نوراللہ خان
دہلی

کہتے ہیں کہ انسان کو صابر وشاکر ہونا چاہئے۔ اور یہ صبروشکر اور قناعت اس وقت آئیگی جب آپ نیچے دیکھیں گے۔ لیکن راستے خراب ہیں ۔ اب نیچے دیکھ کر حادثہ کے بجائے آپ کبھی موقع ملے تو اسپتال جائیں اور بہتر ہوگاکہ ایمس چلے جائیں۔
اللہ کی مخلوق کو دیکھیں۔ اسکی کوالٹی کے خاطر تو ایک بڑا طبقہ بھی وہاں آتا ہے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہیکہ انسانوں کا سمندر وہاں دیکھئے۔ لولے لنگڑے، معذور، اپاہج، نابینا، بوڑھے بزرگ اور مردو خواتین، نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک بلکہ نیپال سے بھی نظر آتے ہیں۔
ایمس میں بیٹھ کر آپ کو ایک اور چیز نظر آئیگی وہاں ممبئی کے مراٹھی، جے پور کے راجستھانی اور اڑیسہ کے قبائلی نہ صرف اپنے کپڑوں سے پہچانے جاتے ہیں بلکہ اکثر لوگ اپنے روایتی زارا راہ کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
یوپی کا لوکہ پھارا، گوجھیابہار کا مقبول ترین ذائقے دار چوڑا بھی دیکھ سکتے ہیں۔

تالوں میں جس طرح صرف نینی تال ہے اسی طرح اسپتالوں کا باپ اگر دیکھنا ہے تو ایمس جائیں۔ دس بیس چھوٹے اسپتالوں کے سارے مریض جتنے ہوں گے وہاں صرف ایک شعبہ کی اوپی ڈی میں ملتے ہیں۔ صرف آنکھ کے ڈاکٹروں کیلئے روز دس ہزار لوگ آتے ہوں گے۔ جتنے مریض بعض اسپتالوں میں سال بھر میں آتے ہیں وہاں اس سے دس گنا زیادہ روز باہر میٹرو کی سیڑھیوں پر کیڑے رہتے ہیں۔

میٹرو کا بھی احسان ہے کہ ان کو انسانیت کے ناطے برداشت کرتی ہے۔ نہادھوکر ایسے کپڑے سکھ وارے ہیں جیسے آلہ آباد آئے ہوں۔
ایمس کا سستا اور معیاری سطح کا علاج غریبوں کیلئے مسیحا ہے۔ لاکھوں کی سرجری ہزار دوہزار میں ایک مریض مسکراتا ہوا کراکے نکل جاتا ہے۔ ہاں مگر صبر کا یہ میٹھا پھل بڑی دشواری سے ملتا ہے۔ وہاں پرائیویٹ اسپتالوں کی نرسوں اور فلائٹ کی ایئر پوسٹس والا ریسپانس اور مسکراتے چہرے آپ کا بالکل استقبال نہیں کرتے ہیں وہاں سرکاری بابو ملیں گے۔ اور اور ملاقات کا وقت تو سال چھ ماہ بعد ہی ملے گا۔ ہاں مروجہ بد نظمی سے آپ بچ سکتے ہیں اور جلدی کیلئے سلام دعا کرسکتے ہیں۔ جب رب کریم سے بخچمشش کیلئے آپ کو اسکے بندوں کو کھانا کھلانا پڑتا ہے تو آپ ممکن ہو تو نیک کام کرسکتے ہیں۔ اور اسی سے دعا قبول ہوگی۔
ہاں نئی ٹیکنالوجی کا بھی ایمس استقبال کررہا ہے۔ آن لائن بھی آپ اینٹ منٹ لے سکتے ہیں۔ سیکورٹی بھی ٹائٹ ہے۔ صفائی وہاں آدھا ایمان ۔۔۔۔۔ نہیں اچھی طرح دکھ رہی ہے۔ نظام بھی قدرے درست ہے۔ اندر عمارتوں میں اے سی زدہ ماحول ہے۔

