تحریر: ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

بخاری ومسلم کی ایک روایت میں، نبی کریم صلی اللہ نے جاہلانہ اوہام وخرافات اور نحوست وبدشگونی کے فاسد عقیدے پر قدغن لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: "لا عدوى، ولا طيرة، ولا هامة، ولا صفر” ( نہ وبائی امراض میں چھوت چھات، نہ بد شگونی، نہ الو اور صفر کی نحوست کی اصل وبنیاد ہے )-

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جاہلی عقائد کی بیخ کنی کی ہے جو عربوں کے درمیان زمانہ جاہلیت میں رائج تھے اور دوٹوک انداز میں فرما دیا ہے کہ دین اسلام میں ان کو ماننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے- اس حدیث کو سننے کے بعد ایک اعرابی (صحرائی زندگی بسر کرنے والا شخص) نے دل میں پیدا ہونے والے سوال کی بنیاد پر استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہوگیا کہ جب وہ ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں، پھر ان میں خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ نے اس پر فرمایا: "فمن أعدى الأول؟” (لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟)، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ سب کچھ اللہ کے تقدیری فیصلے کے تحت ہوتا ہے، کسی بھی بیماری میں بذات خود متعدی ہونے کی صلاحیت نہیں ہوتی- یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب اللہ تعالی اپنی حکمتوں کی بنا پر اسے چھوت والی بیماری بنادے-

اسی طرح جاہلی دور میں کسی جان دار یا غیر جان دار میں نحوست ماننے یا کسی چیز سے بد شگونی لینے کی عقیدے کو اس حدیث میں رد فرمایا اور خاص طور پر ان چیزوں کا ذکر بھی کردیا جن میں بدعقیدگی کے عرب شکار تھے- مثلا الو کو منحوس سمجھتے تھے کہ اگر گھر پر بیٹھ گیا تو سمجھتے تھے کہ ضرور کچھ برا ہونے والا ہے- کسی چڑیے کو اڑا کر بھی اپنے سفر یا کسی کام کی ابتدا کا فیصلہ کرتے تھے اور بطور خاص صفر کے مہینے سے نحوست کی نفی کرکے ان پر یہ واضح کردیا کہ تم لوگ تین محترم مہینوں ( ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم) کے احترام اور ان میں جنگ وجدال سے پرہیز کے بعد صفر کے مہینے میں پھر لوٹ مار شروع کر دیتے ہو اور اس بنا پر اس کو منحوس قرار دیتے ہو، یہ تمہارا خود ساختہ عمل وعقیدہ ہے، دین اسلام کسی بھی شخص، وقت، دن، جگہ یا کسی بھی چیز میں نحوست ماننے کی مطلق اجازت نہیں دیتا-

لہذا ابھی بھی اگر کسی مسلم معاشرے میں اس طرح کی بدعقیدگی پائی جاتی ہے اور دن، جگہ یا فرد میں نحوست سمجھ کر کسی عمل سے باز رہا جاتا ہے تو اس سے توبہ کیا جانا چاہیے اور اسلام کے صاف وشفاف عقیدے کے مطابق محض اللہ پر توکل کرکے، شادی بیاہ، سفر، تجارت یا کسی بھی پروجیکٹ کی شروعات کی جانی چاہیے-

اگر کسی چیز کی نحوست اثر انداز ہوتی ہے تو وہ محض اللہ کی نافرمانی اور گناہ کی نحوست ہے، اسی سے روح گندی ہوتی ہے، عمل داغ دار یا بے فیض قرار پاتا ہے اور بے برکتی مقدر بنتی ہے- الله کا فرمان ہے:”{وَنَفۡسࣲ وَمَا سَوَّىٰهَا (٧) فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا (٨) قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا (٩) وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا (١٠)} [سُورَةُ الشَّمۡسِ: ٧-١٠] ( قسم یے نفس کی اور اسے درست بنانے کی، پھر سمجھ دی اس کو بد کاری اور بچ کر نکلنے کی، جس نے اسے پاک کیا وہ کام یاب ہوا اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وہ ناکام ہوا)-

وما علينا إلا البلاغ.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے