تعلیم القرآن سمریاواں میں منعقد ایک تعلیمی مسابقہ سے علماء کا خطاب
رپورٹ : محمد رضوان ندوی
سمریاواں ،سنت کبیر نگر: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کو قوت گویائی عطا کر کے اپنے احساسات و جذبات اور مافی الضمیر کے اظہار کا سلیقہ عطا فرمایا گویازبان کو دل کا ترجمان بنایا ، یہ اللہ کا بہت بڑا انعام و احسان ہے ، ان خیالات کا اظہار مولانا غفران احمد ندوی نے مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں منعقد ایک علمی مسابقہ کو خطاب کرتے ہوئے کیا.
انھوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تقریر و خطابت مافی الضمیر ادا کرنے اور دوسروں تک اپنی بات پہونچانے کا بہترین ذریعہ ہے ، علمی وسعت ایک بہت بڑا خزانہ ہے اور تقریر اس کی کنجی،علم پر عمل سے خزانہ بڑھتا ہے اور محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے، دوسروں تک اپنے پاس موجود فائدہ کو منتقل کرنا اس امت کی سب سے اہم اور بڑی ذمہ داری ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے ہی امت مسلمہ کو پیدا کیا گیا ہے، اس نظریہ کے بعد ہر امتی مبلغ اور داعی ہے، وہ جہاں رہے، جہاں جائے سچے الفاظ میں اللہ اور اس کے رسول کا تعارف کرائے، اللہ اس کے رسول کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے میں اچھی موعظت اور بلیغ حکمت سے کام لے.
مولانا ندوی نے کہا کہ دعوت دین کے لئے سب سے موثر دو طریقے ہیں، کتا بت اور خطابت، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون کے دربار میں تبلیغ کرنے کے لئے اپنے بھائی ہارون کو اپنے ساتھ لے جانے کی اللہ سے درخواست کی تھی کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور ہارون علیہ السلام کی زبان زیادہ فصیح تھی، اسی لیے دعا فرمائی واخی هارون ہو أفصح منی لسانا فارسله معی ردأ یصدقنی انی اخاف ان يكذبون،
انھوں نے کہا کہ خطابت کوئی عام اور معمولی چیز نہیں ہے، اچھی اور بلیغ خطابت ایک جادو ہے ،اس کی بڑی تاثیر ہوتی ہے ، ایک کامیاب خطیب اپنے اسلوب اور سحر بیانی سے پتھر دلوں کو موم بنا دیتا ہے ، انبیاء کرام نے دین کی نشر واشاعت کیلئے تقریر و خطابت کو اپنا ہتھیار بنایا ہے
خطابت وجد میں آئے تو پھر ہتھیار بن جائے
کبھی نیزہ کبھی خنجر، کبھی تلوار بن جائے
خطابت کی گلفشانی مسلم ھے زمانے میں
یہ نجاشی کے آگے جعفر طیار بن جائے
زبان و بیان کی اہمیت و افادیت ہر دور میں مسلم رہی ہے، تقریر و تحریر کے ذریعہ دنیا کا محبوب ترین مقام حاصل کیا جا سکتا ہے ، گناہوں کے بوجھ سے بے حال، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے ، معاشرہ سے بے حیائی، بے غیرتی ، فسق و فجور اور منکرات کو دور کیا جاسکتا ہے ، تقریر دعوت الی اللہ ، اصلاح امت اور دفاع اسلام کا بہتر ذریعہ ہے۔ طلبہ کے لئے ضروری ہے کہ مدارس سے صرف نرا عالم بن کر نہ جائیں بلکہ عالم کے ساتھ مخلص مبلغ اور فکر مند داعی بن کر جائیں اور اپنے گھر اور اپنے محلے علاقے والوں میں اللہ اور اسکے رسول کا پیغام پہنچائیں، اس موقع پر مولانا ذکی احمد ندوی، مفتی محمد عاصم ندوی نے بھی اظہار خیال کیا، مسابقہ میں کثیر تعداد میں علماء اور مدارس کے طلبہ موجود تھے.