ویسے اسپتال تو بہت ہیں مگر چین میں بھی کوئی اکیلا اتنا بڑا بھیڑ والا اسپتال شاید ہو۔ وہاں تو سننے میں آتا ہے کہ سرکار نے ہر بڑے شہر میں تعلیم ،صحت اور زم روزگار دیکر ایک جگہ بھیڑ سے بچتی ہے۔
ہمارے ملک میں جو اسٹیٹ سب سے زیادہ پی ایم دیتا ہے وہیں کے لوگ زیادہ مزدور بھی ہیں۔ ممبئی ، دہلی اور بنگلور سمیت سورت اور لدھیانہ یہی کچھ شہر ہیں جہاں ساری انڈسٹری ٹھونس کر بھردی گئی ہے۔ اسی طرح بڑے اسپتال بھی ایک دو جگہ بھر گئے ہیں۔

بھیڑ اور سہولت کیلئے ایمس میں سدھار تو آیا ہے مگر بے انتہا بھیڑ کیسے کنٹرول ہوگی اس لئے ایمس کی شاخیں قائم ہوئیں مگر وہاں بقول عوام سہولیات کم ہیں یا بابو زیادہ ہیں۔ دنیا میں بابو کہنے پر وہ نوازتے ہیں اور ہمارا ملک ایسا ہے کہ بابو کو نوازنا پڑتا ہے۔
حکومت وقت سے امید ہے کہ مزید “ایمسوں “کی تشکیل کرکے جنتا کو سہولت دے گی۔ اور “ایمسوں “کے قیام میں اگر تاخیر ہوجائے تو کم سے کم ایک میڈیکل کالج ہر کمشنری میں قائم کرے گی۔ یا جہاں ہیں وہ کالجز وہاں بابوؤں کو سمجھایا جائے تاکہ عوام کی صحت سدھر سکے کیوں کہ جان ہے تو جہاں ہے۔
بھیڑ اور نظم ونسق کیلئے یہاں بھی الگ الگ گیٹ ہیں۔ داخلہ گیٹ پر آپ کو مرجھائے ہوئے بدحال پریشان بیمار انسانوں جم غفیر اندر آتے ہوئے نظر آئے گا مگر باہری گیٹ( ایگزٹ گیٹ) سے باہر نکلتے ہوئے مسکراتے ہوئے یا ایک امید کے ساتھ ایک بڑا طبقہ باہر آتا ہے کہ ان شاءاللہ ٹھیک ہوجائیں گے۔

اللہ اور بھگوان کے علاوہ کچھ دین ومذہب بے زار بھی وہاں سے خوش ہوکر نکلتے ہیں سائنس ہے تو ممکن ہے۔ بہر حال ایکس ایک آس ہے امید ہے اور آشا ہے جہاں امیدوں کی کرنیں چہروں کو روشن کرتی ہیں اور جن کا اسٹیشن آچکا ہوتا ہے ان کے جنازے بھی نظر آتے ہیں۔ مگر پورے ملک عزیز کے وہ غریب مستحق جو واقعی ہم سب کیلئے توجہ کا مرکز ہیں ان کیلئے سو پچاس میں وہ کام ہوتا ہےکہ وہ میدانتا اور فورٹس سمیت میکس اور ارٹیمس میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔
جس مرکز صحت ایمس کو طرف یہ لاکھوں غریب روز سفر کرتے ہیں اور ان کی توجہ کا مرکز یہ ایمس میلوں دور سے آئے ان مریضوں کی مرہم پٹی کرتا ہے اس پر مرکزی سرکاروں کی توجہ ڈھنگ سے ہوجائے تو ہندوستان مزید آگے بڑھے گا۔

ویسے پرائیویٹ اسپتالوں کی بھیڑ یہ بتارہی ہےکہ سو سے زیادہ ممالک سے آنے والے مریض بھارت کیوں آتے ہیں۔ یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی طرح شان دار عالمی سطح کا علاج یہ نہ صرف ہماری شان آن بان ہے بلکہ ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ اور ان پرائیوٹ اسپتالوں پر بھی اسی ایمس کا احسان زیادہ ہے جس کے فارغ التحصیل وہاں جلوہ بکھیرے ہوئے ہیں۔
دعا کیجئے اللہ ایمس کو نظر بد سے بچائے اور ایمس کو ایمس ہی رہنے دے ، بہتر اضافہ ہو مگر حذف کے خطرے سے بچائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے