سید عزیز الرحمٰن
ہم نے جب سے اس دنیا میں آنکھیں کھولی ہیں سیکھنے کا سلسلہ جاری ہے ، ہر انسان کا اصل معلم اللہ ہے جس نے تخلیقی طور پر آدم وبنی آدم کو بہت کچھ سکھا دیا ہے ، اللہ نے فقط بنی آدم کو نہیں بلکہ ہرشٸی کو خلق کرنے کے بعد اس کو ضروری علوم سے نوازا ہے چنانچہ قرآن میں ہے ”اعطیٰ کلّ شٸی ٍٕ خلقَہ ثم ھَدٰی“ انسانوں کے پاس جو کچھ علوم کے خزانے ہیں وہ اسی بارگاہ ِعلیم وخبیر سے ہی حاصل ہوۓ ہیں، عمومی طور پر جو اللہ نے انسانوں کو علم دیا ہے وہ اشیاء کے اسماء کا علم ہے ان کی مزیات و خصوصیات کا علم ہے ان کے نافع و ضار ہونے کا علم ہے، ان چیزوں کے برتنے، استعمال کرنے کے طریقے بھی اس علم میں شامل ہیں نیز ان چیزوں کو ایک مخصوص مدت تک محفوظ اور قابلِ استعمال بناۓ رکھنے کا علم وغیرہ شامل ہے، پھر اللہ نے انسان کو عقل وفہم کی ایسی وسیع و عمیق صلاحیت عطا فرمائی ہے جس سے کام لیتے ہوۓ اس وقت انسان نے بہت کچھ ترقی کرلی ہے مثلا سیکڑوں ہزاروں کلو میٹر کا سفر بلامشقت فقط چار پانچ گھنٹے میں مکمل کرلیتاہے،انسان نے اسی خداداد صلاحیت کی بنیاد پر چاند تک رساٸی حاصل کرلی ہے، زمین کے اندر ودیعت کردہ خزانے کو بھی حاصل کرلیا اور اس سے متمتع ہورہا ہے۔
اس دنیا میں جو بھی علوم وفنون راٸج ہیں انہیں انسان اپنے والدین سے بڑے بزرگوں سے اپنے اساتذہ سے سیکھتا ہے ان سب کا مرجعِ حقیقی اور مصدر اللہ ہی ہے ،ہدایتِ عامہ کے علاوہ ایک خصوصی علم ہے جس کو علمِ وحی کہا جاتا ہے جس کی بدولت انسان حقیقی ہدایت حاصل کرتاہے اور صراطِ مستقیم پر قاٸم رہتا ہے اس حقیقی ہدایت کے لیے اس کا راستہ دکھانے کے لیے اللہ انبیاء ورسل کا انتخاب کرتا ہے اور انہیں بہت کچھ علوم وحِکَم عطا فرما کر اپنے بندوں میں مبعوث فرماتا ہے اگرچہ انبیآ ٕ ورسل علم کا بحرِ ذخار ہوتے ہیں ان کو جو کچھ دیا جاتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے دیا جاتا ہے، مگر علمِ خداوندی کے مقابل ان کا علم اور تمام بنی ٕ نوعِ انسانی کا علم قلیل یعنی تھوڑا ہی ہے ،گویا اللہ کی ذات ہی علوم وحِکَم اور تمام فنون کا مصدرِ اصلی ہے اور باقی سب منابع اور سرچشمے ہیں ہیں ۔پھروہ علوم چونکہ انبیآ ٕ ورسل کے ذریعے دیگر انسانوں کو پہنچتے ہیں اس لیے ان علوم میں تمام انسانوں کے معلمین انبیآ ٕ ورسل قرار پاۓ گیے ہیں چنانچہ سیدالرسل خاتم الانبیآ ٕ صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا ”ادَّبَنی ربی فاحسن تادیبی“ ”انما بُعِثت معلِّماً“ کہ مجھے میرے پروردگار نے ادب سکھلایا تو اس نے بہترین ادب سکھلایا اور یہ کہ میں (انسانوں کے لیے) معلم بناکر بھیجا گیا ہوں ۔ خواہ علم وحی ہو یا دیگر علوم وفنون یہ ہمیں اپنے بزرگوں ، پیش رو لوگوں، اساتذہ کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں اس لیے اللہ اور بندوں کے درمیان جو بھی واسطے ہوتے ہیں خواہ وہ انبیآ ٕ مکرمین کے ہوں یا دیگر سلف کے ہوں یا والدین کے ہوں وہ سب ہمارے اساتذہ قرار پاتے ہیں کیوں کہ ہم نے انہیں کے توسط سے بہت کچھ سیکھا ہوتا ہے ، انہیں کے ذریعے زندگی جینے کا طریقہ و سلیقہ ہماری زندگی میں آتا ہے اس لیے ان کا بھی ہم پر بڑا احسان ہوتا ہے ان کے بھی پر حقوق ہوتے ہیں ۔
اساتذہ کون ہیں؟
دنیاکے تمام عہدوں میں سب سے بڑا عہدہ استاذ اور ٹیچر کا ہوتا ہے اساتذہ کی خدمات اپنے طلبہ کے لیے بےلوث ہوتی ہیں ، دنیا کی ہر کمپنی اور فیکٹری ، ہر محکمہ اور ڈپارٹ میں کام کرنے والا فرد کسی نہ کسی استاذ کے زیرِسایہ رہ کر ضروری چیزیں سیکھ کر گیا ہوتا ہے، پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلی میں بیٹھ کر قانون بنانے والے ،ایم ایل ایز،ایم پیز، وزراء ٕ اعلیٰ وزیرِ اعظم کسی ملک کا صدر سب ہی کسی نہ کسی استاذ کے سامنے پہلے اپنے زانوۓ تلمذ تہہ کرتے ہیں یہی نہیں بڑے بڑے آفیسران ،عہدیداران کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی اساتذہ اور ٹیچرس کی ضرورت ہوتی ہے، حاکم ہویا محکوم سب کو ہی استاذ کی ضرورت پڑتی ہے ”استاذ ہونا دنیا کا سب عظیم درجہ ہے تعلیم دینا سب سے اہم مشغلہ ہےاسے کبھی معاش سے جوڑ کر دیکھنا درست نہیں ہے“۔ استاذ کی کوٸی قیمت کبھی ادا نہیں کی جاسکتی ہے استاذ کے بارے میں جناب علی المرتضیٰ ؓ کا جملہ بہت ہی اہم ہے جس سے استاذ کی قدر کا پتہ چلتاہے کہ ”جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں وہ چاہے تو مجھے فروخت کردے وہ چاہے تو مجھے آزاد کردے وہ چاہے تو مجھے غلام بنا کر رکھے“۔
اساتذہ کی مثال اس کسان سے دی جاسکتی ہے جو سخت زمین کو اپنٕی کوشش اور جدوجہد سے نرم،ہموار اور قابلِ کاشت بنادیتا ہے، استاذ کی مثال اس سنار سے بھی دی جاسکتی ہے جو سونے کے ڈلے کو اپنی محنت اور کد و کاوش سے بہترین ،گراں مایہ زیورات میں تبدیل کردیتا ہے، استاذ کی مثال اس لوہار اور نجّار سے بھی دی جاسکتی ہے جو جانفشانی اور عرق ریزی کے ذریعے لوہے اور لکڑی کو قابل استعمال اشیآ ٕ میں تبدیل کردیتا ہے جس سے بازار میں اس کی ایک اچھی خاصی قیمت ہوجاتی ہے، استاذ کی حیثیت ایک معمار کی سی ہے جوبہت سے بکھرے ہوۓ اجزاۓ تعمیری کو ایک مکمل عمارت کی شکل دیتا ہے۔
یقینا کسی بھی قابل اور لاٸق شخصیت کے پیچھے کوئی نہ کوٸی استاذ ہوتا ہے جو ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کررہا ہوتا ہے۔آج جس اسلوب اور انداز میں ہم گفتگو کر رہے ہیں یا اپنی تحریروں کو قلمبند کر رہے ہیں یہ ہمارے اساتذہ کی محنتوں اور ان کی ہدایات کی بنیاد پر ممکن ہوسکا ہے ،اگر ہماری صلاحیتوں کو نکھارنے میں ہمارے اساتذہ کا کردار نہ ہوتا ان کی تنبیہات نہ ہوتیں تو ہم اپنے علمی سفر میں کبھی اپنی منزلِ مقصود تک نہ پہنچتے اس لیے ہمیں تاعمر اپنے اساتذہ کو یاد رکھنا چاہیے، ان کے احسانات کو نہیں بھولنا چاہیے وقتا فوقتا ان کی خیر خیریت لیتے رہنا چاہیے، ان کی ضروریات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اگر وہ دنیامیں نہیں رہے تو ان کے لیے اپنے والدین ہی کی طرح دعائیں کرتے رہنا چاہیے اور اساتذہ کے ادب کے ساتھ اساتذہ کے بچوں اور ان کے والدین کا بھی ادب و احترام کرنا چاہیے۔یقینا دنیا میں جتنے بھی اساتذہ ہیں سب خراجِ عقیدت اور مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
sayyedazeezurrahman@gmail.com
