محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
موبائل نمبر: 9933598528
امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کا شمار ہندوستان کے قدیم اور عظیم تنظیموں میں ہوتا ہے، اور یہ وہ تنظیم ہے جس کے تمام شعبوں میں باصلاحیت اور باکمال لوگ ہر دور میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ حضرت مولانا سہیل احمد ندوی رحمتہ اللہ علیہ بھی ایسے ہی باکمال افراد میں سے ایک تھے ۔ آپ بیک وقت امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھار کھنڈ کے نائب ناظم ،امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری، مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی چیوٹ کے سیکرٹری ، قاضی نو رالحسن میموریل اسکول پھلواری شریف پٹنہ کے سیکرٹری اور دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے سکریٹری تھے. مولانا سہیل احمد ندوی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش بگہی گاؤں کے ایک زمین دار اور متمول گھرانے میں 5؍ جون 1962ء کو ہوئی، آپ کے والد کا نام محمد شکیل ہے،اور آپ کے دادا وکیل حسین ہمیشہ قوم و ملت کی خدمت کے جذبے میں سرشار رہنے کی وجہ سے "سر سید ثانی” کے نام سے معروف تھے جبکہ آپ کے پَردادا شیخ عدالت حسین جالیا، مجاہد آزادی تھے اور اس زمانے میں گاندھی جی، امارت شرعیہ کے بانی حضرت مولانا ابوالمحا سن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ وغیرہ کے رفقاء میں تھے. مولانا سہیل احمد ندوی رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤ ں کے مکتب میں ہوئی، اس کے بعد حفظ قرآن کریم کے لئے اُس وقت بہار کا مشہور زمانہ مدرسہ، جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن میں داخل ہوئے اور وہیں سے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی اور دور مکمل کیا، 1976 میں مدرسہ اسلامیہ بتیا تشریف لائے اور عربی وفارسی کے ابتدائی درجات کی تعلیم حاصل کی، اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1979ء میں بہ صد شوق ایشیا کی مشہور دینی درسگاہ ازہر ہند دار العلوم دیوبند کا رخ کیا، اور دیوبند کی علمی فضا سے خود کو درجہ عربی ششم تک معطر کرتے رہے ، لیکن دارالعلوم دیوبند کے اجلاس صد سالہ کے بعد جب اسٹرائیک ہوا، اور حالات نہایت سنگین اور ناسازگار ہوئے اور پی اے سی کے ذریعے احاطۂ دار العلوم دیوبند کو طلبہ سے خالی کرایا گیا، تو آپ بھی وطن واپس لوٹ آئے۔ اس کے بعد حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمۃاللہ علیہ کے مشورے سے دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں درمیان سال سے ثانویہ رابعہ میں سماعت فرمائی، اور بعد والے سال باضابطہ درجہ عالیہ اولی میں داخلہ لیا، اور 1987ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے امتیازی نمبرات کے ساتھ فراغت حاصل کی. (وکیپیڈیا) دوران طالب علمی آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں جمعیۃ الاصلاح کے سکریٹری رہے، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے فراغت کے بعد حضرت مولانا سید نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ ( جو ان دنوں ناظم امارت شرعیہ تھے ) اور حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمۃاللہ علیہ، ان کو امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ لے آئے، اور امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمۃاللہ علیہ کے حکم سے ان کو دفتر نظامت میں امارت شرعیہ کے مبلغین کی کارروائی کو قابل اشاعت بنا کر ہفت روزہ نقیب میں شائع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ، پھر امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمۃاللہ علیہ ہی کے حکم سے تقریباً تین ماہ تک ہفتہ وار نقیب کے خصوصی کالم” اللہ کی باتیں اور رسول اللہ کی باتیں” میں آپ قارئین نقیب کے لئے قرآن و سنت کی روشنی میں قیمتی سرمایہ بکھیرتے رہے، وہاں آپ کی صلاحیت اور انتظامی امور میں سنجیدہ دلچسپی نے دفتر نظامت میں کارکن کی حیثیت سے بحالی کا راستہ ہموار کردیا ۔ چنانچہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں پہلے معاون ناظم کی حیثیت سے آپ کو دفتر میں جگہ ملی، پھر کچھ دنوں بعد نائب ناظم کے عہدے پر فائز کئے گئے، اس کے بعد امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ ٹرسٹ کے سکریٹری منتخب کئے گئے ، مفتی جنید صاحب ناظم دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کو وہاں ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر انہیں ہٹایا گیا، اس کے بعد امیر شریعت حضرت مولانا سید ولی رحمانی رحمۃاللہ علیہ کا نظر انتخاب آپ کی جانب ہوا اس نازک حالات میں آپ دارالعلوم الاسلامیہ کے ناظم بنائے گئے اور نہایت حسن و خوبی کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک اپنی ذمہ داریوں کے تقاضے کو پورا کرتے رہے. مولانا سہیل احمد ندوی کی ذاتی زندگی انتہائی سادگی بھری تھی، امارت شرعیہ کے بڑے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود عام خدام کی طرح اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے تھے، انہوں نے کبھی اپنے عہدے کا ناجائز رعب جمانے کی کوشش نہیں کی، امارت شرعیہ کے عروج وترقی اور اس کے استحکام وبقا کے سلسلہ میں آپ نے جوکردار ادا کیا وہ یقیناً فراموش نہیں کیا جائے گا، آپ امارت شرعیہ کو اپنی تمام تر توجہات کا مرکز بنالیا تھا، اور آخری لمحات تک اسی کی خدمت کے لئے خود کو وقف کردیا تھا، امارت شرعیہ سے محبت آپ کے رگ و پے میں بسی ہوئی تھی ، چنانچہ 32 سالہ طویل مدت یکسوئی کے ساتھ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی خدمت میں گزارنا اس کی بین دلیل ہے، اس طرح آپ نے 25؍جولائی 2023 مطابق 6 محرم الحرا م 1445بروز منگل کٹک سے 120 کلو میٹر دور بالو گاؤں مسجد میں ظہر کی سنت ادا کرتے ہوئے دوسری رکعت کے دوسرے سجدہ میں 1 بج کر 16 منٹ پر آخری سانس لی،انا للہ وانا الیہ راجعون.
آپ کےجنازہ کی ایک نماز بعد نماز عصر اسی بالو گاؤ ں مسجد کے صحن میں مولانا صبغت اللہ قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ کٹک نے پڑھائی ،دوسری نماز جنازہ بعد نماز مغرب ٹوٹی پاڑہ، اڈیشہ میں ادا کی گئی، تیسری نماز جنازہ 26 جولائی بوقت 12بج کر 15 منٹ پر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے احاطے میں قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی قاسمی نے پڑھائی، اس کے بعد جنازہ ان کے آبائی گاؤں بگہی،تھانہ دیوراج ،بلاک لوریا موجودہ ضلع مغربی چمپارن لے جایا گیا، اور آخری نماز جنازہ کی امامت حضرت مولانا شمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت نے کی، پھر آپ کے آبائی قبرستان میں ہزاروں سوگوار افراد کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی۔ ع آسماں تری لحد پہ شبنم افشانی کرے.
آپ کے انتقال پر ملک کی ملی، سیاسی و سماجی شخصیات نے اظہار تعزیت کیا اور مولانا مرحوم کے سانحۂ ارتحال کو ملت کا عظیم خسارہ قرار دیا ، امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ "امارت شرعیہ کے نائب ناظم، میری متحرک و فعال ٹیم کے ایک فرد مولانا سہیل احمد صاحب ندوی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ہم سب اس اندوہناک خبر پر ان کے اہل خانہ اور متعلقین کے ساتھ غم میں برابر کے شریک ہیں، اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعاء کرتے ہیں، مولانا امارت شرعیہ کے مخلص ذمہ داروں میں تھے اور امارت کے لیے مختلف جہتوں سے ان کی خدمات نمایاں طور پر دیکھی جاتی رہی ہیں،مولانا مرحوم امارت شرعیہ کے نائب ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے علاوہ امارت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل اور دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں اس کا بہترین بدلہ نصیب کرے۔” نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب نے کہا کہ” مولانا سہیل احمد ندوی دین و ملت کے سچے خادم تھے ، امارت شرعیہ ان کی رگ و ریشہ میں پیوست تھی ، آپ نے پوری زندگی امارت شرعیہ کے مختلف پلیٹ فارم سے قوم ملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی ، اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے عوض موت بھی قابل رشک عطا کی، جو یقینا ان کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے. "
مولانا سہیل ندوی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال پر تعزیت کرنے والوں میں حضرت مولانا سید شاہ آیت اللہ قادری سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ، لالو پرساد یادو قومی صدر راجد، تیجسوی پرساد یادو نائب وزیر اعلیٰ بہار، میسا بھارتی ایم پی ، اعجاز احمد راجد ، شیام رجک، مہتاب عالم ، جناب فہد رحمانی صاحب سی ای او رحمانی تھارٹی، جناب مولانا محمد عارف رحمانی ناظم جامعہ رحمانی مونگیر، جناب سید امانت حسین مجلس العلماء والخطباء امامیہ، جناب مولانا انیس الرحمن قاسمی نائب صدر آل انڈیا ملی کاؤنسل، مولانا رضوان احمد اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار، مولانا محمد عالم قاسمی جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کاونسل بہار، مولانا مشہو د احمد قادری ندوی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، احمد اشفاق کریم ایم پی راجیہ سبھا،مولانا ابو الکلام قاسمی شمسی سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، جناب ارشاد اللہ صاحب چیئر مین سنی وقف بورڈ بہار، ادے نارائن چودھری سابق اسپیکر بہار اسمبلی، جناب عبد الباری صدیقی سابق وزیر حکومت بہار، بھولا یادو سابق ایم ایل راجد، ایس ایم اشرف سابق چیئر مین صغریٰ وقف اسٹیٹ، تنویر حسن سابق ایم ایل سی، جناب شیث احمد صحافی وغیرہ کے نام شامل ہیں، الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امارت شرعیہ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے. آمین یا رب العالمین. موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے (محمود رامپوری) ***
