• کھجوریا روڈ بارش کے موسم میں ایک جزیرے کی طرح آتا ہے نظر۔
  • پانی جمع ہونے کی وجہ سے شدید وبائی امراض پھیلنے کا رہتا ہے امکان۔

 

(عبدالمبین منصوری)

سدھارتھ نگر: جہاں ایک طرف طویل انتظار اور منّت و سماجت کے بعد بارش کی بوندوں نے انسانوں اور جانوروں کو شدید گرمی سے نجات دلاتے ہوئے راحت بخشنے کا کام کیا ہے۔وہیں دوسری جانب ہر سال کی طرح امسال بھی بارش کے موسم میں کھجوریہ روڈ پر ہلکی سی بارش میں بھی مین روڈ پر پانی جمع ہو جانے سے عام شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔

ضلع ہیڈ کوارٹر کا مرکزی مقام کھجور یا روڈ کی دکانوں اور کاروباری اداروں پر بھی اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔ جن کی دیکھ بھال کی ذمداری ضلعی انتظامیہ اور میونسپل انتظامیہ کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ جبکہ ضلع کے اعلیٰ افسران اور ملازمین کا روزانہ اسی راستے سے گزر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بھی ذمہ داروں کے صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔

اسی سلسلے میں وارڈ نمبر 12 ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نگر (کھجوریہ) ضلع ہیڈ کوارٹر سے متصل اور ضلع ہیڈ کوارٹر کا دل سمجھے جانے والے علاقہ کے تحت عید گاہ والی جامع مسجد کے سامنے واقع قبرستان کے ساتھ ہی ساتھ کھجوریہ اور ششھنیاں قبرستان سے ہوتے ہوئے بدر پبلک اسکول سے لے کر فیض عام لائبریری اور پولیس تھانے کے احاطے تک بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سےکئی سنگین وبائی امراض پھیلنے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ایسے میں وارڈ کے درجنوں مکینوں منظر ودود، حافظ حسن علی، فضل الرحمن، محبوب احمد،احمد حسین، عبد الرحمن،انسان علی، عبدالمتین، رمضان علی، محمد علیم، محمد یعقوب، محمد کلیم، اقبال احمد نے بلدیہ اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر جمع بارش کے پانی کا راستہ ہموار نہیں کیا گیا تو تمام وارڈ کے مکین احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور میونسپل انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ کیونکہ بارش کا پانی ایک جگہ پر زیادہ دیر تک جمع رہنے کی وجہ سے کئی مختلف قسم کے جانوروں اور زہریلے کیڑوں، مکڑیوں اور مچھروں سے پیدا ہونے والے ملیریا اور ٹائیفائیڈ کی بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لیے عوامی مفاد کے مدِ نظر یہ بالکل ضروری ہے کہ شہر کے مکینوں کو فوری طور پر بارش کے پانی کے راستے کو ہموار کرکے مذکورہ بالا مسئلے سے نجات دلایا جائے۔

اس معاملے میں سبھا سد محمد ساجد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اُن سے ملاقات ممکن نہیں ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے