علاقے کی علمی دنیا سوگوار، جگہ جگہ ایصال ثواب، تعزیت اور دعاء مغفرت کا اہتمام
نانپارہ، بہرائچ (محمد رضوان ندوی): قصبہ نانپارہ کے بزرگ عالم دین اور ماہر حکیم مولانا محمد شاہد قاسمی کے انتقال سے علاقے کی دینی اور علمی فضا سوگوار ہو گئی، مرحوم نیک طبیعت کے ملنسار اور متواضع شخص تھے، علماء کے بڑے قدردان تھے، اکثر ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، نوجوانوں کی اصلاح کے لئے فکر مند رہتے، جہاں جیسے ممکن ہوتا اپنی ذات سے فائدہ پہونچانے کی کوشش کرتے، دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ابتدائی زمانے میں تعلیم و تدریس سے بڑی دلچسپی تھی، کچھ عرصہ تک مدرسہ مظہر العلوم کالونی نمبر 1نانپارہ میں تدریسی خدمات انجام دی، ادارہ کے بانی مولانا فہم الدین مرحوم سے بڑے گہرے مراسم تھے، ان کے کام و مشن میں ہمیشہ معاون رہتے تھے، ضرورت محسوس کرتے ہوئے روپئی ڈیہا میں ایک ادارہ کھولا اور وہاں بھی علاقے میں علم کے پھول کھلائے، معرفت کا اجالا پھیلایا، لمبی عمر پائی، پوری زندگی مفید کاموں میں مصروف رہے، آخر میں طب و حکمت سے بھی بڑی تعداد میں مخلوق خدا کی خدمت کی، اسی کو اپنا پیشہ اور ذریعہ معاش بنا لیا تھا لیکن اصل مشن خدمت خلق ہی تھا، مشہور نعت گو و نعت خواں مولانا امانت اللہ قاسمی نے بتایا کہ ابھی کل جامعہ نور العلوم بہرائچ کے مہتمم قاری زبیر احمدعیادت کے لئے قوی نگر میں موجود ان کے گھر تشریف لائے تو بیماری، کمزوری، پیرانہ سالی کے باوجود بڑی بشاشت کے ساتھ ملے، آج جب فجر کی نماز کے لئے تیار ہو رہے تھے، وضو سے فارغ ہو چکے تھے اچانک جسم پر لرزہ طاری ہو گیا، کہنے لگے شاید نماز نہیں مل پائے گی اور وہی ہوا، چند منٹ بعد روح پرواز کرتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے جا ملی، جامعہ مظہر العلوم کے مہتمم مولانا محمد الیاس قاسمی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کچھ دن پہلے ہاسپٹل میں زیر علاج تھے، اس دوران ان کی کچھ نمازیں قضا ہو گئی تھیں، بہت پریشان اور فکر مند رہتے تھے، کہتے تھے مجھے گھر لے چلو یہاں نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، آخر کار بضد ہو گئے اور گھر آکر پہلی فرصت میں اپنی قضا نمازوں کو ادا کیا، جب بھی ملتے تو دعاؤں سے نوازتے اور کہتے کہ آپ کا ادارہ آپسی اتحاد اور باہمی سچی ہمدردی، مسلسل محنت اور مجاہدہ کی وجہ سے بہت جلد ترقی کے مراحل طے کرے گا، حوصلہ افزائی کرتے اور مفید مشوروں سے رہنمائی فرماتے، مدرسہ بحرالعلوم انجمن اسلامیہ کے فعال استاذ مولانا محمد احمد انصار قاسمی نے مرحوم کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمی بہت محسوس ہوگی، وہ علاقے کے لئے سرمایہ افتخار تھے۔
مرحوم مولانا شاہد قاسمی کی تدفین و نماز جنازہ میں دور دور سے متعلقین، علماء کرام اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد شامل ہوئی، جنازہ کی نماز مرحوم کے داماد جامعہ نور العلوم بہرائچ کے معروف استاد قاری جواد عالم نے پڑھائی. تدفین میں شریک ہونے والے لوگوں میں مدرسہ کاشف العلوم کے مہتمم مولانا عبد القیوم قاسمی، مشہور داعی مولانا ظفر کمال مظاہری، قاری وحید الدین، قاری معراج احمد، مولانا صغیر عالم، مولانا محمد افضل ندوی، مولانا محمد رضوان ندوی، مولانا عقیل اختر قاسمی، قاری جنید احمد، اور قاری رئیس احمد وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں.
