ظفر احمد خان کبیر نگری
چھبرا، دھرم سنگھوا بازار ،سنت کبیر نگر ،یوپی
پانچ ستمبر کا دن ہمارے ملک میں ہندستان کے دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راڈھاکرشن کی یاد میں ٹیچرس ڈے یعنی یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ ان کا یوم پیدائش ہے، در اصل وہ ایک استاد رہ چکے ہیں، صدر جمہوریہ بننے کے بعد ان کے کچھ شاگردوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم لوگ آپ کا یوم پیدائش منانا چاہتے ہیں، یہ سن کر وہ خوش ہوئے اور ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر آپ لوگ میرا یوم پیدائش منانا چاہتے ہیں تو اسے یوم پیدائش نہیں یوم اساتذہ کے طور پر منائیں جس سے مجھے سالگِرہ منانے سے زیادہ خوشی ہوگی، اس دن کے بعد سے پورے ہندوستان میں ہر سال 5 ستمبر کو ٹیچرس ڈے کے طور پر منایا جانے لگا۔ اساتذہ کے تئیں ان کی یہ فکر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کو درس و تدریس سے کتنا لگاﺅ تھا ۔
یہ دن اساتذہ کرام کی قدر و منزلت اور ان کے مقام و مرتبہ کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات کے اعتراف کا دن ہے، نسل نو کی تعمیر و ترقی، دنیائے انسانیت کی نشو ونما ،معاشرے کی تعمیرو تشکیل اور فرد وبشر کی فلاح وبہبود میں ایک کامیاب معلم اور باکمال استاد کا جتنا بڑا مقام ہوتا ہے شاید کہ کوئی اس درجے کو پاسکے، ٹیچر یا استاد کا درجہ والدین جیسا ہوتا ہے، ماں باپ تو اولاد پیدا کرتے ہیں اور اساتذہ انہیں اپنی تربیت سے انسان بننے میں مدد دیتے ہیں، اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد، اعلمکم‘‘ (میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں، تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ اساتذہ بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پرکھتے ہوئے انہیں اُجاگر کرکے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے اور انہیں ان کی منزل تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم انسانیت اور استاد کل کے نام سے پکارا گیا کیونکہ استاد باپ کے درجے کے حامل اور عزت وشرف میں بہت ہی ممتاز ہوتے ہیں جنہیں قوم کا حقیقی رہنما اور نسل انسانی کا کامل پیشوا مانا جاتا ہے جس سے علم کا دریا بہتا ہے، عمدہ اخلاق کی فضا ہموار ہوتی ہے، امن وامان کا سایہ فگن ہوتا ہے،حقیقی زندگی کی تازگی اور کامیاب منزل کی نورانی نظر آتی ہے، استاد تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ایک بہترین قائد کا بھی کردار نبھاتا ہے، ہر اپنے شاگردوں کو ایسی تعلیم دینا چاہتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر وسیع النظر اور فراخدل بنیں، ان میں مستقل مزاجی، قوتِ ارادی اور خوداعتمادی کے جوہر پیدا ہوں، بلند اخلاق و کردار اور اعلی سیرت کے حامل ہوں، خوش قسمتی سے جن کو زندگی میں اچھے استاد مل جاتے ہیں انہیں کامیابی کی منازل طے کرنے میں بہت آسانی ہو جاتی ہے، کیونکہ اچھا معلم نہ صرف بچے کو نصابی کتب کی تعلیم دیتا ہے بلکہ وہ اپنی تخلیق اور مطالعہ کی وجہ سے بچوں میں نصاب کے علاوہ بہت ساری مہارتیں پیدا کرتا ہے، وہ اس کی روحانی، نفسیاتی، اخلاقی، معاشرتی بلکہ ہمہ پہلو تربیت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک ننھے بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہونِ منت ہے، معصوم بچوں کا دماغ سفید کاغذ کی طرح ہوتا ہے، استاذ اس میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں، ایک استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا دیتا ہے، ایک استاد وزیر اور حکمران نہیں ہوتا مگر وزیر اور حکمران بنا دیتا ہے۔
استاد اور شاگرد کے درمیان خلوص و محبت، جذبہ ایثار اور انتہائی ادب و احترام بہت ہی ضروری ہے، تاریخ کے اوراق میں طلبہ کی اپنے اساتذہ سے محبت کی مثالیں جابجا ملتی ہیں، اور ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں استاد نے والدین سے بڑھ کر قربانیاں دے کر شاگرد کی زندگی سنوارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، گذشتہ دنوں شاگرد اور استاذ کی محبت سے متعلق ایک ویڈیو بہت وائرل ہوا جس کے مطابق دوران پرواز ترکش ایرویز کے ایک پائلٹ کو جب معلوم ہوا کہ اسی پرواز میں ان کے استاد بھی سفر کر رہے ہیں تو انہوں نے اپنے استاد کا شکریہ ادا کرنے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے جہاز کے عملے کو گلدستہ دے کر استاد کی نشست پر بھیجا اور خود مائیک پر ان کو مخاطب کر کے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی اپنی کامیابی کا سارا کریڈٹ بھی استاد کو دیا، آخر میں پائلٹ خود بھی اپنے استاد کے پاس آئے اور ان سے محبت کا اظہار کیا۔ اسی طرح استاذ کے احترام کے متعلق خلیفہ ہارون رشید کے دو بچوں کا واقعہ بہت مشہور ہے، خلیفہ ہارون رشید کے دو صاحبزادے امام نسائی کے پاس زیرِ تعلیم تھے، ایک بار استاد کے جانے کا وقت آیا تو دونوں شاگرد انہیں جوتے پیش کرنے کے لیے دوڑے، دونوں ہی استاد کے آگے جوتے پیش کرنا چاہتے تھے، یوں دونوں بھائیوں میں کافی دیر تک تکرار جاری رہی اور بالآخر دونوں نے ایک ایک جوتا استاد کے آگے پیش کیا۔ خلیفہ ہارون رشید کو اِس واقعے کی خبر پہنچی تو بصد احترام امام نسائی کو دربار میں بلایا۔ ہارون رشید نے امام نسائی سے سوال پوچھا کہ، "استادِ محترم، آپ کے خیال میں فی الوقت سب سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہے؟” ہارون رشید کے سوال پر امام نسائی قدرے چونکے، پھر محتاط انداز میں جواب دیا، "میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ احترام کے لائق خلیفہ وقت ہیں۔” خلیفۂ ہارون کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ اتری اور کہا کہ، "ہرگز نہیں استادِ محترم، سب سے زیادہ عزت کے لائق وہ استاد ہے جس کے جوتے اٹھانے کے لیے خلیفۂ وقت کے بیٹے آپس میں جھگڑیں۔” استاذ کا ادب و احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے، حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ’’میں ہر نماز کے بعد اپنے استاد اور اپنے والد کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں, میں نے کبھی بھی اپنے استادِ محترم کے گھر کی طرف اپنے پائوں دراز نہیں کیے، حالاں کہ میرے گھر اور ان کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ ہے, میرا معمول ہے کہ میں ہر اس شخص کے لیے دعائے استغفار کرتا ہوں، جس سے میں نے کچھ سیکھا یا جس نے مجھے علم پڑھایا اور سکھایا۔‘‘ امام ابویوسفؒ فرماتے ہیں کہ ’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نماز پڑھی ہو اور اپنے استاد، امام ابو حنیفہؒ کے لیے دعا نہ مانگی ہو۔‘‘ سکندر ایک مرتبہ اپنے استاد ار سطو کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہے تھے ۔را ستے میں ایک بڑا برساتی نالہ آ گیا ۔استاد اور شا گرد میں بحث شروع ہوئی کہ نالہ پہلے کون پار کرے گا ۔سکندر اعظم نے بضد ہو کر نالہ عبور کیا اور بعد میں ار سطو نے سوال کیا کہ تم نے پہل کر کے میری بے عز تی نہیں کی ؟اس پر انہو ں نے جواب دیا ، ” نہیں استاد محترم ! میں نے اپنا فر ض ادا کیا ہے ۔ارسطو رہے گا تو ہزاروںسکندر تیار ہو سکتے ہیںلیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کر سکتا ۔“ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اساتذہ کا ادب و احترام کریں، ان کے ساتھ عزت، عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں، ان کا کہنا مانیں اور جو تعلیم وہ دیں اس پر عمل کریں، استاد روحانی باپ ہوتا ہے، اس کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے جتنا ایک باپ کا اولاد پر، ماں باپ اگر اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ بنتے ہیں، تو استاد اسے اچھی اور باعزت زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، اسے علم کے زیور سے آراستہ کرکے اس کی اخلاقی تربیت کرتا ہے، اس کی شخصیت سازی و کرداری سازی میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے، یعنی پتھر کو تراش کر ہیرا بناتا ہے، تاکہ وہ معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکے۔ جس طرح والدین کے احسانات کا بدلہ نہیں چکایا جاسکتا، اسی طرح استاد کے احسانات کا بدلہ بھی نہیں اتارا جاسکتا۔ استاد کی عیب جوئی، ان کی غیبت یا بہتان تراشی سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنا، ان کے کپڑوں اور ان کی غربت کی وجہ سے ان کا مذاق نہیں اڑاناچاہیے، مالی اعتبار سے کمزوری استاد کی معاشی ضروریات و حاجات میں تعاون اور استاد کی خدمت کو سعادت مندی تصور کرنا چاہیے، ذوقِ علم کی تسکین اور حصول کے لیے محنت و مشقّت اٹھا کر دوردراز کا سفر کرکے استاد کے پاس جانا پڑے تو ضرور جائیں، استاد خواہ مسلم ہو یا غیرمسلم، طلبہ کے بہترین حسنِ سلوک کا مستحق ہے، غرض یہ کہ استاد، علم کا سرچشمہ، معلم و مربّی، علم کے فروغ کا ذریعہ اور اللہ کا بہت بڑا انعام و احسان ہے۔
