پورے عالم پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے: مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
سدھارتھ نگر: وزارتِ اسلامی امور اور دعوت وارشاد،ریاض سعودی عرب کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ میں اہم اور حساس ترین موضوعات پر مؤرخہ ١٣ ١٤اگست ٢٠٢٣ءکو ایک عظیم الشان بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں سعودی عرب کے بادشاہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ وتولاہ دیگر اعیان مملکت اور سعودی علماء کرام کے علاوہ پوری دنیا کے پچاسی ملکوں سے ١٥٠علماء وفضلاء اور دانشورانِ ملت نے شرکت فرمائی،ہندوستان سے قابل ذکر تعداد میں نامور سلفی علماء نے شرکت کی اور اپنے ذریں خیالات کا اظہار کیا۔
اس کانفرنس میں ملک نیپال سے ڈاکٹر عبد الغنی القوفی شریک ہوئے، اس عظیم الشان کانفرنس کا مہبط وحی مکہ مکرمہ میں منعقد ہونا خود اس کی اہمیت کے لیے کافی ہے، اس میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئ ، متعدد اسکالرس اور متخصصین اہل علم نے مدلل گفتگو فرمائی، سب سے اہم پوائنٹ یہ رہا کہ دین اسلام وسطیت واعتدال والا دین ہے، جس میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی کہ اسلام میں روا داری ہے وہ عدل و انصاف کا مذہب ہے دیگر ادیان و مذاھب اور انسانی گروہ کے ساتھ عدل کی شرط پر تعلقات قائم کیا جائے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور تمام انسان صلح و آشتی کے فضا میں سانس لیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ دنیا میں زندگی گزاریں اصل مطلوب تو یہ ہے کہ سب توحید خالص پر قائم رہیں، مگر یہ بھی یاد رہے کہ جو غیر موحد ہیں انہیں امن و شانتی کے ساتھ جینے کا حق ہے، اسلام اس اہم نقطے پر زور دیتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، اس سے واضح ہے کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں ہے، اسی طرح سے ایک نقطے پر روشنی ڈالی گئی کہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر أہل ادیان اور دیگر طوائف کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے حوار یعنی باہمی گفتگو کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، ہم خادم الحرمین الشریفین حفظہ اللہ ولی عہد عزت مآب محمد بن سلمان آل سعود حفظہ اللہ تمام وزراء مملکت نیز شیخ عبدالطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ وزیر الشؤن الاسلامیہ ودعوۃ والارشاد اور ڈاکٹر عواد سبتی العنزی حفظہ اللہ وکیل الوزارہ اور وزارۃ الشؤن کے جملہ ذمہ داران اور سعودی عوام سب کے شکر گزار ہیں جزاھم اللہ خیراً۔
اس کانفرنس سے پوری دنیا میں ایک مثبت پیغام جاۓ گا اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، اللہ تعالیٰ سعودی عرب کو امن و استحکام عطا فرما اور اسے مزید خدمات انجام دینے کی توفیق دے۔
