام دیا۔ اس امید میں کی بارش ہوگا، لیکن اب تک بارش نہیں ہوا۔ جس کے وجہ سے کسانوں کے چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی ہے۔کسان بارش ہونے کے انتظار کر رہے ہیں۔ اس سال اب تک ٹھیک سے بارش نہیں ہوا۔ کچھ کسان پمپ سیٹ کے سہارے دھان کے کھیتوں میں پانی بھر رہے ہیں۔ اس امید میں آگے چل کر بارش ہوگا تو دھان کا فصل بہتر ہو جائے گا۔ لیکن اب دھان کے کھیتوں میں موٹے موٹے دراڑیں پڑنے جانے سے کسانوں کے امیدوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ بارش نہیں ہونے اور تیز دھوپ ہونے کے وجہ سے دھان کے فصل اب سوکھنے لگا۔ کولاچھاپر کے کسان بحرِ عالم خان نے بتایا کہ اس مہنگائی کے دور میں سب سے زیادہ کسان پریشان حال ہیں۔ جس کسان کے پاس پمپ سیٹ نہیں ہے وہ کسان 180سے 200 روپیہ فی کھنٹہ کے حساب سے پانی اپنے کھیت میں بھر وا رہے ہے ۔