موجودہ مادہ پرستی کے دور میں جہاں ہر چیز کی قدر و منزلت اور روایات و اقدار رو بہ زوال ہیں اور گھٹتی ہی چلی جا رہی ہےوہیں استاد جیسی محترم اور عظیم الشان ہستی کی بھی عظمت و اہمیت اور ان کے تئیں احترام کے جذبات میں نمایاں کمی محسوس کی جا رہی ہے، بد قسمتی سے آج اساتذہ اور طلبہ کے درمیان محبت و احترام کا جذبہ موجود نہیں، آج طلبہ اپنے اساتذہ کی نقل و حرکت، نشست و برخاست اور عادات و اطوار کو اپنانے اور ان سے محبت کرنے کی بجائے ان کو ایسی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ ان کے حریف اور فریق ہوں، تعلیمی اداروں اور درس گاہوں میں استاد کا ادب و احترام مفقود نظر آتا ہے، جو کچھ ہے وہ درس گاہ کی چاردیواری کے باہر نظر نہیں آتا ہے۔ اس کا سبب یکطرفہ نہیں بلکہ دونوں طرف سے کمزوریاں ہیں طالب علم اور استاد دونوں کہیں نہ کہیں اپنے حقوق و فرائض اور ذمہ داریوں میں تساہلی برتر ہے ہیں جس کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے، اُستاد اور شاگرد دونوں کی اپنی اپنی جگہ جدا گانہ ذمہ داریاں ہیں۔ اُنہیں پورا کرنا ہر دو جانب کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن پورا کیا جائے تو پھر تعلیم بلاشبہ ضامنِ ترقی ہوتی اور فوزوفلاح کے برگ و بار لاتی ہے، اس سلسلے میں اساتذہ کو طلبا کی صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس سے کہیں زیادہ والدین، سرپرست اور ادارے کے سربراہان کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ قوم کے نونہالوں کو اساتذہ کے مقام و مرتبے سے آگاہ کریں۔
ان سب امور کے ساتھ ساتھ آج اساتذہ کے لئے غور کرنے کا دن ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو احسن طور پر سر انجام دے رہے ہیں یا نہیں، وہ اپنے طلباء کی صحیح سمت میں رہنمائی کررہے ہیں یا اپنی خدمات کو محض ایک ڈیوٹی سمجھ کر انجام دے رہے ہیں، کیونکہ ایک استاد کے لئے طلباء کی تربیت،انہیں صحیح راستہ دکھانا، زندگی کے نشیب و فراز سے آشنا کرنا، مشکلات سے نمٹنے کا سلیقہ سکھانا، آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا اور معاشی و اقتصادی ترقی کے لئے ہنر مندی کی اہلیت پیدا کرنا، بطور استاذ اہم ترین ذمہ داری ہوتی ہے، اس معاملے میں استاذ کو غفلت بالکل نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ استاد کی غفلت ،عدم توجہ ، بے پرواہی اور منفی رویوں کی وجہ سے طلبہ باغی ہوجاتے ہیں اور استاد کو ناپسند کرنے لگتے ہیں ۔استاد کو نا پسند کرنے کی وجہ سے ان کے پڑھائے جانے والے اسباق کو بھی وہ خاطر میں نہیں لاتے ہیں، ایک استاذ کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس نے مکمل علم حاصل کر لیا ہے اور اب اس کو کچھ بھی سیکھنے یا پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ اس کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے، یہ سوچ اسے کبھی اچھا استاد نہیں بننے دے گی اور نہ ہی اس کی تدریس کا طریقہ مؤثر ثابت ہو گا، ایسا شخص صحیح معنوں میں طلبا کو علم حاصل کرنے کی طرف راغب نہیں کر سکتا۔
اساتذہ کو ایمانداری اور خلوص نیت سے اپنے فرائض سرانجام دینا چاہیے، غفلت سستی اور کاہلی سے نہ صرف خود اجتناب کرنا چاہیے بلکہ ایسا کرنے والے اساتذہ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، أستاذ کا ظاہر و باطن یکساں ہونا چاہئے۔ غیر ضروری طور پر خود کو نمایاں کرنا بھی کوئی پسندیدہ چیز نہیں۔ وہ اعلی سیرت و کردار کا مالک ہو اس میں احساس ذمہ داری بدرجہ اتم موجود ہو، ساتھ ہی وہ فرض شناس، اپنے کام کو محنت سرگرمی اور لگن سے انجام دے، اسے اپنے اصول و ضوابط کی سختی سے پابندی کا بھی خیال ہو، ساتھ ہی وہ غیر جانب دار بھی ہو، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ طلبا کی مشکلات کو جانے اور اس کو دور کرنے کی اس میں صلاحیت ہو۔ اس کا رویہ ہمدررانہ اور مشفقانہ ہونا چاہیے، اس کے مزاج میں چڑچڑا پن نہ ہو بلکہ ضبط و تحمل کے ساتھ کوئی بات سنے اور خندہ پیشانی کے ساتھ طلبا سے تعاون کر سکے۔
آج مغربی ممالک بہت ہی برق رفتاری سے ترقی کے منازل طے کررہے ہیں کیونکہ انہوں نے خلوص نیت اور ایمانداری کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے، وقت آگیا ہے کہ ہمارے اساتذہ بھی اپنے فرائض کا احساس کرتے ہوئے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں.
