محمد صالح انصاری
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ کیسا ہے؟ وہاں کے لوگ کیسے ہیں؟ ہمارا پڑوسی کس حال میں ہے؟ ہمارے بچے جس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں وہ کیسا ہے؟ وہاں کے اساتذہ کیسے ہیں؟ وہاں پڑھنے والے طلبہ کیسے ہیں اور اُن طلباء کے گھر والے عموماً کس فکر کے لوگ ہیں؟ طلباء آپسی مذاق مستی میں کس طرح کی باتیں کرتے ہیں؟ اُن کے آپسی بات چیت کے موضوع کیا ہوتے ہیں؟ مذاق کرتے ہوئے کیا وہ اخلاقی اصولوں کا خیال رکھتے ہیں، یا نہیں؟ درجہ میں پڑاھانے والے اساتذہ کا رویہ طلباء کے ساتھ کیسا ہوتا ہے؟ طلباء کے کام نہ پورا ہونے پر يا کسی غلطی پر وہ کس طرح سے طلباء کے ساتھ پیش آتے ہیں؟ طلباء کو سزا دینے کا طریقہ کیا ہے؟ بات بات میں ڈانٹتے ہوئے وہ کس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں؟
یہی باتیں طلباء کی زندگی میں بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے مستقبل کو متعین کرتی اور اس کے فکر کو پروان چڑھانے میں مدد کرتی ہیں۔ آپ کا لڑکا آگے جا کر کیسا ہوگا،کس رویہ کا ہوگا، کھیل کود اور اُن میں اس کے بات کرنے کا طریقہ، یہ ساری چیزیں طلباء یا تو گھر سے طربیت اور گھر کے ماحول سے یا اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ اور ہم جماعت ساتھیوں سے سیکھتے ہیں۔ ایسے میں ہمارا بچّہ جس ادارے میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کے بارے میں یہ ساری معلومات حاصل کرنا ہمارا اخلاقی فریضہ اور بحیثیت والدین ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ یہ بات ہمیں معلوم ہو کہ ہمارا بچّہ کہاں جا رہا ہے اور کیا بن کر آئے گا۔
یہ ساری بات میں اپ سے اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ اُتر پردیش میں ضلع مظفر نگر کے حادثے نے ان سب سوالوں پر ہمیں پھر سے غور و فکر کرنے پر مجبور کیا ہے ۔
اکثر ہمارے والدین اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنے کے لیے چھوٹے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کر جاتے ہیں۔ اس پر بھی بس نہیں ہوتا اور کم عمری میں انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں ڈھکیل دیتے ہیں۔ یا یوں کہیں کہ انہیں کوڑے کچڑے کی طرح پھینک اتے ہیں۔ ہم اس نقطے سے سوچنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں کہ جس ادارے میں اپنے نونہال کو بھیج رہے ہیں وہاں کے اساتذہ، ذمہ داران، ادارے کا ماحول کیسا ہے۔ اور جب وہاں سے وہ طالب علم تعلیم مکمل کر نکلے گا تو اس کا رویہ، اس کا طریقہ اس کا اخلاقی کردار کیسا ہوگا۔
جس طریقے سے ہم کوئی سامان خرید کرتے وقت اس بات کا مکمل خیال رکھتے ہیں کہ اُسکا مالک ایمان دار ہو، بے ایمانی کرنے والا نا ہو، یقین کرنے والا ہو، تاکہ سامان اگے چل کر خراب نا نکلے، اس کے بعد بھی سامان کی خوب اچھے سے جانچ پرکھ کر لیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طریقے سے ہم اپنے بچے کو جس تعلیمی ادارے میں داخلہ دلا رہے ہیں اس کے بارے میں پہلے ٹھیک ٹھیک معلومات کیوں نہیں حاصل کرتے۔
مظفر نگر کا حادثہ اس نویت کا صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ اس ملک کے الگ الگ حصے میں ہر دن ایسے ہزاروں واقعات پیش اتے ہیں۔ کچھ واقعات طلبہ اپنے تک محدود کر لے لیتے ہیں، کچھ اپنے گھر والوں سے اس کا ذکر کرتے ہیں ، کچھ گھر والے منع کر دیتے ہیں اور کچھ ایسے معاملے ہوتے ہیں جن میں دونوں طرف کے لوگ اپس میں سمجھوتہ کر لیتے ہیں جبکہ ایسے معاملات نہایت سنگین اور طلبہ کے ذہن پر برے اثرات مرتب کرنے والے ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں جب ملک کا سیاسی سماجی نظام اور خاص کر لوگوں کی طرز زندگی میں بڑی تبدیلیاں نمایاں ہو رہی ہیں۔ ہماری زمہ داری بہُت بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر قدم پر اسلامی رہنمائی کے بغیر چلنا اپنے مستقبل اور بچّو کو جلتی آگے میں دھکیلنے کی مانند ہے۔
حادثہ کے بعد لوگوں نے اساتذہ پرخوب تنقید کی۔ ملک کے بڑے بڑے حزب اختلاف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے حادثے کی مذمت کی اور ملزمہ کو گنہگار بتا کر اُسے برخاست کرنے کی بات کی۔ یہ بات حقیقت بھی ہے کہ ملزمہ کا گناہ قابل معافی بلکل بھی نہیں ہے۔ لیکن مجھے تو فکر اس بات کی ہے کہ اس طلباء کے ذہنی کیفیت کا اندازہ لگائیے جب وہ اس بات کو سوچے گا کہ کیسے والدین ہیں جنہوں نے ہمیں ایک ایسے آگ کے حوالے کر دیا جہاں ہمیں اتنی بڑی شرمندگی کا سامنا بنا کسی گناہ کے کرنا پڑا؟ کیا والدین کا گناہ قابلِ معافی ہے؟
اس لیے ہم اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کی فکر کریں۔ پہلے تو ہم انہیں گھر پر بہترین تربیت دیں، ایسی تربیت جو مثالی ہو۔ جب ہم انہیں تعلیمی اداروں کی طرف بھیجیں تو ان سب باتوں کا بے حد خیال کرتے ہوئے تعلیمی ادارے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ اطمینان ہونے کے بعد ہی اپنے بچے کو داخل کریں۔
مظفر نگر حادثے کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو لوگوں کے طرح طرح کے رد عمل ائے۔ کسی نے اساتذہ کو مجرم بتایا تو کسی نے اسے نفرت کا پجاری کہہ کر مخاطب کیا۔ لیکن ان سب کے بیچ کسی نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش تک نہیں کی۔ اخر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو لے کر والدین کی جو ذمہ داری ہے وہ کہاں تک مکمل کی گئی؟ کیا والدین نے ادارے کے بارے میں معلومات حاصل کی تھی؟کیا والدین نے اساتذہ کے بارے میں پتہ لگایا تھا؟ اس پورے معاملے میں ایک طرف جہاں تعلیمی ادارے کی خامی سامنے اتی ہے وہیں دوسری طرف سب سے بڑی خامی ہمارے معاشرے کے والدین کی اور ذمہ دار لوگوں کی نظر اتی ہے۔ جنہوں نے کبھی اس کے دوسرے پہلو پر غور ہی نہیں کیا اور نہ ہی کبھی اس طریقے کی باتوں پر سوچنے کی کوشش کی۔
اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مثالی معاشرے کے تکمیل کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکِن آج اس اسلام کے ماننے والوں نے صرف لعن طعن کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ افسوس اس معاشرے کے لوگوں پر کہ انہوں نے اپنی کمیوں پر بات کرنے کے بجائے صرف سامنے والے پر تنقید کرنا بہتر سمجھا۔ جبکہ بہتر تو یہ تھا کہ ہم خود اپنے گریبان میں جھانکتے اور اپنی کمیوں کی اصلاح کرنے کی فکر کرتے۔ تاکہ لوگ ہم سے سبق حاصل کر سکیں۔

