سمریاواں، سنت کبیر نگر (رپورٹ محمد رضوان ندوی) : تپہ اجیار کے مرکزی ادارہ مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں ملحقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں مہتمم مدرسہ مولانا منیر احمد ندوی کی صدارت اور صدر مدرس غفران احمد ندوی کی نظامت میں ایک اہم پروگرام بعنوان تکمیل حفظ قرآن منعقد ہوا جس میں مدرسہ کے طالب علم محمد عثمان بن مرحوم حافظ اسعداللہ دیوریا ناصر اور محمد آصف بن حافظ محمد عمران کرما خان نے اپنے استاذ قاری عظمت اللہ اور موقع پر موجود تمام حاضرین کے سامنے حفظ قرآن مکمل کیا،

مہمان خصوصی مولانا محمد شاھد قاسمی معتمد تعلیمات مدرسہ نور العلوم کرما خان سیکریٹری جمعیت علماء سنت کبیر نگر نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے یہاں قرآن اور حامل قرآن کا ایک اہم مقام ہے، قرآن ہماری زندگیوں کا سب سے عظیم سرمایہ ہے، یہ تقوی، طہارت، رضا الہی، کامیاب زندگی اور کامل بندگی کا ذریعہ ہے، اسی کی تعمیل و تابع داری میں اصلی کامیابی ہے، یہی وسیلہ نجات اور سند سرفرازی ہے. جس کو ترقی ملی اسی سے ملی، جس نے ناکامی کا منھ دیکھا اس کو عملی زندگی سے نکال کر ہی رسوائی کا منھ دیکھا، یہ بڑی عظیم انقلابی کتاب ہے، اس پر عمل کی موجودہ دور میں سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ آج دشمن میدان میں آکر للکار رہا ہے.

مولانا نے مزید قرآنی آیات کی روشنی میں قرآن کی اہمیت وفضیلت بتاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن اس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل کیا گیا ہم قرآن کے مقام ومرتبہ کو سمجھیں ،اس کی تلاوت کریں ،گھر گھر اس کے پیغامات کو عام کریں،

میر کارواں مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ قرآن زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے ،قران سب کیلئے ھدایت کی کتاب ہے ،قرآن نجات اور کامیابی کا ذریعہ ہے ،اللہ تعالی حافظ قرآن کو دنیا اور آخرت میں خصوصی امتیاز سے نوازے گا، اور وہ والدین جنہوں نے ان کے لیے دینی تعلیم کا انتخاب کیا وہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں، کل قیامت کے دن ان کے سروں پر نور کا تاج رکھا جائے گاجس سے پورا میدان محشر منور ہو گا، حفظ قرآن کے بعد ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے، اس کے مفہوم کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں یہ ایک کھلا معجزہ ہے، یہ ایسی دولت ہے جس میں اصلی کامیابی کا راز مضمر ہے ،مولانا ندوی نے مزید کہا کہ جن اساتذہ نے محنت کی وہ بھی قابل مبارک باد ہیں ،اللہ تعالی اس کا بہتر بدلہ آخرت میں دے گا

آپ اساتذہ کی قدر کریں والدین کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں جنہوں نے آپ کیلئے دینی تعلیمی کا انتخاب کیا ان کو آپ کے آخرت کی فکر ہے ،آپ کی دنیا وآخرت سنوارنا چاھتے ہیں، اس کے لئے آپ کو مدرسہ بھیجا اگر ان کا مقصد آپ سے دنیاوی فائدہ اٹھانا ہوتا تو آپ کیلئے مدرسہ کا انتخاب نہ کرتے،

اس موقع پر مولانا محمد ارشد قاسمی استاذ مدرسہ نور العلوم کرما خان ،حافظ حشم الدین ،قاری جلال احمد ،قاری محبوب عالم ،نوشاد احمد ،طالب علم کے دادا عبد الکلام ،قاری محمد ارشد قاسمی ،قاری عظمت اللہ ،مولانا ذکی احمد ندوی،مولانا انیس الرحمن ندوی،قاری ولی الدین ندوی ،قاری علاءالدین ،حافظ وسیم اختر ،ماسٹر جمیل احمد ،مولانا عبد الوہاب مظاہری کے علاوہ افراد خانہ ،اساتذہ اور طلباء خاص طور پر موجود رہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے