حکومت مسلمانوں کی جان، مال، عزت، دین اور عقل کی حفاظت کرے کیونکہ یہ پانچوں چیزیں ہر مذہب کے ماننے والے کے بنیادی حقوق میں سے ہیں: عبدالقدوس محمد نذیر

حافظ غیاث الدین سلفی استاذ معہد الرشد کی خصوصی رپورٹ 

سدھارتھ نگر: آج بروز منگل 15/ اگست کی مناسبت سے ادارہ معہد الرشد مرکز تحفیظ القرآن والدعوہ والتعلیم نوگڈھ سدھارتھ نگر کے اندر فضیلۃ الشیخ عبد القدوس محمد نذیر المدنی حفظہ اللہ کی زیرِ صدارت پورے تزک و احتشام کے ساتھ جشنِ آزادی منائی گئی۔

حکومت اتر پردیش کی گائڈ لائن کے مطابق 9:15 بجے صبح ادارے کے رئیس نے جملہ اساتذہ کرام وطلاب عظام اور معزز مہمانان کی موجودگی میں قومی پرچم لہرایا ، بعدہ طلبہ کا پروگرام معزز مہمانان کی موجودگی میں شروع ہوا جس میں معہد الرشد اور بدر پبلک اسکول کے طلبہ نے مختلف انواع کے ثقافتی پروگرام کو پیش کیا، اسی طرح بدر پبلک اسکول کی طالبات نے اردو، ہندی، انگریزی زبانوں میں جشنِ آزادی کی مناسبت سے اپنا پروگرام پیش کیا۔
پروگرام کی مناسبت سے شہر نوگڈھ کے معروف نیتا جمیل احمد صدیقی مہمان خصوصی رہے اور اپنے تأثراتی کلمات کو پیش کرتے ہوئے انہوں نے اسلاف کی قربانیوں کو طلبہ وطالبات کے سامنے رکھا، ان کے علاوہ ایڈوکیٹ ریاض احمد صاحب نے آزادی سے متعلق پرمغز خطاب کیا۔
ہمارے معزز مہمانوں میں سے اشتیاق احمد سابق پردھان ، ایڈوکیٹ عبد السّتار ، مولانا امین اللہ سلفی ، مولانا فاروق احمد وغیرہم نے اپنی حاضری سے طلبہ اساتذہ اور ادارے کے ذمے داران کی ہمت افزائی کی۔
اساتذہ کرام میں سے صغیر احمد مکی صدر مدرس ،محمد مصطفی مکی ، ایوب احمد مدنی ،محمد ہاشم سلفی ،نصیر احمد مکی ، غیاث الدین عزیز سلفی نائب صدر ، ممتاز احد سلفی ،اخلاق احمد فیضی، اشتیاق احمد فیضی، حافظ منت اللہ خیری وغیرہم موجود رہے۔
آخر میں صدر مجلس رئیس المرکز عبد القدوس المدنی حفظہ اللہ نے پرمغز صدارتی خطاب کرتے ہوئے جشن آزادی کی حقیقت اس میں پیش کی گئی اسلاف کی قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے درمیان اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ درحقیقت آزادی یہ اسلام کی تعلیمات میں سے ہے، اور وطن سے محبت لگاؤ یہ فطری چیز ہے ،جو ہر کسی کی روح میں داخل ہوتی ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے حکومت ہند خاص طور پر صوبائی حکومت اتر پردیش سے یہ مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کی جان ، مال ، عزت ، دین اور عقل کی حفاظت کہ ذمے داری قبول کرتے ہوئے عملی طور پر اس کو ثابت کرے کیونکہ یہ پانچوں چیزیں ہر مذہب کے ماننے والے کے بنیادی حقوق میں سے ہیں۔
اخیر میں تمام مہمانان اساتذہ کرام اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے اپنی بات کو ختم کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے